MUMTAZ AHMED JAMAEE ایک فکری و معلوماتی بلاگ ہے جو دینی و اسلامی نظریات، بھارتی سیاسی و سماجی حالات، اور تہذیبی مباحث کو صحافتی زاویے سے پیش کرتا ہے۔ یہاں ہر تحریر علم، تحقیق اور اعتدال پر مبنی ہے — مقصد ہے قارئین میں فکری بیداری، مثبت سوچ اور ذمہ دارانہ شعور کو فروغ دینا۔
یہ کوئی عام تصویر نہیں… یہ ڈھائی دہائیوں پر پھیلی ہوئی ایک ایسی خاموش داستان ہے جس کے ہر ورق پر صبر کا لہو، آزمائش کی تپش اور بے لوث محبت کی ٹھنڈی چھاؤں ثبت ہے۔ ہمارے نسب کی پہلی اولاد، محمد ساریہ، جب اس دنیا میں آیا تو اس کی معصوم کلکاریوں نے صرف ایک گھر نہیں بلکہ دو خاندانوں کی دھڑکنوں کو ایک لڑی میں پرو دیا، آنگن خوشیوں سے مہک اٹھا، چہروں پر روشنی اتر آئی، اور دل شکر کے سجدوں میں جھک گئے… مگر جیسے وقت نے حسرتوں پر نظر ڈال دی ہو، یہ بہار زیادہ دیر نہ ٹھہر سکی۔ ابھی مسکراہٹیں پوری طرح پھیل بھی نہ پائی تھیں کہ ڈاکٹروں کے بے رحم اور سرد جملوں نے امیدوں کی شاخیں کاٹ دیں—کہ یہ بچہ چند سانسوں کا مہمان ہے، کسی نے چار سال، کسی نے سات سال کی حد کھینچ دی۔
مگر اصل امتحان تو تب شروع ہوا جب ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک نئی بیماری، ایک نیا اندیشہ، ایک نیا زخم سامنے آتا گیا… کوئی کہتا دماغ اپنی پوری صلاحیت سے محروم ہے، کوئی کہتا یہ قدموں پر کھڑا ہونا تو دور، حرکت کی بھی قوت نہ پا سکے گا—یوں ہر خبر دل کے نہاں خانوں میں ایک اور دراڑ ڈالتی گئی، ہر امید ٹوٹ کر آنکھوں میں نمی بن کر اترتی رہی۔ انہی آزمائشوں کے درمیان ایک اور ایسا زخم لگا جس نے اس کہانی کو اور بھی گہرا کر دیا… بچے کی ماں، جو اس کی پہلی پناہ، پہلی دعا اور پہلی محبت تھی، ولادت کے چند ہی برسوں بعد اپنی قلیل سانسیں پوری کر کے رب کے حضور لوٹ گئی… یوں یہ معصوم سایۂ مادر کی ٹھنڈی چھاؤں سے بھی محروم ہو گیا۔
لیکن انہی ٹوٹتی ہوئی امیدوں کے ملبے تلے اللہ نے ایسا صبر عطا کیا جو پہاڑوں سے بھی بلند نکلا… گھر والوں نے اس آزمائش کو بوجھ نہیں، اپنی قسمت کی سعادت سمجھ لیا۔ دربھنگہ کی گلیوں سے لے کر پٹنہ کے دروازوں تک، دہلی کی بھیڑ سے ممبئی کے شور تک، ہر ممکن علاج کی تلاش میں قدم قدم پر امید کو زندہ رکھا گیا… اور اس کٹھن سفر میں سب سے آگے اس بچے کے دادا اور دادی رہے، جنہوں نے اپنے بڑھاپے کو آرام نہیں بلکہ خدمت کی عبادت میں ڈھال دیا، اپنے ہر لمحے کو اس بچے کی سانسوں کے ساتھ باندھ دیا۔ بستر پر اس کی ہر ضرورت، ہر اذیت، ہر لمحے کی بے بسی کو اپنے دل پر لے لیا گیا، نہ کبھی لبوں پر شکوہ آیا، نہ پیشانی پر تھکن کا سایہ—صرف خاموشی سے بہتی ہوئی محبت، جو عبادت بن چکی تھی، اور قربانی، جو زندگی کا مقصد ٹھہری۔
پھر وقت نے ایک اور کڑی آزمائش پیش کی… دادا کا سایہ بھی اٹھ گیا، اور ان کے جانے کے بعد دادی کی ضعیفی نے انہیں اس بوجھ کو مزید اٹھانے کے قابل نہ چھوڑا… یوں یہ کہانی ایک اور موڑ پر آ کھڑی ہوئی۔ اب یہ بچہ اپنی سوتیلی ماں اور دیگر بھائی بہنوں کے حصار میں ہے، جہاں اپنی اپنی بساط کے مطابق سب اس کی خدمت اور دیکھ بھال کو اپنی ذمہ داری اور سعادت سمجھ رہے ہیں۔
اور آج… وہی بچہ، جس کے لیے وقت نے چند سالوں کی مہلت لکھی تھی، اللہ کے بے پایاں کرم سے چوبیس سال مکمل کر کے پچیسویں برس کی دہلیز پر کھڑا ہے—کمزوریوں کے حصار میں سہی، مگر زندہ، سانس لیتا ہوا، اپنے وجود سے صبر کی ایک ایسی لازوال تفسیر بن کر جو لفظوں میں قید نہیں ہو سکتی۔ یہ صرف ایک زندگی کی بقا نہیں، یہ ایمان کی فتح ہے، یہ ٹوٹتی دعاؤں کے دوبارہ جڑنے کا معجزہ ہے، یہ اس محبت کا صلہ ہے جو برسوں سے بغیر کسی غرض کے اس کے گرد حصار بنائے کھڑی ہے… اور اب آگے کیا لکھا ہے، کتنی سانسیں ابھی باقی ہیں، یہ راز صرف ربِ کائنات کے علم میں ہے—مگر جو کچھ بیت چکا، وہی ایک ایسی داستان بن چکا ہے جو دل کو چیر کر آنسوؤں میں بہا دیتا ہے اور روح کو جھکا کر سجدۂ شکر پر مجبور کر دیتا ہے۔
بنگال کی سیاست میں وائرل ویڈیو، مبینہ سودے بازی اور اویسی برادران پر اٹھتے سوالات—ایک جامع اور تنقیدی تجزیہ۔
ذیل میں وہ وائرل ویڈیو ملاحظہ کریں
آج کل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو نے بنگال کے سیاسی ماحول میں غیر معمولی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ اس ویڈیو میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ہمایوں کبیر نے تقریباً ایک ہزار کروڑ روپے کے بدلے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ کوئی خفیہ معاملہ طے کیا تاکہ بنگال میں اس کی جیت یقینی بنائی جا سکے۔ اگرچہ اس دعوے کی سچائی اپنی جگہ تحقیق طلب ہے، لیکن اس نے عوام کے ذہنوں میں سیاست دانوں کی نیت، دیانت اور کردار پر سنگین سوالات ضرور کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اس نوعیت کے الزامات سامنے آئے ہوں، مگر اس بار معاملہ اس لیے زیادہ حساس ہو گیا ہے کہ یہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عوام پہلے ہی سیاسی وعدوں اور حقیقت کے درمیان فرق کو لے کر بدظن ہو چکی ہے۔ مگر اب سوال صرف ایک ویڈیو کا نہیں رہا، بلکہ پورے سیاسی نظام کی ساکھ اور شفافیت کٹہرے میں کھڑی نظر آ رہی ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اگر ایک نسبتاً معمولی سطح کا رہنما اتنی بڑی رقم پر “خرید” لیا جا سکتا ہے، تو پھر بڑے سیاسی چہروں کے بارے میں عوام کیا رائے قائم کریں؟ کیا سیاست واقعی نظریات کی جنگ ہے یا محض سرمایہ اور سودے بازی کا کھیل بن چکی ہے؟ اسی تناظر میں بعض حلقوں کی جانب سے اسد الدین اویسی اور ان کے بھائی اکبر الدین اویسی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ ماضی میں اویسی صاحب نے عمرہ کے موقع پر بڑے پُرعزم انداز میں بی جے پی سے کسی بھی قسم کے ساز باز کی سختی سے تردید کی تھی۔ عوام کے ذہن میں اب یہ تضاد کھل کر سامنے آ رہا ہے کہ ایک طرف واضح تردیدیں اور قسمیں، اور دوسری طرف ایسے حالات و روابط کی خبریں—یہ سب مل کر اعتماد کے بحران کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ اب یہی تضاد عوام کے ذہن میں سب سے بڑا سوال بن کر ابھر رہا ہے کہ آخر سچ کیا ہے اور پردے کے پیچھے کیا کھیل چل رہا ہے؟
اب جبکہ ہمایوں کبیر کے ساتھ ان کے ممکنہ سیاسی روابط یا اتحاد کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، تو شکوک و شبہات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ عوام کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو رہا ہے کہ اصل حقیقت کیا ہے اور کس پر یقین کیا جائے۔ نتیجتاً سیاست پر اعتماد کمزور ہوتا جا رہا ہے، اور یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ اقتدار کی سیاست میں اصول، دعوے اور حتیٰ کہ مذہبی جذبات بھی وقتی مفادات کے تابع ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف سیاسی نظام کے لیے خطرہ ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی اور عوامی شعور کے لیے بھی ایک سنجیدہ چیلنج ہے۔ یہ محض ایک الزام نہیں، بلکہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں موجودہ سیاست کا چہرہ صاف دکھائی دینے لگا ہے۔
اسی تناظر میں اویسی برادران، خصوصاً اسد الدین اویسی، ایک بار پھر بحث کے مرکز میں ہیں۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ وہ ایک باصلاحیت مقرر، قانون داں اور تجربہ کار سیاست دان ہیں، جن کی ذہانت کے معترف مخالفین بھی ہیں۔ مگر ان کا مخصوص طرزِ تکلم اور بعض اوقات جارحانہ بیانیہ انہیں مسلسل شکوک کے دائرے میں رکھتا ہے۔ یہی صلاحیت جب جذباتی اور تیز لہجے کے ساتھ سامنے آتی ہے تو سوالات اور بھی سنگین ہو جاتے ہیں۔ کیا یہ طرزِ تکلم واقعی ملت کی رہنمائی ہے یا محض ایک ایسا سیاسی ہتھیار جس کے ذریعے جذبات کو بھڑکا کر ووٹ سمیٹے جاتے ہیں؟ ان کے ناقدین کا ماننا ہے کہ ان کے بیانات میں خلوص سے زیادہ سیاسی حکمت عملی کارفرما ہوتی ہے، اور یہ اعتراض اب پہلے سے کہیں زیادہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
تازہ ویڈیو کے بعد یہ شکوک مزید گہرے ہونے کا اندیشہ ہے، بلکہ عوام کے ایک طبقے کے نزدیک یہ شبہ یقین میں بھی بدل سکتا ہے۔ اب اصل امتحان اویسی برادران کے لیے یہ ہے کہ وہ اپنے حامیوں اور ناقدین دونوں کو کس طرح مطمئن کرتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا محض وضاحتیں اور بیانات اس دراڑ کو بھر سکیں گے جو اعتماد میں پڑ چکی ہے؟ یا پھر یہ معاملہ بھی وقت کے ساتھ دب تو جائے گا مگر عوام کے ذہن میں ایک مستقل شکوک کی شکل اختیار کر لے گا؟ لیکن ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ عام عوام کی بڑی تعداد سیاسی فہم، بصیرت اور گہرے تجزیے کی صلاحیت سے محروم ہوتی ہے، جس کے باعث اکثر نااہل یا متنازع چہرے بھی اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جذباتی نعروں اور وقتی بیانیوں کے ذریعے عوامی رائے کو متاثر کرنا آسان ہو جاتا ہے، جبکہ حقیقت پسندی اور سنجیدہ تجزیہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔
اسی پس منظر میں معروف صحافی و اسلامی اسکالر مولانا عبد الحمید نعمانی نے ایک نہایت اہم نکتہ اٹھایا کہ اویسی صاحب جو بیانات حیدرآباد میں دیتے ہیں، کیا وہ پورے ہندوستان کے زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر دیے جاتے ہیں؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ ہندوستان محض چند بڑے شہروں کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا ملک ہے جہاں بے شمار مقامات پر مسلمان اقلیت میں نہایت نازک حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ وہاں ایک غلط یا جذباتی بیان کے اثرات کہیں زیادہ شدید ہو سکتے ہیں، جس کا اندازہ شاید بڑے سیاسی پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر لگانا آسان نہیں ہوتا۔ ہندوستان محض حیدرآباد نہیں ہے؛ یہ حقیقت جتنی سادہ ہے اتنی ہی نظر انداز کی جاتی ہے۔
یہاں ایک اور بنیادی سوال پوری شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے: ایک تعلیم یافتہ بیرسٹر اور خاندانی سیاسی پس منظر رکھنے والا لیڈر جب مسلم اکثریتی علاقوں میں جارحانہ بیانیہ اپناتا ہے، تو کیا وہ ان علاقوں کو بھی دیکھتا ہے جہاں چند مسلم گھرانے اکثریتی برادری کے درمیان خوف اور احتیاط کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں؟ خاص طور پر ایسے وقت میں جب راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) جیسی تنظیمیں نظریاتی طور پر مضبوط اور فعال ہیں، اور ملک کا ماحول پہلے ہی حساس اور کشیدہ ہے۔ ایسے حالات میں ذمہ دارانہ زبان اور متوازن حکمت عملی کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے، مگر بدقسمتی سے یہی پہلو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
مزید برآں، یہ بھی غور طلب ہے کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں کسی بھی ویڈیو یا بیان کا اثر محض ایک علاقے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ وہ پورے ملک بلکہ عالمی سطح تک پہنچ جاتا ہے۔ ایسے میں سیاسی شخصیات کی ذمہ داری کئی گنا بڑھ جاتی ہے کہ وہ نہ صرف اپنے الفاظ بلکہ اپنے روابط اور فیصلوں میں بھی شفافیت اور سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ مگر افسوس یہ ہے کہ اکثر مواقع پر سنجیدگی، احتیاط اور دیانت کی جگہ جذباتی بیانیہ اور وقتی فائدہ غالب آ جاتا ہے، جس کا خمیازہ پورا سماج بھگتتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ افواہیں، شبہات اور پروپیگنڈہ حقیقت پر غالب آ جاتے ہیں، اور عوام سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کرنے میں مزید الجھ جاتے ہیں۔
ان تمام حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ موجودہ حالات میں اویسی صاحب کے لیے اہلِ علم اور باشعور طبقے کو مطمئن کرنا آسان نہیں ہوگا، خاص طور پر اس وقت جب شکوک کو تقویت دینے والی ایسی ویڈیوز عوام کے درمیان گردش کر رہی ہوں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنے سیاسی بیانیے، عملی اقدامات اور واضح مؤقف کے ذریعے اس اعتماد کو بحال کر پاتے ہیں یا نہیں—ورنہ یہ بداعتمادی صرف ایک فرد یا جماعت تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے جمہوری نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی، اور اس کا نقصان پورے سماج کو بھگتنا پڑے گا۔