ہفتہ، 18 اکتوبر، 2025

دعوت، نسبت اور نسبتوں کی سرزمین: پالنپور کا ایک بابرکت سفر

 دعوت، نسبت اور نسبتوں کی سرزمین: پالنپور کا ایک بابرکت سفر


تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی


ان دنوں بندہ الامداد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے تحت جاری مکاتب و مدارس کی مالی استحکام اور دعوتی بیداری کے مقدس مقصد سے گجرات کے معروف اور دینی تاریخ سے معمور شہر پالنپور کے سفر پر ہے۔ یہ سفر بظاہر چند ملاقاتوں اور تعاون کی ترغیب پر مشتمل تھا، مگر حقیقت میں یہ میرے دل و روح کو تازگی بخشنے والا ایک روحانی انکشاف بن گیا۔


پالنپور نہ صرف گجرات بلکہ برصغیر کی دینی تاریخ میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ کبھی یہاں شیعہ مسلک کے نواب حکمران ہوا کرتے تھے، مگر اسی سرزمین پر سب سے پہلے حضرت پیر محمد مشائخؒ نے توحید و رسالت کی صدائے حق بلند کی۔ پھر کشمیری صوفی بزرگ حضرت مولانا نذیرؒ نے اپنے سفر کو موقوف کر کے یہاں قیام فرمایا اور اس دعوتی انقلاب کی بنیاد رکھی جس نے ایک پورے شہر کی روح بدل دی۔ انہی کی مسند دعوت کو بعد میں حضرت مولانا عمر پالنپوریؒ نے اپنے علم و اخلاص سے عالمگیر پیغام میں تبدیل کر دیا۔


یہ میری سعادت رہی کہ مجھے اس عظیم خطے کی کچھ بزرگ ہستیوں کی زیارت، ملاقات اور یادگاروں سے روحانی انسیت کا موقع ملا۔ ان میں خصوصیت سے:


حضرت مولانا غلام رسول خاموشؒ (سابق مہتمم، دارالعلوم دیوبند)


حضرت مولانا عبد القیومؒ (مجلسِ دعوت الحق، پالنپور)


حضرت مولانا آدم صاحب مجادرؒ


حضرت مولانا اسماعیل سیوانیؒ


حضرت مولانا عبد الرزاقؒ کمالپوری بھاگل


اور علمِ حدیث کے آفتاب، حضرت مفتی سعید احمد پالنپوریؒ — جن کے علمی فیضان سے ایک عالم نے سیرابی حاصل کی۔



پالنپور کے موجودہ علمی و روحانی ماحول میں حضرت مولانا عبد القدوس ندوی دامت برکاتہم کی علمی رفعت، زہد و تقویٰ، اور دل نشین شخصیت کا گہرا اثر محسوس ہوا۔ اسی طرح حضرت مولانا عبد الرشید صاحب بسوی دامت برکاتہم جیسی عبقری ہستیوں کی قربت نے سفر کو مزید نورانی بنا دیا۔


اس بابرکت سفر کی ایک خاص جھلک اس وقت سامنے آئی جب چھاپی میں ظہر کی نماز کے بعد میرے پرانے ہم مقصد، ہم وطن اور مخلص رفیق مولانا عبد المتین مدھوبنی (فارغ دیوبند) سے ملاقات ہوئی۔ چونکہ ہم دونوں ایک ہی مشن کے تحت سرگرمِ سفر تھے، اس لیے مشورہ ہوا کہ آج ہم ساتھ کمالپور چلیں اور وہیں قیام کریں تاکہ دعوتی و تعلیمی تعاون کے امکانات پر گفتگو کی جا سکے۔


شام کو کمالپور کی ہی ذیلی بستی نذیر پورہ کی بری مسجد میں مغرب کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد ایک مقامی ساتھی نے بائک پر بیٹھا کر مجھے کمالپور کی جامع مسجد پہنچا دیا، جہاں اتفاقاً آج کا دن "گشت" کا مقرر تھا۔


یہاں اللہ نے مجھے ایک نایاب موقع عنایت فرمایا — مقامی عالم حضرت مولانا اشرف صاحب کمالپوری کا ولولہ انگیز بیان سننے کا۔ موصوف حضرت مولانا عبد الرزاقؒ کے فرزند اور ۱۹۹۵ کے فارغِ دیوبند ہیں۔ ان کا خطاب دعوتِ توحید و رسالت اور سیرتِ نبوی ﷺ پر ایسا پراثر، رواں اور بلیغ تھا کہ پوری مجلس محویت کا مجسمہ بن گئی۔


خاص طور پر نبوت سے قبل نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے واقعات کو اس دلنشیں انداز میں بیان فرمایا کہ ایسا محسوس ہونے لگا گویا ہم ایک تازہ واقعے کا مشاہدہ کر رہے ہیں، نہ کہ صدیوں پرانی سیرت کا تذکرہ۔

حضور ﷺ کی ولادت، حضرت حلیمہ سعدیہؓ کی گود، عبدالمطلب و ابوطالب کی سرپرستی، اور حضرت خدیجہؓ کے ساتھ تجارتی معاہدہ سے نکاح تک کا بیان ایسا مرتب، متوازن اور جذبات سے لبریز تھا کہ سامعین پلک جھپکنا بھی بھول گئے۔


چونکہ وقت مغرب تا اذانِ عشاء تک محدود تھا، اس لیے مولانا نے نبوت کے بعد والے حصے کو مؤخر کرتے ہوئے مجلس کو دعوتی رخ پر ختم کیا — جیسا کہ گشت کی روح ہے۔


آخر میں صرف اتنا عرض کروں گا:


پالنپور صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ نسبتوں، دعوتوں اور روحانی مجاہدوں کی وہ مبارک سرزمین ہے جو آج بھی دینی بیداری، ایمانی حرارت اور اسلامی تشخص کا علم تھامے ہوئے ہے۔


اللہ تعالیٰ اس علاقے کو سلامت رکھے، اس کی دعوتی فضاؤں کو ثبات عطا فرمائے، اور ہم جیسے راہِ دین کے مسافروں کو ان نسبتوں سے دائمی فیض عطا کرے۔

آمین ثم آمین۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔