ہفتہ، 18 اکتوبر، 2025

قدیم شہر وڈنگر سے گزر اور مولی پور کی پررونق فضا میں یک شب قیام

 قدیم شہر وڈنگر سے گزر اور مولی پور کی پررونق فضا میں یک شب قیام


تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی


سفر کے تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے ہم کل ایک ایسے شہر میں داخل ہوئے جسے حال ہی میں دنیا بھر میں شہرت ملی ہے۔ یہ پہلے سے میرے علم میں تھا کہ اس شہر کا نام بڑی تیزی سے عروج پا رہا ہے، اور ہر خاص و عام میں اس کی نسبت ایک مشہور زمانہ شخصیت — پھیکو جملہ باز — کی وجہ سے زبان زد خاص و عام ہے۔ بعض اہلِ علم کے یہاں یہ لفظ بدل بھی جاتا ہے، مگر حقیقت یہی ہے کہ آج یہ شہر اسی نام سے پہچانا جاتا ہے۔


ویسے تو ہر سال اس شہر سے میرا گزر ہوتا رہا، لیکن کل ایک اہم انکشاف ہوا کہ یہ شہر نیا نہیں بلکہ اطراف کے تمام شہروں سے قدیم ہے، البتہ پٹن شہر کے بعد۔ قبلِ اسلام کے تقریباً پانچ سو سال پرانا یہ شہر، جو ضلع مہسانہ کے تحت ہے، وسنگر کے قریب وڈنگر اپنی قدامت اور تاریخی پس منظر کے باوجود عروج کو ایک متشدد اور فرقہ پرست ذہنیت رکھنے والے شخص کی وجہ سے ہی پہنچا۔ یہ تاریخ کا ایک عجیب المیہ اور باعثِ افسوس ہے کہ صدیوں پر محیط علمی و تہذیبی ورثہ پس منظر میں چلا گیا، اور آج اس کی پہچان ایک وقتی اور منفی نسبت کے سہارے قائم ہے۔


یہ تاریخی پہلو مقامی معمر بزرگ — جو فاضلِ دیوبند بھی تھے — کی زبانی معلوم ہوا۔ وہاں سے میرا اگلا پڑاؤ مومن قوم کی بستی مولی پور میں ہوا۔ یہاں پہلے سے منتظر تھے حضرت مولانا مجیب الرحمن صاحب قاسمی (استادِ حدیث، مدرسہ سلم العلوم، کالیڑہ) کہ جن کا آبائی وطن یہی مولی پور ہے۔ بعد نمازِ عشاء اپنے ادارے کے تعاون کے اعلان کا موقع بھی ملا۔ الحمدللہ، اس بستی کے سب سے قدیم بزرگ استاد، حضرت مولانا عبد الصمد صاحب نے نہایت دلجوئی فرمائی۔ معلوم ہوا کہ وہ اس قدر قدیم استاد ہیں کہ تیسری پیڑھی کے بھی ابھی تک فعال استاد شمار ہوتے ہیں۔ یہ حالِ زمانہ میں ایک عجیب و نادر چیز ہے۔


یہ بات بھی باعثِ رشک ہے کہ اس علاقے کے کئی علما کرام نے اپنی ابتدائی عمر سے لے کر آخر دم تک ایک ہی بستی میں علم و تدریس کی خدمت انجام دی۔ یہ نہ صرف قابلِ تقلید ہے بلکہ آئندہ کے نوجوان فضلا کے لیے بھی ایک اہم نکتہ ہے۔ یہاں اس حقیقت کی طرف اشارہ ضروری ہے کہ "فضلا" کا مفہوم اور اصطلاح وقت کے ساتھ بدلتی رہی ہے۔ شاید اسی لیے ماضی میں علما کے نزدیک فضلا کی تعریف کچھ اور تھی اور آج کے دور میں اس کے معنی مختلف ہیں۔


اسی گفتگو کے دوران تعاونِ مدارس کا موضوع بھی آیا۔ یہاں کے انداز اور اطرافِ پالنپور کے رویے میں خاص فرق پایا جاتا ہے۔ وہاں کے بستی کے ذمہ داران اپنی ذمہ داری سے بچنے کے لیے ایک مخصوص طریقہ اختیار کرتے ہیں، جب کہ اطرافِ پالنپور کے مشہور گاؤں جیسے بھاگل اور مجادر میں مدارس کو مختلف جہتوں سے ہر مسجد میں ہر سفیر کے لیے موقع دیا جاتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ مولی پور کی اس روش کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ یہ بستی دیگر مومن قوم کی بستیوں سے خاصی دوری پر واقع ہے اور یہاں کے ذمہ داران کا باقی علاقوں کے ذمہ داران کے ساتھ اس موضوع پر مذاکرات نہ ہوتے ہوں۔


یہاں قیام کے بعد اپنے مخلص قدیم دوست جناب حاجی طیب باقی صاحب کے ہاں وسنگر جانا ہوا۔ جناب طیب باقی صاحب اسم بامسمیٰ ہیں۔ ان کے نام کی وجہ تسمیہ بھی بڑی تاریخی ہے۔ ایک موقع پر انہوں نے خود بتایا کہ ان کے شہر میں مشہور داعی اسلام اور مہتممِ دارالعلوم دیوبند، حضرت قاری طیب صاحب رحمہ اللہ کی آمد ہوئی۔ اسی دن ان کی ولادت ہوئی، تو والدین نے عقیدت کے ساتھ نام طیب رکھا۔ اللہ پاک نے نام کی نسبت سے ہی ان میں صفاتِ حمیدہ عطا فرما دیں۔


اللہ پاک سے دعا ہے کہ یہ سفر خیر و عافیت کے ساتھ جاری رہے، ہر منزل کو کامیابی اور برکت کا ذریعہ بنائے، اور ہر ملاقات کو دین و ایمان کی تازگی عطا کرنے والی بنا دے۔ آمین یا رب العالمین۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔