📌 عید الاضحی گزر چکی ہے… مگر قربانی کا پیغام باقی ہے!
عید الاضحی گزرنے کو ہے — مگر سوال یہ ہے:
کیا ہم قربانی کا جانور خریدے تھے ؟ یا اپنی غیرت، دین، اور تہذیب کی قربانی دیئے تھے؟
جب کوئی قوم اپنے تہواروں سے بے زار ہو جائے اور اغیار کے جشن اسے زیادہ خوبصورت لگنے لگیں…
جب قربانی کی رات نیو ایئر نائٹ بن جائے، اور عید کا دن صرف پوسٹ، سیلفی اور شو آف کی دوڑ بن جائے…
تو یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔
قربانی کا مطلب صرف خون بہانا نہیں —
بلکہ دل نرم کرنا، غریبوں کو دینا، اور شعور جگانا ہے۔
مگر آج کے دور میں:
جانور کا خون تو بہا،
مگر دل کا تقویٰ کہاں گیا؟
گوشت کاٹ دیا،
مگر رشتہ دار بھوکے رہ گئے۔
سجی ٹرے تو بنی،
مگر پڑوسی بیوہ کا چولہا ٹھنڈا رہا۔
یہ قربانی نہیں، یہ رسم کا بے روح مجسمہ ہے!
📌 جب مسلم نسل غیروں کی نقالی میں فخر محسوس کرے...
فرینڈشپ ڈے پر تعلقات سجیں،
مگر صحابہؓ کی صحبت اجنبی ہو جائے؛
ہولی کے رنگ اپنائیں،
مگر تحجد کے آنسو بوجھ بن جائیں؛
دیوالی کے دیئے روشن کریں،
مگر قبر کی تاریکی کا خوف مٹ جائے؛
راکھی بندھوانا فخر بن جائے،
اور محرمات کا تقدس بے معنی ہو جائے؛
ویلنٹائن پر محبت کا ناٹک ہو،
مگر والدین کی قدم بوسی بوجھ لگے؛
تو سمجھو یہ قوم اسلامی روح سے خالی ہو چکی ہے — اور صرف جسمانی وجود کے بل پر جی رہی ہے۔
📖 قرآن کا پیغام:
> "وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ"
"اگر تم مؤمن ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔"
(آلِ عمران: 139)
قربانی کی اصل روح یہ ہے کہ ہم نفس، دکھاوے، دنیا پرستی، اور غفلت کو ذبح کریں،
اپنے اندر خشیت، اخلاص، تقویٰ اور ایثار کو زندہ کریں۔
اگر ہم غیروں کے طریقے، رنگ، جشن، اور تہذیب کو اپنا کر خود کو "روشن خیال" سمجھنے لگیں —
تو ہم خود کو اندھیروں کے قریب کر رہے ہیں، اور ہدایت سے دور جا رہے ہیں۔
📌 عید سے پہلے ایک بار خود سے پوچھو:
کیا میری قربانی… اللہ کے لیے ہے؟
یا لوگوں کو دکھانے کے لیے؟
✍️ قلم: قاری ممتاز احمد جامعی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔