ہفتہ، 18 اکتوبر، 2025

نیا بھارت یا بے رحم بھارت؟

 ✍️ نیا بھارت یا بے رحم بھارت؟


2014 کے بعد انسانیت پر حملے، اور اخلاقی تباہی کی داستان


2014 میں جب اقتدار بدلا، تو صرف حکومت نہیں بدلی — ملک کی روح، اقدار، اور انسانی حرمت کے تصورات بھی بدلتے چلے گئے۔ "سب کا ساتھ، سب کا وکاس" کے نعرے کے پیچھے جو چہرہ چھپا تھا، اس نے دھیرے دھیرے ظلم، ناانصافی، اور بےحسی کو نیا قومی مزاج بنا دیا۔

🟥 1. عورت کی عصمت — نعرے میں تحفظ، عمل میں پامالی!

بیتے برسوں میں جنسی جرائم کی جو لہر چلی ہے، وہ صرف بدنظمی نہیں بلکہ منظم جرم کا دھڑلّا ہے۔

اناؤ، کٹھوعہ، ہتھرس، بلقیس بانو — یہ سب محض فائلوں کے کیس نہیں، بلکہ اس قوم کی بیٹیوں کے زخم ہیں، جن پر اقتدار نے نمک چھڑکا۔

اب اتراکھنڈ کے ہریدوار میں بی جے پی مہیلا مورچہ کی سابق صدر نے اپنی 13 سالہ بیٹی کی عزت کو بازار میں بیچنے کا مکروہ دھندہ کیا۔ یہ جرم نہیں، انسانیت کے منہ پر تھپڑ ہے۔

کیا یہ وہی “بیٹی بچاؤ” ہے جس کی دہائی دی جاتی ہے؟ اگر ماں جیسا مقدس رشتہ بھی سیاست کی دلدل میں ڈوب جائے، تو باقی رشتے کہاں محفوظ رہیں گے؟

🟥 2. گائے کے نام پر انسان کا خون — مذہب یا حیوانیت؟

2015 میں اخلاق احمد کو مارا گیا،

پھر پہلو خان، راکبر خان، تبریز انصاری...

قتل کا ہتھیار اب چھری یا بندوق نہیں، بلکہ افواہ، جے شری رام، اور گائے کا نام بن چکا ہے۔

ایک ایسے ملک میں جہاں گائے کو ماں کا درجہ دیا جاتا ہے، وہیں اس "ماں" کے تحفظ کے نام پر ہزاروں ماؤں کے بیٹے مارے گئے۔

کیا یہی "رام راج" ہے؟ کیا بھگوان رام کی تعلیمات اسی نفرت کی اجازت دیتی ہیں؟ مذہب کو اتنی سفاکی سے استعمال کرنا، خود مذہب کے ساتھ ظلم ہے۔

🟥 3. ہجوم کا انصاف — عدالتوں کے منہ پر طمانچہ

موب لنچنگ ایک دو واقعے نہیں، بلکہ نیا غیر سرکاری انصاف کا ماڈل بن چکا ہے۔

پولیس اکثر خاموش تماشائی بنی نظر آتی ہے، ویڈیو بنانے والے ہی مجرم بن جاتے ہیں، اور متاثرہ خاندان زندگی بھر انصاف کی دہائی دیتا ہے۔

🟥 4. راہنما کی نجی زندگی — قومی قیادت کا اخلاقی آئینہ

جب ایک ملک کا سربراہ اپنی بیوی کو لاوارث چھوڑ دے، تو وہ عورتوں کے تحفظ پر کیا بولے گا؟

یہ اس کی نجی زندگی نہیں، ایک اخلاقی نمونہ ہے — جو اگر بوسیدہ ہے، تو سارا نظام بوسیدہ ہو جاتا ہے۔

ازدواجی رشتہ محض قانونی معاہدہ نہیں، ایک تمدنی اکائی، ایک اخلاقی عہد ہے۔ اگر اسی کا وقار پامال ہو تو "پرم پراؤں" اور "سنکلپ" کے نعرے محض کھوکھلے الفاظ بن جاتے ہیں۔

📢 نتیجہ:

ان سب واقعات کو الگ الگ نہ دیکھا جائے۔

یہ سب ایک ذہنیت، ایک نظام، اور ایک ایجنڈے کی کڑیاں ہیں — جو انسان سے زیادہ عقیدے، قانون سے زیادہ نفرت، اور ضمیر سے زیادہ ووٹ بینک کو اہمیت دیتا ہے۔

🕊️ اختتامی جملہ:

یہ تحریر انسانیت کے تحفظ کی ایک آواز ہے — تاکہ سچائی زندہ رہے، اور ظلم کو بے نقاب کیا جا سکے، چاہے اس کے لیے کتنی ہی آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش کی جائے۔


تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔