بابِ ملاقات — پالنپور کے قیمتی چہرے
تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی
شہر پالنپور کے مکمل ایک ماہ کا مسلسل سفر وہ روحانی و بابرکت تیسرے باب کا چل رہا ہے جس میں شریعت میں فقہی مسئلہ ہے کہ اللہ پاک نے اپنے حقوق میں نرمی کر چار رکعات والی نماز میں تخفیف فرما دی، لیکن اس سرزمین پر جہاں بھی قدم رکھا جائے، دل کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ نفلی نماز میں اضافہ ہو۔ مگر چونکہ سفر ایک خاص مقصد اور مقامی اصول کے پابند ہے، اس لیے اسی نظام کے ساتھ آگے بڑھنا ہی بہتر ہے، ورنہ مقامی اصول توڑ کر بدنظمی کے مرتکب ہو کر سفر میں الجھن پیدا کرنا بالکل مناسب نہیں۔
ویسے بھی اصول، نظم و ضبط، اور پوری ملت کو اسلامی معاشرے میں ضم کرنے کی اصل محنت کے سبب ہی یہ سفر ہے۔
خیر، بندہ نے مغرب کی نماز ادا کرنے کے لیے شہر پالنپور سے متصل سانگرا گاؤں کا انتخاب کیا۔ اس کے لیے مسجد نور کے امام العصر حضرت مولانا عرفان منصوری سے رہنمائی کی درخواست کی۔ ماشاءاللہ، مولانا نے دعوت کے ایک مخلص ساتھی، آٹو والے کو ساتھ روانہ کر دیا۔ "امام العصر" کا لقب انہیں بندہ نے ہی دیا، کیونکہ زیادہ بے تکلفی مسجد نور میں انہی سے ہے اور تمام تر سفر کا آخری سرا واپسی میں مسجد نور ہی ہوتا ہے۔
یہاں کے دوسرے مدرس حضرت مولانا عطا الرحمان جامپوری، حضرت مولانا عبد الرشید، اور مسجد کے متولی یونس بھائی سندھی (جن کو "مرفوع القلم" کا لاحقہ لگا ہوا ہے)، نیز دعوت کے ذمہ دار متولی شفیع بھائی — جو منکسرالمزاج اور ہمہ وقت اللہ کی مخلوق کو اللہ کی معرفت دلانے میں کوشاں رہتے ہیں — سب سے محبت و انسیت ہے۔
ان کے ایک عزیز حافظ عبد القدوس صاحب بھی بڑی محبت رکھتے ہیں۔ ماشاءاللہ، حافظ صاحب ایک مسجد کے امام بھی ہیں اور مجلس دعوت الحق میں دفتری امور کی خدمات انجام دیتے ہیں۔
منتخب رہبر مجھے لے کر آٹو میں سانگرا مسجد پہنچے۔ یہاں پرانے لوگوں اور رونق میں کچھ کمی محسوس ہوئی۔ وہ دن یاد آ گیا جب مسجد چھوٹی اور پرانے بزرگ عالم دین حضرت مولانا اسماعیل سانگرا حیات تھے۔ ان کے وصال کے بعد جب بھی گیا، اس پررونق ماحول میں کمی محسوس ہوئی۔ نمازیوں کی تعداد بھی، باعتبار آبادی، کم نظر آئی۔ یہاں اتفاق سے پرانے مخلص دوست خالد بھائی سے ملاقات ہوئی۔
بعد مغرب، رہبر نے علی گڑھ عشاء کے لیے پہنچایا، جہاں پہلے سے منتظر تھے ہدایت اللہ بھائی کڑیوال، جو دو روز قبل ہی عمرہ کے مبارک سفر سے لوٹے تھے۔ ان کے گھر پر ملاقات اور رات کے کھانے سے فراغت کے بعد پرانے دوست مولانا وصی اللہ صاحب سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن عشاء کا وقت قریب تھا، اس لیے مسجد پہنچ گئے۔ عشاء کے بعد مسجد نور واپس آ گئے۔
اگلے روز چھاپی و اطراف کا دورہ طے تھا۔ وہاں عبد الواحد بھائی کڑیوال اور حنیف بھائی سانگرا والے سے ان کے دفتر میں ملاقات ہوئی۔ یہ دونوں شخصیات مثالی مشترکہ معاشی نظام رکھتی ہیں اور چھاپی و اطراف کے اکثر کاروباری لوگوں کے مالی حساب کتاب اور آڈٹ رپورٹ کی خدمات انجام دیتے ہیں، اس وجہ سے عام و خاص میں مقبول ہیں۔
اس موقع پر ایک خاص میزبان، حضرت مولانا محمد صاحب امام مدنی مسجد چھاپی ہائی وے بھی اپنی محبت و تواضع کے ساتھ شریک رہے، جن کی خوش اخلاقی اور دینی جذبہ اس ملاقات کو مزید بابرکت بنا گیا۔
اس مبارک اور بابرکت سفر کی یہ قسط اگرچہ اپنے ایک مرحلے پر پہنچ چکی ہے، مگر دل میں اب بھی کچھ مقامات اور عزیز احباب سے ملاقات کی تڑپ باقی ہے۔ خاص طور پر یہ خواہش ہے کہ اگلی منزل میں یونس بھائی سانگرہ والے، چھاپی، حضرت مولانا شبیر احمد قاسمی — کرنالہ والے، کرشنپورہ، مولانا اسحاق صاحب — کالیڑہ والے، کرشنپورہ، اور مدرسہ حنفیہ، کرشنپورہ کے دیگر مخلص مدرسین کی زیارت ہو۔
اسی طرح حضرت مولانا شفیق صاحب امام و خطیب مسجد علی گنج پورہ، یاسین بھائی — امبیتھا والے، شعبہ گجرات پولیس میں خدمات انجام دینے والے، حضرت مولانا مجیب صاحب مولیپوری استاد حدیث مدرسہ سلم العلوم، کالیڑہ، اور جناب محمد طیب باقی صاحب — وسنگر سے ملاقات کا شرف حاصل ہو۔
یہ سب حضرات اپنی علمی، دعوتی اور خدمتِ دین کی مساعی میں نمایاں ہیں اور ان سے ملنے کی تمنا قلب میں موجزن ہے۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ اس سفر کو ہر پریشانی اور رکاوٹ سے محفوظ فرما کر تمام مقاصد کے ساتھ مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہر ملاقات کو خیر و برکت کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔