ہفتہ، 18 اکتوبر، 2025

اہلِ علم کی رفاقت اور مدرسہ امدادیہ اشرفیہ راجوپٹی سے قلبی وابستگی

 اہلِ علم کی رفاقت اور مدرسہ امدادیہ اشرفیہ راجوپٹی سے قلبی وابستگی


اہلِ علم و بصیرت اور اہل اللہ کی رفاقت سے دل میں دینی جذبہ، ایثار و قربانی اور مجاہدہ کا ولولہ موجزن ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف اگر سفر میں کوئی غافل اور علم و عمل سے عاری شخص مل جائے تو اس کے بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اللہ پاک ہمیں ہمیشہ صاحبانِ بصیرت کی صحبت نصیب فرمائے۔


پورے چالیس روزہ سفرِ پالنپور کے دوران مختلف تہذیبوں اور معاشروں سے آئے سفرا کرام کی رفاقت نے دل کو ایک سمت مائل کیا تھا، لیکن اچانک ایک معروف و مشہور ادارہ مدرسہ امدادیہ اشرفیہ، راجوپٹی، سیتامڑھی (بہار) کے نمائندہ سے ملاقات ہوئی تو قلب میں ایک خاص شوق اور محبت کی کیفیت جاگ اٹھی، کیوں کہ بندہ کا اس ادارہ سے تقریباً ڈھائی دہائیوں پر مشتمل گہرا تعلق ہے۔


یقیناً تمام دینی اداروں سے دلی وابستگی ہے، اور ہر ادارہ اپنے اپنے علاقے میں اپنی نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے، کیونکہ یہی ادارے دین کے حقیقی پاور ہاؤس ہیں جن سے امت مسلمہ کے دینی و شرعی تقاضے پورے ہوتے ہیں۔ لیکن امدادیہ اشرفیہ راجوپٹی، سیتامڑھی سے ایک غیر معمولی محبت ہے؛ اس لیے کہ بندہ نے اپنی ابتدائی تدریسی خدمات یہیں سے شروع کی تھیں۔


یہاں کے اساتذہ اپنے پاور ہاؤس سے نکلنے والی بجلی کی مانند دور تک روشنی پھیلاتے ہیں۔ اور کیوں نہ ہو؟ یہ ادارہ ملک میں احیاءِ سنت کے مجددِ وقت حضرت تھانویؒ کے سلسلے سے وابستہ ہے۔ بہار میں حالیہ زمانے میں حضرت تھانویؒ کے خلیفۂ اجل حضرتِ ہردوئیؒ کے فیض یافتہ، حضرت مولانا عبد المنان صاحب قاسمی دامت برکاتہم کے روشن کیے ہوئے چراغ کی ضیاء پاشیاں ہی اس ادارے کی پہچان ہیں۔


نمائندۂ محترم کا اسمِ گرامی جناب مولانا محمد احتشام الحق مظاہری صاحب ہے، جو مدرسہ امدادیہ اشرفیہ کے سابق متعلم اور کہنہ مشق استاد ہیں۔ موصوف دیکھنے میں اگرچہ پست قد کے حامل ہیں، لیکن علم و عمل، فہم و فراست اور بصیرت کے اعتبار سے نہایت بلند مقام پر فائز ہیں۔ ان کی مستقل تبسم جیسی انمول صفت، نرم گوئی، نرم خُوئی اور حلم و بردباری سے مزین صفاتِ حمیدہ نے ان کی شخصیت کو اور زیادہ دلآویز بنا دیا ہے۔ سفر کے دوران ان کی رفاقت ایسی محسوس ہوئی جو تمام الجھنوں کو دور کر کے قلب کو سکون عطا کر دے۔


میری دعا ہے کہ اللہ پاک موصوف کو مزید سعادتِ دارین سے نوازے، ادارہ امدادیہ و اشرفیہ کی خدمات کو تا قیامت قائم و دائم رکھے، اس کے اساتذہ و فضلا کے علم و فیض کو قبولیتِ عام عطا فرمائے، اور بقیہ چند ایامِ سفر بھی بخیر و خوبی گزریں۔ آمین۔


             قاری ممتاز احمد جامعی

جنرل سیکرٹری: الامداد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ  

بانی و ناظم: جامعہ اشاعت العلوم سمستی پور

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔