ہفتہ، 18 اکتوبر، 2025

امتِ مسلمہ اور کھویا ہوا وقار

 امتِ مسلمہ اور کھویا ہوا وقار


تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالیں تو ہمیں بار بار یہ سبق ملتا ہے کہ جب مسلمان حکمران عدل، غیرت اور دین پر مضبوطی سے قائم تھے، دنیا ان کے نام سے لرزتی تھی۔ ایک واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ روم کے بادشاہ کے دربار میں ایک مومن کو رسوا کیا گیا، تو وہ مظلوم بے ساختہ پکار اٹھا: “اے اللہ! امیرالمؤمنین سعد بن ابی وقاصؓ سے حساب لینا، یہ رسوائی کا!” دربار میں موجود ایک جاسوس نے یہ خبر مدینہ پہنچا دی۔ حضرت سعدؓ نے پورے خلافتی نظام کو حرکت میں ڈال دیا، اور اس عیسائی کو گرفتار کر کے مدینہ لایا گیا۔ پھر اس مومن کو دربار میں حاضر کیا اور فرمایا: “یہ تیرا حق ہے، بدلہ لے اور اپنی عزت بحال کر۔” یہ عدل کا وہ معیار تھا کہ ایک عام مومن کی عزت کو پورے خلافتی اقتدار پر مقدم سمجھا گیا۔


اسی طرح خلافتِ راشدہ کے بعد بھی اسلامی غیرت کا یہ حال تھا کہ امیر معاویہؓ اور حضرت علیؓ کے درمیان جب سیاسی اختلافات تھے، تب بھی سرحدوں پر دشمن کی حرکت پر نظر رکھی جاتی تھی۔ ایک موقع پر روم کے عیسائی حکمران نے سوچا کہ یہ موقع ہے، اندرونی اختلافات کے وقت حملہ کر دینا چاہیے۔ جب یہ خبر پہنچی تو امیر معاویہؓ نے صاف کہہ دیا: “اے دشمن! یہ نہ سمجھ کہ ہم اپنے اختلافات میں اتنے مصروف ہیں کہ تجھے بھول گئے ہیں۔ اگر تو نے ایسی جرات کی تو علیؓ کی فوج سے پہلے معاویہؓ کا لشکر تجھے کچل ڈالے گا۔” یہ اعلان دشمن کے لیے پیغام تھا کہ مسلمانوں کے آپسی اختلافات کبھی بھی ان کی سرحدی غیرت اور دینی حمیت کے آڑے نہیں آسکتے۔


یہ تھے وہ دن جب امتِ مسلمہ باوقار تھی۔ یہی وجہ تھی کہ شاعر نے کہا:

وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر

تم خوار ہوئے تارکِ قرآن ہو کر


لیکن آج منظر بالکل الٹا ہے۔ امت کے مختلف خطے لہو لہان ہیں: فلسطین میں نسل کشی جاری ہے، کشمیر کا مسئلہ دہائیوں سے حل طلب ہے، ایغور مظلومیت سہہ رہے ہیں، اور امتِ مسلمہ کے اربابِ اقتدار صرف مذمتی بیانات پر اکتفا کر رہے ہیں۔ ایٹمی قوت سے لیس مسلم ملک پاکستان بھی فلسطینیوں کے دفاع میں عملی طور پر بے بس معلوم ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں “گلوبل صمود فلوٹیلا” کے نام سے ایک قافلہ، جس میں 40 ممالک کے نمائندے شامل تھے، غزہ کی انسانی امداد کے لیے روانہ ہوا۔ اسرائیلی افواج نے نہ صرف اس قافلے کو روکا بلکہ تمام شرکاء کو گرفتار کر لیا، جن میں پاکستان کے سینیٹر جناب مشتاق احمد خان بھی شامل تھے۔ اپنے ہی منتخب نمائندے کی گرفتاری پر بھی اگر ایک ایٹمی قوت محض تماشائی بنی رہے تو سوال یہ ہے کہ وہ عالمی سطح پر امتِ مسلمہ کے حق میں کیا عملی اقدام اٹھا پائے گی؟


ہمیں ماضی قریب کی مثالیں بھی یاد رکھنی چاہئیں۔ بھارت میں محض ۲ فیصد آبادی رکھنے والی گوجر برادری نے اپنے مطالبات کے لیے ریلوے نظام کو مفلوج کر دیا، حکومت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئی اور اس کے نمائندے ٹریک پر آکر بات کرنے پر راضی ہوئے۔ اسی طرح ۲ فیصد سکھ برادری نے اپنی محنت و اتحاد سے دنیا بھر میں اپنی شناخت اور اثر قائم کر لیا۔ سوال یہ ہے کہ ۲۵ کروڑ مسلمان صرف بھارت میں بستے ہیں اور دنیا میں ۵۶ مسلم ممالک موجود ہیں، جن میں ایک ایٹمی طاقت بھی ہے، اس کے باوجود ہماری اجتماعی حیثیت اتنی کمزور کیوں ہے کہ ایک ظالم اور کمزور قوم بھی ہمیں گاجر مولی کی طرح کاٹ رہی ہے؟


یہ ذلت دراصل ہماری دین بیزاری، عیش پرستی اور باہمی بکھراؤ کا نتیجہ ہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کو ہمیشہ غیبی مدد عطا فرمائی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب مسلمان قرآن و سنت کے ساتھ جڑے، عدل اور غیرت پر قائم ہوئے، تو بڑے سے بڑا دشمن بھی ان کے سامنے ٹک نہ سکا۔ لیکن جب ہم نے قرآن کو چھوڑا اور دنیاوی مفاد کو مقصدِ حیات بنا لیا، تو ہماری آواز، ہماری حیثیت اور ہماری طاقت سب کچھ بے وقعت ہوگئی۔


آج امتِ مسلمہ کے ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق کردار ادا کرے۔ اگر حکمران بے بس یا مفاد پرست ہیں تو عوام کم از کم زبان اور قلم سے ظلم کے خلاف آواز بلند کریں۔ اگر ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہیں تو زبان سے بولیں، اور اگر زبان سے بھی نہیں تو دل میں برا جانے، مگر بے حسی اختیار نہ کریں۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“جو شخص کسی برائی کو دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل میں برا جانے — اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔”


تاریخ ہمیں دیکھ رہی ہے۔ سوال یہی ہے کہ ہم امتِ محمدیہ ﷺ کی تاریخ میں کس درجے پر اپنا نام درج کروانا چاہتے ہیں: غیرت مند اور باوقار یا خاموش اور رسوا؟


یقین جانیے! امت کا کھویا ہوا وقار کسی کانفرنس، کسی قرارداد یا کسی حکمران کے بیان سے واپس نہیں آئے گا، بلکہ یہ تب لوٹے گا جب ہر مسلمان قرآن کو اپنی زندگی کا مرکز بنائے گا، اپنے اخلاق کو محمدی ﷺ سانچے میں ڈھالے گا، اور اتحاد و غیرت کو اپنی پہچان بنا لے گا۔ وقت آگیا ہے کہ ہم دوسروں کو دیکھنے کے بجائے اپنی ذات سے آغاز

کریں، کیونکہ امت کی عزت ہر فرد کے کردار سے جڑی ہے۔ آج اگر ہم نے قدم نہ اٹھایا تو کل ہماری اولاد بھی یہی سوال کرے گی: “جب امت کا وقار پامال ہورہا تھا، تم کہاں تھے؟”

قاری ممتاز احمد جامعی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔