امت مسلمہ، باضمیر اقوام، اور عالمی ضمیر کے نام ایک غیرت مند اپیل
دنیا ایک بار پھر ظلم، جارحیت، اور سامراجی سازشوں کی زد میں ہے۔ امریکہ و اسرائیل کا اتحاد مشرقِ وسطیٰ سے لے کر افریقی ساحل، ایشیا کے دروازوں اور خلیجی درّوں تک خون کی ندیاں بہا رہا ہے۔ بیروت سے تہران، غزہ سے صنعا، دمشق سے کابل تک ہر جگہ جنگی جنون کا عذاب ہے۔ ایسے میں خاموشی جرم اور تقسیم خودکشی بن چکی ہے۔
📢 اب صرف بیانات نہیں، بلکہ خالص خلوص، مزاحمتی عمل، اور حکمتِ عملی کی بنیاد پر ایک مؤثر عالمی اتحاد کی فوری ضرورت ہے۔
مگر اس اتحاد کی بنیاد صرف نعرہ، نام یا کسی نئے "عالمی فورم" کی نمائش نہ ہو، جیسا کہ ہم نے ماضی میں OIC اور عرب لیگ جیسے اداروں میں دیکھ لیا:
"نشستند، گفتند، خوردند، برخاستند"
بیٹھے، بولے، کھایا پیا اور چلے گئے۔
🔻 ایسا اتحاد تب ہی فائدہ مند ہو سکتا ہے، جب وہ درج ذیل 5 بنیادی نکات پر قائم ہو:
✅ 1. نظریاتی اتحاد:
بنیاد صرف نسل، زبان یا حکومت نہ ہو، بلکہ ظلم کے خلاف بے باک مزاحمت، انصاف اور انسانی غیرت ہو — چاہے مظلوم فلسطینی ہو یا کشمیری، افغانی ہو یا یمنی، برمی ہو یا چیچن، ایغور۔
✅ 2. سفارتی ہمت و جُرأت:
اقوام متحدہ، OIC، اور دیگر اداروں میں رسمی بیانات کے بجائے مؤثر قراردادیں، عالمی دباؤ، اور ویٹو پاور کی منافقانہ سیاست کے خلاف عالمی بیداری مہم چلائی جائے۔
✅ 3. دفاعی ہم آہنگی و تعاون:
ایک ایسا نظام بنایا جائے جس میں عسکری معلومات، ٹیکنالوجی، وسائل، اور انٹیلی جنس شیئرنگ ہو — تاکہ ایران، حزب اللہ، حماس، انصار اللہ جیسے مزاحمتی گروہ اکیلے نہ رہ جائیں۔
✅ 4. میڈیا و بیانیے کی جنگ:
ایک آزاد، طاقتور، اور سچ بولنے والا عالمی مزاحمتی میڈیا نیٹ ورک قائم کیا جائے — تاکہ مغرب کے پروپیگنڈہ کو توڑا جا سکے اور مظلوموں کی حقیقی آواز دنیا تک پہنچے۔
✅ 5. معاشی حکمتِ عملی و خود کفالت:
مغربی سرمایہ دارانہ شکنجے سے نکلنے کے لیے تجارتی بائیکاٹ، اپنی کرنسی و نظامِ معیشت کی بنیاد، اور باہمی امداد پر مشتمل معاشی سسٹم قائم ہو۔
اگر ہم نے اب بھی تاخیر کی، تو تاریخ ہمیں بے عمل، بے حس، اور مغلوب قوم کے طور پر یاد رکھے گی۔
اور اگر ہم متحد ہوئے — خلوص، حکمت اور قربانی کے ساتھ — تو یہی لمحہ تاریخ کے دھارے کو موڑ دے گا۔
امت کو اب نئی تنظیموں کے نام نہیں، نیا عزم، نیا کردار، اور نیا عمل چاہیے۔
ورنہ یاد رکھئے:
> آج غزہ جل رہا ہے، کل بیروت ہوگا، پرسوں دمشق، اور شاید اگلا نشانہ ہم ہوں!
تحریر۔ قاری ممتاز احمد جامعی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔