ہفتہ، 18 اکتوبر، 2025

مجادر کی ایک یادگار شب

 مجادر کی ایک یادگار شب


(سفرنامہ کی جھلک — ۲۰ اگست ۲۰۲۵، بروز بدھ)


علاقہ پالنپور کے چھاپی حلقے کا کثیر آبادی والا گاؤں مجادر میں نمازِ مغرب و عشاء کی ترتیب تقریباً پندرہ روز قبل ہی طے ہو چکی تھی، اور اس کا ذکر طے ہونے کے فوراً بعد ہی جناب عبدالواحد کڑیوال اور حنیف بھائی سانگرا والے کے درمیان ہو گیا تھا۔


۲۰ اگست کی علی الصبح عبدالواحد صاحب کا فون آیا کہ:

"آج آپ کی مغرب و عشاء مجادر کی ترتیب ہے نہ؟"


یہ سن کر مجھے بے حد خوشی ہوئی۔ میں نے عرض کیا:

"اسی ترتیبِ خاص کے لیے ہی تو دو ہزار کلو میٹر دور بہار، سمستی پور سے حاضری ہوئی ہے۔"


انہوں نے مزید فرمایا کہ عشائیہ کا انتظام میرے ذمے ہے، آپ گاؤں والوں کو منع کر دیں اور میرا نام دے دیں۔ چنانچہ کھانے کا مکمل نظم ہو گیا۔


وقت پر وہاں پہنچ کر ایسا ہی کیا گیا۔ نمازِ مغرب مسجد اقصیٰ میں ادا کی، جہاں امام صاحب نے بغیر درخواست کے ہی بعد نماز اعلانِ تعاون فرما دیا۔ پھر وہاں سے فارغ ہوکر بازار آیا۔ طبیعت نے چائے اور پان کا تقاضا کیا اور ساتھ ہی دواؤں کی بھی ضرورت تھی، لیکن ہر ایک نے پیسے لینے سے انکار کر دیا۔ بتایا گیا کہ پورے علاقے میں اکثر سفرائے کرام کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اور ان کے چائے یا پان کے تقاضے پر کوئی پیسے نہیں لیتا۔ یہ ایک ایسی روایت ہے جو ہمارے علاقے میں خال خال ہی نظر آتی ہے۔


پھر نمازِ عشاء کے لیے جامع مسجد حاضر ہوا۔ مولانا اسلم صاحب علاد نے خوش دلی سے استقبال کیا۔ ان کی مسکراہٹ معنی خیز ہوا کرتی ہے کیونکہ انہیں تمام سفراء کے مزاج کو سمجھنے اور سنبھالنے کا وسیع تجربہ ہے۔ انہی کی امامت میں نماز ادا کی۔ نماز کے بعد دونوں اصل میزبان آدھمکے۔ ان کے ساتھ دو قابلِ احترام مقامی علما بھی تھے جو گاؤں میں تدریس کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ چنانچہ چاروں صاحبان نے مجھے ہمراہ لیا اور عبدالواحد بھائی کے دولت کدہ پر پہنچے۔


وہاں پرتکلف عشائیہ کا انتظام تھا۔ دورانِ طعام چاروں صاحبان اپنی مادری زبان گجراتی میں باہمی مذاکرہ میں مصروف رہے۔ بندہ نے حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے اس اسوہ پر عمل کیا کہ مہمان جب دسترخوان پر ہو تو سارا ذہن کھانے پر مرکوز رکھے، لہذا گفتگو کے بجائے ذہن کو نعمتوں پر لگائے رکھا۔ الحمدللہ شکم سیر ہوکر فارغ ہوا۔ اس کے بعد آئس کریم کا دور چلا اور ہلکی پھلکی تعلیمی گفتگو بھی ہوئی، جس سے دل خوش ہوا۔


اسی موقع پر نوجوان فاضل، مولانا محسن صاحب (فارغ التحصیل دارالعلوم چھاپی) نے نہایت مسرت بخش اطلاع دی کہ گاؤں میں مکاتبِ دینیہ کے ساتھ ساتھ ایک منظم اور مضبوط نظامِ تعلیم بھی قائم ہے۔ یہ نظام خاص طور پر ان طلبہ کے لیے بنایا گیا ہے جو عصری تعلیم سے وابستہ ہیں۔ ان کے لیے پانچ سالہ عالمیت کا نصاب مرتب کیا گیا ہے، اور الحمدللہ اس کے اب تک کے نتائج نہایت حوصلہ افزا ہیں۔


مولانا نے اپنی کارگزاری کے طور پر بتایا کہ وہ خود اسی نظام میں تدریس کی خدمت انجام دیتے ہیں اور طلبہ کی دلچسپی و لگن دیکھ کر امید کی جاتی ہے کہ مستقبل میں جب یہ نوجوان عصری تعلیم کے بدولت اعلیٰ اداروں اور معزز عہدوں تک پہنچیں گے تو ان کے سینے علومِ شرعیہ کی روشنی سے بھی منور ہوں گے۔ یوں ایک ایسی نئی نسل تیار ہوگی جو دنیاوی اعتبار سے بھی باوقار ہوگی اور دینی اعتبار سے بھی رشتۂ نسبت کو برقرار رکھے گی۔ یہ سن کر دل کو بےحد اطمینان اور قلبی مسرت حاصل ہوئی کہ اس خطے میں دین و دنیا کی حسین امتزاج کے ساتھ ایک کامیاب تجربہ جاری ہے۔


آخر میں تقریباً رات گئے چاروں صاحبان، بطورِ اکرام، مجھے اپنی سواری پر لے کر پالنپور مسجدِ نور پہنچا کر رخصت ہوئے۔ دل سے دعا نکلی کہ اللہ پاک انہیں جزائے خیر عطا فرمائے، اور علماءِ دین سے ان کے دلی لگاؤ کے صدقے ان کی نسلوں میں تا قیامت دین باقی رکھے۔ آمین۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔