🇵🇰 پاکستان میں اقتدار کی غیر فطری ترتیب: ایک تنقیدی مشاہدہ
دنیا کے اکثر مہذب ممالک میں ریاستی نظم و نسق اور سفارتی پروٹوکول کا ایک بنیادی اصول ہے کہ ہر عہدہ دار صرف اپنے ہم منصب سے سرکاری ملاقات کرتا ہے — یعنی صدر کا صدر سے، وزیرِاعظم کا وزیرِاعظم سے، اور فوجی سربراہ کا کسی دفاعی یا عسکری ہم منصب سے۔ لیکن پاکستان میں یہ روایت اکثر و بیشتر پامال کی جاتی ہے۔ یہاں ریاستی طاقت کا مرکز عوامی نمائندوں، پارلیمنٹ یا آئینی صدر کی بجائے، چند عسکری شخصیات کے ہاتھ میں دکھائی دیتا ہے — گویا جمہوریت محض ایک رسمی لبادہ ہے، اور فیصلے پردے کے پیچھے کہیں اور ہوتے ہیں۔
حالیہ مثال امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس میں دعوت دے کر ملاقات کرنا ہے — جب کہ نہ تو پاکستانی صدر، اور نہ ہی وزیرِاعظم کو اس سطح پر کوئی اہمیت دی گئی۔ یہ محض سفارتی واقعہ نہیں، بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور حکومتی ڈھانچے میں فوج کی بالادستی کا عملی اظہار ہے۔ ایسے مناظر دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ پاکستان میں اصل طاقت کا مرکز آئین نہیں، بلکہ وردی ہے — اور یہی تاثر پاکستان کے وقار اور استحکام دونوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔
یہی غیر متوازن اختیارات کا نظام ہے جو پاکستان کو اکثر اندرونی انتشار کا شکار بناتا ہے۔ کبھی عدلیہ سے تصادم، کبھی مقننہ سے محاذ آرائی، اور کبھی سول حکومت کو پس منظر میں دھکیلنے کی روش — سب اسی مزاج کی پیداوار ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ موقع ملتے ہی یہی عسکری قیادت آمریت کا لبادہ اوڑھ لیتی ہے، اور یوں ریاستی ادارے باہم ٹکرا کر کمزور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ درحقیقت، یہی روش پاکستان کی بدنصیبی کا مستقل عنوان بن چکی ہے — ایک ایسی حقیقت جسے نہ چھپایا جا سکتا ہے، نہ جھٹلایا جا سکتا ہے۔
یہ تبصرہ کسی ملک، قوم یا ادارے کی مخالفت نہیں، بلکہ ایک اصولی نکتہ نظر ہے — جو دنیا کے ہر جمہوری مزاج رکھنے والے شہری کو اپنانا چاہیے۔
ہم بھارتی شہری کی حیثیت سے اچھی طرح محسوس کرتے ہیں کہ جمہوریت کا حسن اسی میں ہے کہ عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ اور فوج — سب اپنی آئینی حدود میں رہیں۔ اگر کسی ایک ادارے کو بے لگام اختیار دے دیا جائے، تو جمہوریت کا توازن بگڑ جاتا ہے — اور قومیں شخصیات کے سہارے کمزور، جب کہ اداروں کے ذریعے مضبوط بنتی ہیں۔
یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں — آج خود ہمارے ملک میں بھی عدلیہ میں حکومتی مداخلت، میڈیا کی جانبداری، اور اختلافِ رائے کو کچلنے کی روش ایک سنجیدہ چیلنج بن چکی ہے۔ لہٰذا، اس تجزیے کا مقصد محض تنقید نہیں، بلکہ ایک مشترکہ فکری بیداری پیدا کرنا ہے — تاکہ ہم سب اپنی اپنی ریاستوں کو انصاف، شفافیت اور عوامی طاقت کی حقیقی علامت بنا سکیں۔
قاری ممتاز احمد جامعی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔