ہفتہ، 18 اکتوبر، 2025

مکاتبِ دینیہ اور وقت کا ضیاع

 مکاتبِ دینیہ اور وقت کا ضیاع


بچوں کی عمر اور نصابِ دینیات سے مطابقت


مدارس و مکاتب کا اصل مقصد صرف عبارت خوانی یا دینیات کی چند کتابوں کی تدریس نہیں ہونا چاہیے، بلکہ نئی نسل کو فہم و فراست، موقع و محل کا شعور، حالاتِ حاضرہ کی سوجھ بوجھ اور کم از کم متعلقہ ماخذ تک رجوع کرنے کی صلاحیت دینا نہایت ضروری ہے۔ علم کو محض پڑھانے تک محدود رکھنا کافی نہیں، بلکہ اس پر عمل کو یقینی بنانا وقت کا سب سے اہم تقاضا ہے۔ افسوس کہ اکثر اداروں میں اساتذہ ہی نہیں بلکہ ذمہ داران اور مہتممین بھی وقت کی نزاکت کو سمجھنے میں کوتاہی کرتے ہیں جس کے نتیجے میں معصوم طلبہ اور والدین نقصان اٹھاتے ہیں۔ بعض جگہ تو یہ بھی دیکھا گیا کہ پورے سال طلبہ دارالاقامہ میں مقیم رہے لیکن اسکولی نصاب کے اعتبار سے کسی درجہ میں ان کا اندراج ہی نہیں کیا گیا، جس سے قیمتی وقت ضائع ہوگیا۔ حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ دینیات کے ساتھ ساتھ اسکولی تعلیم کم از کم دسویں جماعت (10th) تک لازمی اور یقینی بنائی جائے، تاکہ ہر طالب علم کا بنیادی مستقبل محفوظ ہو۔ اس کے بعد طلبہ کو اپنی اہلیت اور رجحان کے مطابق دو راستوں میں اختیار دیا جائے: یا تو وہ کالج کے ذریعے عصری تعلیم کی تکمیل کریں، یا پھر درسِ نظامی کے ذریعے دینی تعلیم کے میدان میں آگے بڑھیں۔ یہ طریقہ نہ صرف طلبہ کا وقت بچائے گا بلکہ والدین کو بھی اطمینان ہوگا اور اداروں کی ساکھ مضبوط ہوگی۔ اگر ہم نے وقت اور تعلیم کی اہمیت کو نظر انداز کیا تو یہ قوم زمانے کے ساتھ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گی۔ اس لیے وقت کی نزاکت کو سمجھنا، نصاب و نظام کو مضبوط بنانا، اور نئی نسل کو بامقصد و بامعرفت تعلیم دینا ہم سب کی اولین ذمہ داری ہے۔


تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔