hawai-hadsa-ya-siyasi-hathkanda-2025
جون 2025 میں احمدآباد کے قریب پیش آنے والا ہولناک فضائی حادثہ، جس میں 241 سے زائد مسافر اور شہری جان سے گئے، محض کسی تکنیکی خرابی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک سنگین نظامی ناکامی، حفاظتی غفلت اور ممکنہ سیاسی اثرات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ اسی تاریخی تسلسل میں اجیت پوار کا بارامتی کے قریب پیش آنے والا فضائی حادثہ مہاراشٹر کی ترقی پسند سیاست کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان بن کر سامنے آیا، جس نے جمہوری سیاست میں حادثات کی ٹائمنگ اور پس منظر پر ایک بار پھر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے۔
جون 2025 میں احمدآباد کے قریب پیش آنے والا ہولناک فضائی حادثہ، جس میں 241 سے زائد مسافر اور شہری جان سے گئے، محض ایک تکنیکی خرابی نہیں بلکہ ایک پیچیدہ نظامی ناکامی کا مظہر بھی تھا۔ حادثات دنیا بھر میں رونما ہوتے ہیں، لیکن ہر حادثہ محض اتفاق نہیں ہوتا، خاص طور پر جب اس کے اثرات اجتماعی، سیاسی اور سماجی سطح پر دیرپا ہوں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تجارتی مسافر طیارہ ٹیک آف کے چند ہی لمحوں بعد حادثے کا شکار ہوا اور شہری آبادی کے قریب ایک عمارت اور ہاسٹل کے اطراف جا گرا۔ نتیجتاً نہ صرف مسافر اور عملہ بلکہ زمینی سطح پر موجود عام شہری بھی لقمۂ اجل بنے۔ یہی پہلو اس سانحے کو ایک معمول کے فضائی حادثے سے کہیں زیادہ سنگین بنا دیتا ہے، کیونکہ شہری علاقوں میں پرواز، حفاظتی دائرہ، رسک اسسمنٹ، اور ایمرجنسی ردِّ عمل جیسے بنیادی سوالات خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں۔
اس حادثے کی سنگینی اس وقت مزید بڑھ گئی جب اس میں گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ وجے روپانی کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی۔ یہ واقعہ محض ایک فرد کی موت نہیں بلکہ اس نے قومی سطح پر یہ بحث چھیڑ دی کہ اہم عوامی شخصیات کے سفر، ان کے لیے طے شدہ حفاظتی پروٹوکول، اور پرواز سے قبل خطرات کے تجزیے واقعی معیار کے مطابق تھے یا نہیں۔
وجے روپانی، جو ایک وقت مودی کے قریبی تھے اور بعد میں کنارہ کش ہو گئے، کچھ حساس سیاسی سرگرمیوں میں بھی شامل تھے۔ وہ سورت کے 2,500 کروڑ کے لینڈ اسکینڈل کو اجاگر کرنے والے رہنماؤں میں شامل تھے، جس میں "Silent Zone" Fraud اور سرکاری زمین کی جعلی فروخت شامل تھی۔ مرکزی کردار انانت پٹیل پہلے ہی گرفتار ہو چکے تھے اور سورت کی بیوروکریسی لرز رہی تھی۔ اس تناظر میں سوال پیدا ہوتا ہے: کیا یہ ہوائی حادثہ محض ایک حادثہ تھا، یا کسی بڑے سیاسی اور نظامی پس منظر کی عکاسی کرتا ہے؟
👥 ہمارا درد وجے روپانی سے نہیں—ہمارا درد ان 240+ مظلوم انسانوں سے ہے جو یا تو سیاست کی جنگ میں مارے گئے، یا نظام کی لاپرواہی، یا کسی اور کی سازش کا شکار بنے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ نظام ہر شہری کے لیے یکساں طور پر محفوظ ہے؟
یہ سوال بھارت کی سیاسی اور فضائی تاریخ میں کئی بار سامنے آیا ہے۔ اہم سیاسی شخصیات کے فضائی حادثات اور دیگر سانحات اکثر ایک معمہ بن کر رہ جاتے ہیں۔ تاریخی واقعات کی مکمل کرونولوجیکل ترتیب کچھ یوں ہے:
1975: سمستی پور میں ریلوے پل کے افتتاح کے موقع پر بم دھماکے میں ریلوے وزیر ڈاکٹر للت نارائن مشرا شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں وفات پا گئے۔
1980: سنجے گاندھی کا طیارہ حادثہ، جس پر سرکاری انکوائری ہوئی، لیکن حفاظتی انتظامات اور سوالات طویل عرصے تک زیر بحث رہے۔
12 مارچ 2000: سابق وزیر ریلوے اور سوشلسٹ مفکر مدھو دندوتے کا فضائی حادثہ، جس نے عوامی شعور میں سوالیہ نشان چھوڑا۔
2002: لوک سبھا کے اسپیکر جی ایم سی بلایوگی کا ہیلی کاپٹر حادثہ۔
2003: گجرات کے وزیر ہرین پاندیہ کا بہیمانہ قتل (سیاسی پس منظر سے متعلق)۔
2014: مرکزی وزیر گوپی ناتھ منڈے کا سڑک حادثہ اور جج بی ایچ لویا کی پراسرار موت۔
8 دسمبر 2021: بھارت کے پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت، ان کی اہلیہ اور اعلیٰ افسران کا تمل ناڈو میں فوجی ہیلی کاپٹر حادثہ۔
جون 2025: احمدآباد فضائی حادثہ، جس میں وجے روپانی سمیت 241+ مسافر اور شہری جان بحق ہوئے۔
اسی تاریخی تسلسل میں اجیت پوار کا حادثہ بھی مہاراشٹر کی سیاست میں ایک دردناک موڑ ہے۔ اجیت پوار کا بارامتی فضائی حادثہ، جس وقت وہ مہاراشٹر کی سیاست میں ایک فیصلہ کن موڑ پر تھے، ان کی سیاسی سمت، ممکنہ واپسی اور بدلتے اتحادوں کی بازگشت زوروں پر تھی۔ گزشتہ دنوں سیاسی گلیاروں میں یہ چہ مگوئیاں زور پکڑ رہی تھیں کہ اجیت پوار ایک بار پھر شرد پوار کے پاس واپس جا سکتے ہیں اور شرد پوار کوئی نئی حکمت عملی یا سیاسی کھیل کر سکتے تھے۔ ان افواہوں کا کوئی حل سامنے آنے سے قبل ہی اجیت پوار اس حادثے کا شکار ہوگئے۔
یہ حادثہ نہ صرف ان کے سیاسی کیرئیر کے عروج پر پیش آیا بلکہ مہاراشٹر کی عوام اور جمہوری سیاست کے لیے ایک خالی جگہ چھوڑ گیا۔ اجیت پوار ہمیشہ نفرت، دنگے اور فساد کی سیاست سے دور رہے اور اپنی پوری زندگی ترقی پسند اور عوامی مفاد پر مبنی سیاست کرنے میں گزاری۔ اگرچہ بھاجپا نے انہیں سخت دباؤ میں رکھا اور پالیسیوں یا اتحادی تعلقات پر اثر ڈالنے کی کوشش کی، اجیت پوار نے کبھی بھی بھاجپا کی زبان نہیں اپنائی اور مہاراشٹر میں نتیش رانے کی مخالفت کھل کر کی، جس سے نتیش رانے کے سیاسی اثرات کمزور ہوتے رہے۔
جاننے والے جانتے ہیں کہ اجیت پوار کے پاس اگر کوئی بھی شخص اپنا کام لے کر آتا اور وہ عوامی مفاد میں ہوتا، تو وہ بلا تفریق مذہب اور ذات اس کا کام کروانے کی بھرپور کوشش کرتے تھے۔ گزشتہ برس گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ وجے روپانی بھی اسی طرح ایئر انڈیا جہاز کی تباہی میں جاں بحق ہوئے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کی حادثاتی موتیں کبھی کبھی سیاسی اور نظامی خلا پیدا کر دیتی ہیں۔ اجیت پوار کے ساتھ پیش آنے والا یہ دردناک سانحہ مہاراشٹر کی ترقی پسند سیاست کا بڑا نقصان ہے، اور ایک ایسا خلا چھوڑ گیا ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔ میں ان کے اہل خانہ اور پسماندگان کے دکھ میں شریک ہوں اور اس نازک و غمناک موقع پر ان کے ساتھ کھڑا ہوں۔
حادثے کی تفتیش صرف تکنیکی پہلو تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ بلیک باکس، انجن اور ایویونکس ڈیٹا، فلائٹ پلان اور ایئر ٹریفک کنٹرول لاگز کے ساتھ ساتھ یہ بھی جانچنا ضروری ہے کہ:
شہری آبادی کے قریب پرواز کی اجازت کس بنیاد پر دی گئی؟
رسک اسسمنٹ کن اصولوں کے تحت کی گئی؟
موجودہ ایوی ایشن پالیسی کسی بڑے سانحے کو روکنے کے لیے کافی ہے یا نہیں؟
آزاد اور ہمہ جہت تحقیق کے لیے CBI یا NIA جیسے اداروں کی شمولیت ضروری نہیں؟
یہ سوالات کسی سازشی ذہن کی پیداوار نہیں بلکہ ہندوستانی سیاسی اور انتظامی تاریخ کے تجربات سے جنم لیتے ہیں۔ احمدآباد کا یہ حادثہ قیامت صغریٰ سے کم نہیں۔ لمحوں میں ہنستے بستے گھر اُجڑ گئے، خواب بکھر گئے، نسلیں منقطع ہو گئیں۔ کوئی اپنے پورے خاندان کے ساتھ سفر پر نکلا تھا، اور کوئی مستقبل کے سنہرے خواب سجائے منزل کی طرف بڑھ رہا تھا—مگر قدرت کے فیصلے نے پل بھر میں سب کچھ بدل دیا۔ ایسے مواقع پر محض غم کا اظہار کافی نہیں بلکہ اجتماعی خود احتسابی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
آج کا انسان طاقت، دولت اور غرور میں اس قدر اندھا ہو چکا ہے کہ کمزور اور لاچار انسان اس کے نزدیک مچھر اور مکھی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ وہ ہمسایہ ہونے کا حق بھول جاتا ہے، راستے بند کرتا ہے، عزتِ نفس مجروح کرتا ہے اور پھر خود کو کامیاب سمجھنے لگتا ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ طاقت، دولت اور غرور عارضی ہیں، اور انسانیت، انصاف اور جوابدہی میں ہی اصل کامیابی ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے:
﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ﴾
فضائی حادثات ہوں یا سیاسی سانحات، یہ ہمیں سبق دیتے ہیں کہ زندگی ناپائیدار ہے، اور ہر انسان کے لیے شفافیت اور اصلاح کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ اگر ہم نے انصاف اور احتساب کو نظرانداز کیا، تو نہ ہمارا نظام معاف کرے گا اور نہ ہماری بے حسی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ظلم سے بچنے، حق ادا کرنے، غرور و تکبر سے دور رہنے، اور زندگی کو انسانیت، انصاف اور سچائی کے ساتھ گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
✍️ تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی
📧 ای میل: majaamai@gmail.com
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔