ہم ملک میں جاری حالیہ قانونی پیش رفت، بالخصوص وقف قانون ترمیم 2025 اور اس کے خلاف دائر کردہ درخواست پر سپریم کورٹ کے فوری سماعت سے انکار پر شدید احتجاج اور گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔
وقف ایک مذہبی، شرعی اور آئینی ادارہ ہے، جو مسلمانوں کے دینی، تعلیمی، سماجی اور فلاحی حقوق سے گہرائی سے جڑا ہوا ہے۔ اس پر یکطرفہ قانون سازی، ترمیمات یا قبضہ ایک ایسا غیر منصفانہ عمل ہے جو آئینِ ہند کی روح کے خلاف ہے۔
ہم اعلان کرتے ہیں کہ:
1. اگر ملک میں بدعنوان حکومتیں وقف کی جائیدادوں پر غاصبانہ قبضہ کریں یا
2. احتجاج کرنے والے پرامن عوام پر ریاستی طاقت کے ذریعے ظلم و جبر کیا جائے
تو ان تمام حالات کی براہ راست اخلاقی اور قانونی ذمہ داری سپریم کورٹ آف انڈیا پر عائد ہوگی،
کیونکہ جب انصاف کے دروازے بند ہوتے ہیں، تو ظلم کو کھلی چھوٹ ملتی ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:
سپریم کورٹ فوراً اس معاملے کی شنوائی کرے
مرکزی حکومت اقلیتوں کے مذہبی و فلاحی اداروں کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی سے باز رہے
تمام ملی، دینی، سماجی و انصاف پسند طبقات اس سنگین خطرے کے خلاف متحد ہو کر پرامن مگر پراثر جدوجہد کا آغاز کریں
یہ محض مسلمانوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ جمہوریت، آئین، اور عدلیہ کے وقار کا سوال ہے۔
قاری ممتاز احمد جامعی
(بانی و ناظم: جامعہ اشاعت العلوم، سمستی پور)
(جنرل سیکرٹری: الامداد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔