لکھنوی تہذیب، انتخاب اور صحتِ شہر — ایک ادبی کالم
لکھنؤ محض ایک شہر نہیں، ایک مزاج ہے؛ گفتگو میں نزاکت، اختلاف میں شائستگی، اور طنز میں شکر گھلا ہوا تبسم۔ یہاں سیاست بھی اگر بولتی ہے تو تہذیب کی زبان میں، اور فیصلہ بھی اگر ہوتا ہے تو لطافت کے آئینے میں۔ اسی لکھنوی مزاج کی ایک دلکش، معنی خیز اور فکر انگیز حکایت انتخابی تاریخ کے اوراق میں آج بھی زندہ ہے۔
کہا جاتا ہے کہ جب لکھنؤ میں پہلی مرتبہ میونسپلٹی کے انتخابات ہوئے تو چوڪ کی گلیاں ایک عجیب سی سرگوشی سے بھر گئیں۔ نام تھا دلرُبا جان — اپنے عہد کی معروف تواِئف، محفلوں کی رونق، ناز و ادا کی پہچان، اور شہر کے ذوقِ جمال کی نمائندہ۔ ان کی مقبولیت ایسی کہ کوئی ان کے مقابل آنے کا حوصلہ نہ کرتا تھا۔
انہی دنوں چوڪ میں ایک اور نام پورے احترام سے لیا جاتا تھا: حکیم شمس الدین صاحب۔ دَواخانہ بھی، شہرت بھی، اور مریضوں کا ہجوم بھی۔ دوستوں نے — جو دوستی میں اکثر حد سے بڑھ جاتے ہیں — زبردستی حکیم صاحب کو انتخابی میدان میں اتار دیا۔
مقابلہ بظاہر ناہموار تھا۔ دلرُبا جان کا انتخابی ماحول شباب پر تھا؛ ہر شام محفل، ہر رات رقص، ہر طرف ہجوم۔ ادھر حکیم صاحب کے پاس نہ ساز تھے نہ سر — بس چند دوست اور ایک دکھی دل۔ حکیم صاحب نے خفگی میں کہا:
“تم لوگوں نے تو مجھے پٹوا ہی دیا، اب ہار مقدر ہے!”
دوست مگر لکھنوی ذہانت کے وارث تھے۔ انہوں نے ایک ایسا نعرہ تراشا جس میں شہر کی نفسیات بھی تھی اور طنز کی مٹھاس بھی:
“ہے ہدایت چوڪ کے ہر ووٹرِ شوقین کو،
دل دیجیے دلرُبا کو، ووٹ شمس الدین کو!”
یہ سن کر دلرُبا جان نے بھی جواب میں اپنی نزاکت سے گھلا ہوا نعرہ پیش کیا:
“ہے ہدایت چوڪ کے ہر ووٹرِ شوقین کو،
ووٹ دیجیے دلرُبا کو، نبض شمس الدین کو!”
یوں انتخابی معرکہ صرف ووٹوں کا نہ رہا، ذہنوں اور دلوں کا امتحان بن گیا۔
نتیجہ آیا — اور عین لکھنوی مزاج کے مطابق آیا۔ حکیم شمس الدین صاحب کامیاب ٹھہرے۔ شہر نے دل کسی اور کو دیا، مگر ووٹ وہاں ڈالا جہاں علاج کی امید تھی۔
یہاں لکھنؤ کی تہذیب کا وہ درخشاں پہلو سامنے آتا ہے جس کی مثال مشکل سے ملتی ہے۔ دلرُبا جان خود حکیم صاحب کے دولت کدے پر تشریف لائیں، مسکراتے ہوئے مبارک باد دی اور کہا:
“مجھے ہار کا کوئی ملال نہیں، مگر آپ کی جیت نے ایک حقیقت ثابت کر دی ہے:
لکھنؤ میں مرد کم ہیں، مریض زیادہ!”
ایک دوسری روایت — جو اسی قصے کا عوامی، نیم طنزیہ عکس ہے — یہ بتاتی ہے کہ مقابل ایک معروف رقاصہ (مخنث) تھی، اور نتیجہ محض ایک ووٹ کے فرق سے آیا۔ اس روایت میں ہارنے والی نے کہا:
“آپ کے الیکشن نے پورے شہر کی صحت کا سروے کر دیا —
آدھے لوگ صحت مند ہیں جو میرے ساتھ تھے،
اور آدھے سے ایک زیادہ بیمار، جو آپ کے ساتھ!”
یہ جملے محض لطیفہ نہیں، لکھنؤ کی اجتماعی نفسیات، سیاسی شعور اور تہذیبی شائستگی کا آئینہ ہیں۔ یہاں شکست میں بھی وقار ہے، اور فتح میں بھی خود احتسابی۔
اب ذرا اس آئینے کو آج کے انتخابی منظرنامے کے سامنے رکھ کر دیکھیے — خصوصاً بہار کے انتخابی بخار میں۔ ہر امیدوار خود کو عوام کا “حکیمِ وقت” قرار دے رہا ہے۔ کسی کے منشور میں مہنگائی کا علاج ہے، کسی کے وعدوں میں بے روزگاری کی دوا، اور کسی کی تقریروں میں کرپشن کے خلاف کڑوی گولیاں۔
مگر مریض — یعنی عوام — کا بخار اترنے کا نام نہیں لیتا۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ آج کا انتخاب بھی ایک سیاسی میڈیکل ٹیسٹ ہے، جہاں ووٹر لاشعوری طور پر یہ بتا رہا ہے کہ وہ خود کو صحت مند سمجھتا ہے یا بیمار۔
لہٰذا جب اگلی بار ووٹ ڈالنے جائیں تو ذرا ٹھہر کر سوچیے — اور یہ سوچ محض انگلی کے ایک دباؤ تک محدود نہ رکھیے، بلکہ اپنے شعور، اپنے ضمیر اور اپنی اجتماعی ذمہ داری تک لے جائیے۔
یہ ووٹ واقعی کسی ایسے حکیم کے حق میں جا رہا ہے جو مرض کی تشخیص بھی جانتا ہو، دوا کی مقدار بھی پہچانتا ہو، اور علاج کے بعد تیمارداری کی ذمہ داری بھی قبول کرتا ہو؟ یا پھر کسی ایسے رقاصۂ سیاست کے نام، جو جلسوں کی محفل میں دل بہلاتا ہے، نعروں کی تھاپ پر تماشہ دکھاتا ہے، مگر اقتدار میں آتے ہی مریض کو اسٹیج پر تنہا چھوڑ کر غائب ہو جاتا ہے؟
یاد رکھیے، انتخاب محض حکومت چننے کا عمل نہیں ہوتا، یہ قوم کی صحت کا اجتماعی ایکسرے ہوتا ہے۔ یہاں ہر ووٹ یہ اعلان کرتا ہے کہ ووٹر ہوش میں ہے یا جذبات کے نشے میں، باشعور ہے یا محض تماش بین، دردِ وطن رکھتا ہے یا وقتی سرور پر قانع ہے۔
جو قوم ہر بار نعرے کی لے پر رقص دیکھ کر فیصلہ کرے، اس کے حصے میں بعد میں سسکیاں ہی آتی ہیں؛ اور جو قوم تلخ دوا سے نہ گھبرائے، اسی کے نصیب میں شفا لکھی جاتی ہے۔
اس لیے فیصلہ آپ کا ہے — مگر یاد رکھیے، اس فیصلے کا اثر کسی ایک نشست، کسی ایک چہرے یا کسی ایک دورِ حکومت تک محدود نہیں رہتا؛ یہ پورے صوبے کی رگوں میں دوڑتا ہے، آنے والی نسلوں کے خون میں شامل ہوتا ہے، اور تاریخ کے نسخے پر مستقل درج ہو جاتا ہے کہ اس دور کے لوگ مریض تھے یا معالج۔
✍️ قاری ممتاز احمد جامعی
📧 majaamai@gmail.com
— لکھنوی تہذیب کے آئینے میں عصرِ حاضر کا انتخابی نوحہ
نوٹ برائے قاری:
یہ تحریر کسی مستند سرکاری انتخابی ریکارڈ کا دعویٰ نہیں کرتی، بلکہ لکھنؤ کی معروف عوامی روایت، ادبی حکایت اور تہذیبی تمثیل پر مبنی ہے، جس کا مقصد تاریخ بیان کرنا نہیں بلکہ سماجی و سیاسی نفسیات کو آئینے میں دکھانا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔