امارتِ شرعیہ: امت کی امانت، یا اقتدار کی جاگیر؟
(ایک کھلا خط بہار، جھارکھنڈ، بنگال، اڑیسہ کے علما و مشائخ کے نام)
تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی
امارتِ شرعیہ، بہار، جھارکھنڈ، بنگال، اڑیسہ کا وہ باوقار، دینی، ملی اور سماجی ادارہ ہے، جس نے ان خطوں میں شریعت کی روشنی، سماجی قیادت، تعلیمی رہنمائی اور ملی مرکزیت کا کام انجام دیا ہے۔ یہ ادارہ محض ایک تنظیم نہیں، ایک تحریک ہے، ایک تاریخ ہے، ایک اعتماد ہے—جسے حضرت مولانا ابو المحاسن سجادؒ جیسے عبقری بزرگ نے خونِ جگر سے سینچا، اور بعد میں مولانا منت اللہ رحمانیؒ، قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ، مولانا نظام الدینؒ، اور آخر میں مولانا ولی رحمانیؒ جیسے باکمال اہلِ علم و عمل نے امت کی کشتی کو گردابوں سے نکالا۔
لیکن آج!
یہی امارت... اقتدار کی رسہ کشی، ادارے پر قبضے اور ذاتی مفاد پرستی کا میدان بن چکی ہے۔ امت کے جذبات، ادارے کا وقار، امارت کا اعتماد—سب کچھ گروہی انا کی بھینٹ چڑھ رہا ہے۔ اور ہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
حالیہ جلسے اور "اربابِ حل و عقد" کے بیانات، جن میں "اتحاد" کی بات تو کی گئی، لیکن حقیقت میں وہ صرف اقتدار کی مشقیں اور الزامات کا تبادلہ زیادہ محسوس ہوئے۔
ایک گروپ نے دوسرے پر مالی غبن، خرد برد، عہدے کے ذریعے سرکاری مراعات کے ذاتی مفاد میں حصول اور ادارے کے وسائل کے ناجائز استعمال جیسے سنگین الزامات عائد کیے، جبکہ جواب میں دوسرا گروہ خود کو وارثِ شرعی، امینِ ملت اور عوامی تائید کا نمائندہ ثابت کرنے میں مصروف رہا۔
ایسا لگتا ہے جیسے دونوں گروہ امارت کو امت کی امانت نہیں بلکہ اپنی سیاسی جاگیر سمجھ بیٹھے ہیں۔
ورنہ اگر وہ واقعی مخلص ہوتے، تو سوال یہ ہے:
کیا وہ ملت کی امانت کو اپنی ذات پر ترجیح دے سکتے تھے؟
کیا وہ دونوں بیک وقت پیچھے ہٹ کر امت کو نئی راہ دکھانے کے لیے تیار ہوتے؟
کیا وہ اس عظیم ادارے کے وقار کو گروہی انا سے بلند سمجھتے?
آج ہم بہار، جھارکھنڈ، بنگال، اڑیسہ کے تمام
اکابر علما، مشائخِ عظام، مدارسِ اسلامیہ کے مہتممین، شیوخ الحدیث، بزرگ مفتیانِ کرام اور ملی رہنماؤں سے درد مندانہ، لیکن واضح اپیل کرتے ہیں:
اب خاموشی جرم ہے!
اگر آپ واقعی امارت کو حضرت سجادؒ، حضرت منت اللہؒ، حضرت ولیؒ کی امانت سمجھتے ہیں، تو اب آپ کو سامنے آنا ہوگا!
اب صرف “دعا کریں” کافی نہیں، اب کردار ادا کرنے کا وقت ہے۔
ہم پوچھتے ہیں:
کیا واقعی امت کی مائیں بانجھ ہو چکی ہیں کہ ان دو انتہاؤں کے سوا کوئی صالح، باوقار، دیانت دار، غیر جانبدار قیادت ممکن نہیں؟
کیا وقت نہیں آ گیا کہ دونوں گروہ بیک وقت دستبردار ہو کر میدان کسی تیسرے اہل، متفق علیہ شخص کے لیے خالی کریں؟
کیا ہم اداروں کو افراد کے سائے سے نکال کر اصول کے سائے میں لانے کا حوصلہ نہیں رکھتے؟
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایک آزاد، غیر جانب دار، وسیع البنیاد مشاورتی اجلاس بلایا جائے،
جس میں صرف وہ علما، مشائخ، اکابر اور نمائندہ اربابِ مدارس شریک ہوں جو کسی بھی فریق سے وابستہ نہ ہوں، اور جن کی دیانت و غیر جانب داری مسلم ہو۔
یہ اجلاس ہی آئندہ کے لائحۂ عمل، کسی نئی متفق علیہ قیادت اور ادارے کے آئینی استحکام کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
ورنہ اگر ہم خاموش رہے، تو تاریخ ہمارے ساتھ بھی وہی سلوک کرے گی جو قومی و ملی غفلت کے مجرموں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
امارت شرعیہ کسی فرد کی جاگیر نہیں،
یہ امت کی امانت ہے،
اور امانت، صرف اہل کے سپرد ہونی چاہیے۔
والسلام
قاری ممتاز احمد جامعی
(خادمِ دین و ملت)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔