ہفتہ، 18 اکتوبر، 2025

علاقہ پالنپور — دارالسلام کی خوشبو سے معطر

 علاقہ پالنپور — دارالسلام کی خوشبو سے معطر


پالنپور صدیوں سے علم و دین کا گہوارہ رہا ہے۔ یہاں کے مدارس نے نہ صرف گجرات بلکہ پورے ملک میں قرآن و سنت کی روشنی عام کی ہے۔ ان میں سرفہرست اور ام المدارس کا درجہ رکھنے والا مدرسہ اسلامیہ عربیہ مجلسِ دعوت الحق، پالنپور ہے، جو کئی دہائیوں سے علمی و دینی خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس کے ساتھ دارالعلوم چھاپی، جامعہ نذیریہ کاکوسی اور دیگر ادارے علاقے کی دینی غیرت اور علمی روایت کے مضبوط ستون ہیں۔ مذہبی اجتماعات، اذان کی گونج، اور علما کی مجلسیں یہاں کے معاشرتی دھڑکن میں شامل ہیں، جنہوں نے شہر کو ایک منفرد روحانی شناخت دی ہے۔


اس سال کا سفر تین اگست 2025 سے شروع ہوا، اور ارادہ یہ تھا کہ بستی بستی جا کر نماز ادا کی جائے، اور ساتھ ساتھ دینی اداروں کے لیے تعاون کی راہیں ہموار کی جائیں۔ یہ سفر محض سیاحت نہ تھا، بلکہ ایک ماہ پر محیط ایک مسلسل دینی ذمہ داری کا سلسلہ تھا، جس میں مقاصد کا مرکز اور محور پالنپور کا دینی ماحول اور یہاں کے علما و دینی اداروں سے تعلق قائم رکھنا تھا۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی پالنپور میں قدم رکھتے ہی سب سے پہلے جن کی خدمت میں حاضری ہوئی، وہ مولانا عارف کھریاسنوی (بسو والے) تھے۔ گویا میرے لیے پالنپور میں داخل ہونے کا پہلا زینہ یہی درِ ملاقات ہوتا ہے۔ وہ بردبار، حلیم اور متین طبیعت کے مالک ہیں۔ صوبہ بہار کے مدارس کو اس علاقے میں مالی تعاون فراہم کرنے کے لیے تصدیق نامہ جاری کرنے کی ذمہ داری ان کے سپرد ہے، جو وہ نہایت اصول پسندی اور دیانتداری سے ادا کرتے ہیں۔ ان کی بردباری کا یہ عالم ہے کہ اگر کوئی بے اصولی سے پیش آئے تو بھی وہ مسکرا کر اپنے حسنِ خلق سے جواب دیتے ہیں، اور اپنے اخلاقی وقار سے ماحول کو خوشگوار بنا دیتے ہیں۔


یہاں کے مذہبی دعوتی مجالس اور معاشرت میں اسلامی شعائر کو دیکھ کر دل بے اختیار اپنے علاقے کے ماحول سے موازنہ کرنے لگتا ہے۔ پالنپور کے مسلم معاشرے میں دینی اعمال و اخلاق کا ایسا رنگ ہے کہ اکثر یہ داعیہ پیدا ہوتا ہے کہ کاش میرا علاقہ بھی اسی کے مثل ہوتا۔ حالیہ دنوں میں متعدد کہنہ مشق اساتذہ، نطما، اہلِ ثروت اور مخیر حضرات سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا اور ان کی دعائیں سمیٹنے کا موقع ملا۔ ان میں خاص طور پر حضرت مولانا عبدالرشید صاحب، مہتمم دارالعلوم چھاپی، جو صوفی صفت بزرگ اور عالمِ دین ہیں۔ جمعہ کی نماز سے قبل ان سے مختصر ملاقات ہوئی۔ مولانا اسامہ بن عبدالرشید، مدرس فتح گڑھ، ایک خوش طبع اور ملنسار شخصیت کے مالک ہیں۔ مولانا سعید اور مولانا سفیان، مدرسین دارالعلوم چھاپی، نے اپنے اخلاص اور شفقت سے یادگار لمحات دیے۔ مولانا الیاس صاحب ماہی اور مولانا محمد بن مولانا ہارون صاحب سے بھی ملاقات رہی۔


مولانا ہارون صاحب ایک کامیاب ہیروں کے تاجر ہیں، مگر حقیقت میں اصل ہیرے تو ان کے صاحبزادے ہیں، جو اپنے والد کے تمام نیک اوصاف سے مزین ہیں۔ اس سال اگرچہ مصروفیات کی وجہ سے مولانا ہارون سے طویل ملاقات ممکن نہ ہو سکی، مگر اپنے حسنِ اخلاق اور حسنِ تدبیر سے انہوں نے پرتکلف عشائیہ کا اہتمام کیا، جو ان کے ذوقِ مہمان نوازی کا آئینہ دار تھا۔


یہ سفر اب بھی جاری ہے، اور بستی بستی جا کر ایک ایک فرض نماز ادا کرنے، مقاصدِ سفر کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے اور یہاں کے علما و صلحا کے خلوص و نیک نیتی کو قریب سے دیکھنے کا سلسلہ بدستور چل رہا ہے۔ ہر ملاقات ایک نیا جذبہ، ہر دعا ایک نئی توانائی اور ہر دن اس اطمینان کا سبب ہے کہ قدم دارالسلام کی مٹی پر ہیں۔


تحریر۔ قاری ممتاز احمد جامعی 

جنرل سکریٹری الامداد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ سمستی پور بہار

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔