مدارس پر تنقید: دانشوروں کے تعصب کی زہرآلود داستان
عجب و غریب صورتِ حال ہے!
آج کل ہمارے اہلِ دانش کا ایک مخصوص طبقہ "خلقیہ" کی تلاش کے بہانے، صدف کی مہک کو محسوس کرنے سے پہلے ہی، اس کے خلاف اعلانِ جنگ میں مصروف ہے۔ ایسی بے صبری اور جھنجھلاہٹ کہ گویا مدارس اور اہلِ مدارس ہی اس امت کے تمام زوالات کا سرچشمہ ہوں۔
حیرت ہے کہ یہ وہی امت ہے جس کا ۷۵ فیصد حصہ قبل و بعدِ آزادی مدارس اور ان کے وابستگان کو اپنے دین و ایمان کی بقا کے لیے استعمال کرتا رہا ہے—اپنے بچوں کے کان میں اذان کہلوانی ہو یا والدین کے جنازے کی نماز، نکاح کا معاملہ ہو یا ایصالِ ثواب کی مجالس—ہر موقع پر مدرسے والا ہی یاد آتا ہے۔
اور جب وہی مدرسے والا علمی اداروں میں جائے، معاشرے میں اپنی فکری نمائندگی کرے، تو یہی دانشور طبقہ اسے "نوکری کی لالچ میں آیا ہوا جاہل ملّا" کہنے لگتا ہے! کیا یہ تضاد نہیں؟ کیا یہ ناانصافی نہیں؟
ان حضرات کو شاید اندازہ نہیں کہ آج بھی امت مسلمہ کے صرف ۲۵ فیصد افراد ہی مدارس و مکاتب سے حقیقی وابستگی رکھتے ہیں۔ باقی ۷۵ فیصد کا اصل میدان خود وہ اسکول، کالج، یونیورسٹیاں، این جی اوز، اور ادارے ہیں جہاں یہ تمام "دانشور" خود موجود ہیں۔ کیا انہوں نے کبھی وہاں کی اصلاح کے لیے ایسا شدید غصہ، ایسی زہریلی تنقید، اور ایسا سماجی بائیکاٹ کیا؟
نہیں! کیونکہ وہاں نوکری خطرے میں پڑتی ہے، ترقی رک جاتی ہے، فنڈنگ بند ہو جاتی ہے۔
مدارس پر تنقید ایک آسان نشانہ ہے، بے ضرر سا ہدف، جس پر تیر چلا کر خود کو جرأت مند اور بااصول ظاہر کیا جا سکتا ہے، حالانکہ اس میں نہ اصول بچتے ہیں نہ جرأت۔
مدارس نے، ہر دور میں، امت کی روحانی و فکری پیاس بجھائی ہے۔ وہ صرف اذان، نماز اور نکاح تک محدود نہیں رہے، بلکہ انہوں نے ایسے رجال پیدا کیے جنہوں نے ملک کی تحریکِ آزادی سے لے کر اسلامی تشخص کی بقا تک، ہر محاذ پر قربانیاں دیں۔ اور آج بھی وہی مدارس، دین کا قلعہ بنے کھڑے ہیں، محدود وسائل، ہزاروں رکاوٹوں اور ہر قسم کی الزام تراشی کے باوجود۔
ہم مانتے ہیں کہ مدارس میں بھی اصلاح کی ضرورت ہے، اور اہلِ مدارس خود اس کا شعور رکھتے ہیں۔ ہم نے بھی ان کی اصلاح کے لیے صدائے حق بلند کی ہے۔ لیکن یہ تنقید، تنقیص اور تحقیر کی صورت اختیار کرے، تو وہ علم نہیں، انتقام بن جاتی ہے۔
آخر میں، ہم ان "دانشوروں" اور "پروفیسر صاحبان" سے ادباً گزارش کرتے ہیں کہ روزی روٹی کا وعدہ ربِ کائنات نے کر رکھا ہے، تو اپنی علمی بصیرت کو اہلِ مدارس پر تیزاب پھینکنے میں ضائع نہ کریں۔ اس امت کی اجتماعی فلاح، اتحاد، اور ترقی میں اپنی توانائیاں صرف کریں تاکہ عنداللہ مقبول بنیں، نہ کہ صرف عندالناس مودی و یوگی کے ایجنڈے پر تالیاں بجوانے والے "ملعون" بن کر رہ جائیں۔
قاری ممتاز احمد جامعی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔