عدالت کی آنکھوں پر اکثریت کی پٹی
تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی
آج بھارت میں انصاف مذہب دیکھ کر دیا جاتا ہے،
ایجنسیوں کے فیصلے قانون سے نہیں، عقیدے سے لکھے جاتے ہیں۔
یہ وقت ہے جاگنے کا —
ورنہ کل بولنے کی آزادی بھی جرم ہوگی۔
بھارت کی عدلیہ آج جس موڑ پر کھڑی ہے، وہاں انصاف ایک مقدس اصول کم اور سیاسی نعرہ زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ فیصلے آئین اور قانون کی بنیاد پر نہیں بلکہ اکثریتی مزاج کو بھانپ کر سنائے جا رہے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جب آئین کی روح زخمی ہوتی ہے اور اقلیتوں کا عدالتی نظام سے اعتماد لرزنے لگتا ہے۔
ایک مظلوم وکیل کی فریاد، ایک محبِ وطن سماجی رہنما کے آنسو، اور ایک بوڑھے استاد کی خاموشی — سب ایک ہی انجام پر پہنچتے ہیں:
“عدالت نے مہر لگا دی۔”
عدلیہ: انصاف سے تشہیر تک
عدالت کا دروازہ اب انصاف کے متلاشی کے لیے کم اور تشہیر کے شائق کے لیے زیادہ کھلتا ہے۔ تفتیشی ایجنسیوں کے کمروں میں قانون کی دفعات سے زیادہ نفرت کے پیراگراف محفوظ ہیں۔
کسی مسلمان کا نام دیکھ کر فائل کا رنگ بدل جاتا ہے،
مقدمے کا لہجہ سخت ہو جاتا ہے،
اور فیصلہ پہلے ذہن میں، بعد میں کاغذ پر آتا ہے۔
یہاں جرم وہ نہیں جو تم نے کیا،
بلکہ وہ ہے جو تمہارا مذہب سمجھا گیا۔
ایجنسیاں اور ریاستی جبر
بھارتی ایجنسیاں آج قانون کی محافظ نہیں رہیں بلکہ اقتدار کی نگہبان بن چکی ہیں۔ وہ ظلم کے تماشے میں منصف نہیں بلکہ اداکار کا کردار ادا کر رہی ہیں۔
کبھی کسی تعلیمی ادارے کے بانی کو “زمین ہتھیانے والا” کہا جاتا ہے،
کبھی کسی سماجی کارکن کو “دہشت گرد” بنا دیا جاتا ہے۔
تعلیم، خدمت اور علم سے وابستگی کو جرم بنا دیا گیا ہے۔
ریاست کے ہاتھ میں بندوق نہیں،
بلکہ FIR، نوٹس اور گرفتاری کا اختیار ہے —
اور یہی جدید ریاستی دہشت گردی کی پہچان بن چکا ہے۔
جب آئین خاموش ہو جائے
اب عدالت کے الفاظ میں آئین کی زبان نہیں بلکہ اکثریت کے جذبات کی گونج سنائی دیتی ہے۔ فیصلہ وہی معتبر مانا جاتا ہے جو تالی بجانے والوں کو پسند آئے۔
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں انصاف تاخیر سے نہیں بلکہ تعصب سے مارا جاتا ہے۔
اور جب انصاف تعصب کے تابع ہو جائے تو ظلم آئینی لبادہ اوڑھ لیتا ہے۔
خاموش اکثریت — شریکِ جرم
اکثریتی عوام محض خاموش نہیں بلکہ شریکِ جرم ہیں۔
ان کی خاموشی ظلم کو دوام دیتی ہے،
ان کا ووٹ ظالم کو تخت پر بٹھاتا ہے۔
قومیں تلوار سے نہیں گرتیں،
بلکہ انصاف کے قتل پر تالیاں بجانے والوں سے تباہ ہوتی ہیں۔
یہ خاموشی ہی سب سے بڑا شور ہے جو مظلوم کے دل کو چیرتا رہتا ہے۔
یہ صرف ایک کہانی نہیں
یہ کہانی کسی ایک اعظم خان، کسی ایک وکیل یا کسی ایک مسلمان کی نہیں۔
یہ ہر اُس شخص کی کہانی ہے جس نے قلم پکڑا اور نظام نے اس کے ہاتھ میں ہتھکڑی ڈال دی۔
یہ ہر اُس ذہن کی فریاد ہے جس نے تعلیم کو طاقت بنایا اور اقتدار نے اسے جرم بنا دیا۔
یہ ہر اُس شہری کی چیخ ہے جو آئین پر ایمان رکھتا تھا،
مگر عدالت نے اس ایمان کو کمزور کر دیا۔
بہار الیکشن اور ووٹ کی ذمہ داری
جب بہار کے انتخابات قریب ہیں تو ہر باضمیر شہری — خصوصاً مسلمان — یہ سوچنے پر مجبور ہے:
کیا ووٹ دینا صرف کسی پارٹی کو ہے؟
یا اپنے مستقبل، وقار اور آزادی کو؟
جس قوم کے ووٹ سے ظالم مضبوط ہوں،
وہ قوم اپنی زنجیر خود تیار کرتی ہے۔
اس بار ووٹ دینے سے پہلے:
اس وکیل کی آنکھوں کے آنسو یاد رکھنا،
اس بزرگ رہنما کی خاموشی یاد رکھنا
جو تعلیم کی بات کرنے کی سزا کاٹ رہا ہے۔
یہ ووٹ محض تمہارا حق نہیں —
یہ تمہاری گواہی ہے۔
اگر تم نے خاموشی کو ووٹ دیا،
تو کل تمہارے بچوں کی چیخوں کو بھی کوئی عدالت نہیں سنے گی۔
آخری سطر
جب انصاف کے کمرے میں ایمان نہیں بلکہ اکثریت کا دباؤ بولتا ہے،
تو عدالتیں عبادت گاہ نہیں رہتیں —
بلکہ ظلم پر مہر لگانے والے دفتر بن جاتی ہیں۔
اور جب انصاف مذہب دیکھ کر دیا جائے،
تو یاد رکھو:
آئین نہیں بچتا — انسانیت مرتی ہے۔
#انصاف_کے_نام_پر_ظلم
#عدالت_کی_آنکھوں_پر_اکثریت_کی_پٹی
#عدلیہ
#آئینی_حقوق
#اقلیتوں_کا_تحفظ
#BiharElection2025
#VoiceOfJustice
#قاری_ممتاز_احمد_جامعی
majaamai@gmail.com
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔