ہفتہ، 18 اکتوبر، 2025

آئی لو محمد ﷺ پر مقدمات — یوپی حکومت کے جابرانہ عمل کی سخت مذمت"

بھارت میں ’’آئی لو محمد ﷺ‘‘ جیسے پُرامن مذہبی اظہار پر ریاستی کارروائی نے آزادیٔ اظہار، آئینی حقوق اور اقلیتی شناخت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔


بھارت میں ’’آئی لو محمد ﷺ‘‘ جیسے پُرامن مذہبی اظہار پر ریاستی کارروائی نے آزادیٔ اظہار، مذہبی حقوق اور آئینی بالادستی پر ایک سنجیدہ بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ کالم ہندوتوا کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر، ریاستی ردِعمل اور اقلیتی شہری آزادیوں کے باہمی تعلق کا تحقیقی و تجزیاتی جائزہ پیش کرتا ہے — ایک ایسا سوال جو محض مسلمانوں نہیں بلکہ ہر آئین پسند شہری سے متعلق ہے۔
بھارت کے موجودہ سیاسی ماحول میں بعض واقعات محض وقتی خبریں نہیں رہتے بلکہ وہ ریاست، سماج اور آئین کے باہمی تعلق پر گہرے سوالات چھوڑ جاتے ہیں۔ حالیہ عرصے میں ’’آئی لو محمد ﷺ‘‘ جیسے سادہ مگر پُرامن مذہبی اظہار پر ریاستی ردِعمل بھی اسی نوعیت کا واقعہ ہے، جسے محض انتظامی کارروائی کہہ کر نظرانداز کرنا فکری بددیانتی کے مترادف ہوگا۔ یہ معاملہ کسی ایک نعرے یا چند نوجوانوں تک محدود نہیں، بلکہ اس ذہنیت کا آئینہ ہے جو مذہبی شناخت کو بتدریج ایک مشتبہ وجود میں تبدیل کر رہی ہے۔
یہ تاثر اب محض اقلیتی حلقوں تک محدود نہیں رہا کہ موجودہ سیاسی بیانیہ اکثریتی جذبات کو منظم رکھنے کے لیے ریاستی اداروں کے کردار کو وسعت دے رہا ہے۔ ناقدین بارہا نشاندہی کر چکے ہیں کہ تفتیشی ایجنسیاں، پولیس اور حتیٰ کہ بعض اوقات عدالتی عمل بھی سیاسی فضا سے متاثر دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں سوال یہ نہیں رہتا کہ کوئی نعرہ کتنا اشتعال انگیز ہے، بلکہ اصل سوال یہ بنتا ہے کہ ریاست اپنے آئینی حدود میں رہتے ہوئے عمل کر رہی ہے یا نہیں۔
اسی پس منظر میں مولانا توقیر رضا خان کی گرفتاری محض ایک فرد کے خلاف کارروائی نہیں رہتی بلکہ ایک علامتی واقعہ بن جاتی ہے۔ یہ گرفتاری اس احساس کو تقویت دیتی ہے کہ ریاستی حساسیت اب افراد سے زیادہ افکار اور شناختوں کے گرد گھوم رہی ہے۔ حیرت اس بات پر بھی ہوتی ہے کہ لاکھوں معتقدین اور وسیع سماجی اثر کے باوجود وہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی سامنے نہ آ سکی جو ایسے مواقع پر فطری طور پر متوقع ہوتی ہے، گویا خوف، مصلحت یا داخلی انتشار نے ردِعمل کی قوت کو منجمد کر دیا ہو۔
یہاں مسلم سماج کے اندر پائے جانے والے تضادات مزید نمایاں ہو جاتے ہیں۔ مولانا ہاشمی میاں جیسے بزرگ علما کا بعض مواقع پر ریاستی ایجنسیوں کو داخلی اختلافات کے حل کے لیے خود مدعو کرنا ایک ایسے اعتماد کی علامت ہے جو زمینی حقائق سے کٹا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ بھارت کی موجودہ سیاست میں مسئلہ کسی مخصوص جماعت یا مسلک سے نہیں بلکہ اس شناخت سے ہے جو توحید پر مبنی ایسے تصور کو زندہ رکھتی ہے جو ہر نسلی، اساطیری اور اکثریتی تقدس کو سوالیہ نشان بناتا ہے۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو تصادم کسی فرد یا تنظیم سے نہیں بلکہ اس کلمے سے ہے جو تمام مصنوعی معبودوں کی نفی کرتا ہے۔
اسی دوران مولانا محمود مدنی کی جانب سے تفتیشی ایجنسیوں کے پروفیشنلزم پر اعتماد کا اظہار بھی ایک تلخ سوال چھوڑ جاتا ہے۔ اگر یہی ادارے ’’آئی لو محمد ﷺ‘‘ جیسے بینرز پر مقدمات قائم کر رہے ہوں تو پھر یہ پروفیشنلزم کس اصول پر کھڑا ہے؟ ناقدین کے نزدیک یہ طرزِ عمل اس تعصب کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے قانونی دائرے اور انتظامی زبان میں لپیٹ کر قابلِ قبول بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اتر پردیش میں پیش آنے والے واقعات اسی لیے زیادہ تشویش ناک محسوس ہوتے ہیں۔ آئینی طور پر آزادیٔ اظہار اور مذہبی عقیدت کے پُرامن اظہار کو بنیادی حقوق کا درجہ حاصل ہے، مگر جب ان حقوق کو نظمِ عامہ یا مبہم خدشات کے نام پر محدود کیا جائے تو یہ عمل خود آئینی روح کے منافی ہو جاتا ہے۔ یہاں مسئلہ قانون کی موجودگی کا نہیں، بلکہ اس کے انتخابی اطلاق کا ہے، جو کسی بھی جمہوریت کے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھا جاتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ایسے مواقع پر سماج کی اجتماعی حساسیت بھی امتحان میں پڑ جاتی ہے۔ اکثریتی طبقے کے وہ حلقے جو خود کو سیکولر اور جمہوری اقدار کا علمبردار کہتے ہیں، اکثر یا تو خاموش رہتے ہیں یا معاملے کو محض ’’انتظامی ضرورت‘‘ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ یہی خاموشی آہستہ آہستہ ایک ایسے ماحول کو جنم دیتی ہے جہاں غیر معمولی اقدامات معمول بن جاتے ہیں، اور معمولی زیادتیاں قابلِ قبول۔
یہاں ہندوتوا کو محض ایک ثقافتی شناخت کہہ کر بحث ختم کرنا مسئلے کو سادہ بنانا ہوگا۔ عملی سطح پر یہ ایک ایسا نظریاتی فریم بنتا جا رہا ہے جو قومیت کو مذہبی اکثریت کے ساتھ مشروط کرتا ہے، اور اختلاف یا تنوع کو وفاداری کے سوال میں بدل دیتا ہے۔ اس تناظر میں مذہبی علامات، نعروں اور شناختوں کو ہدف بنانا محض اتفاق نہیں بلکہ ایک بڑے سیاسی و سماجی رجحان کا حصہ محسوس ہوتا ہے۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب ریاستیں شہری آزادیوں کو سلامتی کے نام پر محدود کرنے لگتی ہیں تو وہ دراصل اپنے ہی سماجی تانے بانے کو کمزور کرتی ہیں۔ اسپین ہو یا یورپ کی دیگر مثالیں، انجام ہمیشہ وہی رہا جہاں شناخت کو جرم اور عقیدے کو خطرہ بنا دیا گیا۔ بھارت جیسے کثیرالثقافتی معاشرے میں اس راستے پر چلنا نہ صرف اقلیتوں بلکہ خود جمہوری ڈھانچے کے لیے نقصان دہ ہے۔
اس لیے آج ضرورت کسی جذباتی تصادم کی نہیں بلکہ شعوری بیداری کی ہے۔ ’’آئی لو محمد ﷺ‘‘ جیسے جملے اگر جرم بن سکتے ہیں تو کل کوئی بھی پُرامن عقیدہ یا اختلاف ریاستی شک کے دائرے میں آ سکتا ہے۔ اصل سوال یہی ہے کہ کیا ہم ایک ایسی جمہوریت چاہتے ہیں جہاں محبت، عقیدت اور شناخت کو قانون کی کسوٹی پر پرکھا جائے، یا ایک ایسی ریاست جہاں آئین فرد کے حق میں دیوار بن کر کھڑا ہو۔
یہ معاملہ محض مسلمانوں کا نہیں، بلکہ ہر اس شہری کا ہے جو آئین، آزادی اور ریاستی طاقت کی حدود پر یقین رکھتا ہے۔ خاموشی یہاں غیر جانبداری نہیں، بلکہ آنے والے کل کی پیش بندی ہے۔ اگر محبت کا اظہار جرم بن سکتا ہے، اگر عقیدت ریاستی شک کے دائرے میں آ سکتی ہے، اور اگر خاموشی کو دانش مندی سمجھ لیا جائے — تو پھر سوال یہ نہیں کہ آج ’’آئی لو محمد ﷺ‘‘ نشانے پر ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے:
کل کس کی شناخت، کس کا یقین اور کس کی آزادی ریاستی مہر کی محتاج ہوگی؟
✍️ ممتاز احمد جامعی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔