قوم پرستی نہیں، مسلکی اندھا تعصب — ملت کی جڑوں میں زہر
ہندوستان میں مسلکی تعصب پسند عناصر اپنی ہی ملت کے لیے ہمیشہ ناسور بنتے جا رہے ہیں۔ وہ کبھی اپنے ماضی کے ایام پر محاسبہ نہیں کرتے اور نہ ہی اپنے کیے گئے عمل کی ذمےداری قبول کرتے ہیں، تاکہ مستقبل کے لائحۂ عمل کو اجتماعی اتحاد کے ساتھ وضع کیا جا سکے۔
سوال یہ ہے: کیا تاریخ میں کبھی ایسا ہوا ہے کہ پوری کمیونٹی کے تمام افراد مل کر اپنی ہی قبر خود کھود لیں؟ یقیناً ایسا ممکن نہیں، مگر وقتی اندھی تقلید اور سیاسی مفاد کی خاطر بعض طبقے اپنی قوم کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بنتے چلے آ رہے ہیں۔
میں سوشل میڈیا کے ذریعے ملت کے دو ایسے افراد کو جانتا ہوں جو اپنے معاشرے میں مخلصانہ طور پر منکرات پر نکیر کرتے ہیں — جناب مولانا ذیشان مصباحی اور مولانا ناصر مصباحی رامپوری یہ دونوں حضرات خلوص کے ساتھ اپنی قوم کے مفکر اور خدمت گزار ہیں۔ اپنے علمی و فکری انداز اور تحریر کے اعتبار سے یہ لوگ قابلِ اعتماد ہیں، مگر افسوس کہ اکثر ایسے واضح اور واہیات ویڈیوز کا پوسٹ مارٹم، یعنی تہہ تک جا کر تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے نہیں دکھائی دیتے۔
میں ذاتی طور پر ایسے بیانات پر بلاوجہ ہوا دینا بھی پسند نہیں کرتا، مگر حالات کی سنگینی نے تبصرے پر مجبور کر دیا۔
حالیہ عرصے میں بریلی شہر کی مسلم کمیونٹی کے ہر شعبے کو فرقہ پرست قوتوں نے اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ پوری دنیا میں محترم و باعزت خانوادۂ اعلیٰ حضرت کے چشم و چراغ کو حقارت آمیز انداز میں گرفتار کر کے جیل بھیجا گیا، اور اس پورے واقعے کے خلاف ملک کی اکثریتی جماعت، یعنی بریلوی مکتبِ فکر کی جانب سے نہ تو کوئی مؤثر احتجاج ہوا اور نہ ہی حالات کی سنگینی کو بروقت محسوس کیا گیا۔
اگر حالات کا صحیح ادراک کیا جاتا تو اس کربناک انجام سے بچاؤ ممکن تھا۔
ایسے ہی حالات میں بعض حلقے بے معنی بحثیں چلا کر توجہ ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں — ’’طالبان‘‘ یا ’’دیوبند‘‘ کی لایعنی بحثیں۔
جب اصل مسئلہ اندرونی کمزوری اور فرقہ وارانہ سازشیں ہوں، تو حقائق پسِ منظر میں دب جاتے ہیں۔
کبھی کبھی بے بسی یہ احساس دلاتی ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی سے بھی دو قدم آگے بڑھ کر یہ جماعت اپنی ذہنی پسماندگی میں کیوں گم ہو گئی ہے۔
بھگوا ہندوتوا کے بعض معتقدین اپنی حفاظت اور روزگار سے منہ موڑ کر صرف اس لیے سرکار کی ہر پالیسی کی حمایت کر دیتے ہیں کہ مسلمانوں کو ’’ان کی اوقات‘‘ میں رکھا جا رہا ہے۔
بالکل اسی طرح بریلوی مکتبِ فکر کے بعض زوال پذیر عناصر، فرقہ پرست ایجنسیوں کے ہاتھوں کے کھیل بن کر خود اپنے گھر جلوانے کا سبب بن جاتے ہیں۔
مگر ان کے منافقانہ رویے کا یہ عالم ہے کہ وہ بس ’’دیوبندی، وہابی، کافر‘‘ کا شور مچاتے رہتے ہیں، جب کہ اصل زہر اندر ہی اندر پھیل رہا ہوتا ہے۔
اس منظرنامے میں ہم جیسے لوگ، جو اپنی قوم کے درد سے نا آسودہ ہیں، اکثر محض ماتم کے سوا کچھ کرنے کے قابل نہیں رہتے — مگر اب ماتم اکیلا کفایت نہیں کرتا؛ منظم، بےباک اور قانونی راستہ اختیار کرنا اتحاد و اتفاق کے ساتھ لازمی ہے۔
یہ مضمون سماج کو آئینہ دکھانے کی ایک بےباک آواز ہے۔
اندرونی فرقہ واریت، سیاسی مفادات اور خاموش اکثریت کی بے عملی نے ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں صرف زبان سے درد کا اظہار کافی نہیں۔
اب وقت ہے کہ ہم اپنے مخلص علما، متفکرین اور عوامی نمائندوں کے ساتھ مل کر شواہد اکٹھے کریں، قانونی راہیں کھولیں، اور منظم طور پر اپنے حقوق اور عزتِ انسانی کے لیے آواز اٹھائیں — تاکہ وہ ناسور جو قوم کے اندر پروان چڑھ رہا ہے، اس کا قلع قمع ممکن ہو سکے۔
قلم: قاری ممتاز احمد جامعی
ای میل: majaamai@gmail.com
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔