یہ کوئی عام تصویر نہیں… یہ ڈھائی دہائیوں پر پھیلی ہوئی ایک ایسی خاموش داستان ہے جس کے ہر ورق پر صبر کا لہو، آزمائش کی تپش اور بے لوث محبت کی ٹھنڈی چھاؤں ثبت ہے۔ ہمارے نسب کی پہلی اولاد، محمد ساریہ، جب اس دنیا میں آیا تو اس کی معصوم کلکاریوں نے صرف ایک گھر نہیں بلکہ دو خاندانوں کی دھڑکنوں کو ایک لڑی میں پرو دیا، آنگن خوشیوں سے مہک اٹھا، چہروں پر روشنی اتر آئی، اور دل شکر کے سجدوں میں جھک گئے… مگر جیسے وقت نے حسرتوں پر نظر ڈال دی ہو، یہ بہار زیادہ دیر نہ ٹھہر سکی۔ ابھی مسکراہٹیں پوری طرح پھیل بھی نہ پائی تھیں کہ ڈاکٹروں کے بے رحم اور سرد جملوں نے امیدوں کی شاخیں کاٹ دیں—کہ یہ بچہ چند سانسوں کا مہمان ہے، کسی نے چار سال، کسی نے سات سال کی حد کھینچ دی۔
مگر اصل امتحان تو تب شروع ہوا جب ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک نئی بیماری، ایک نیا اندیشہ، ایک نیا زخم سامنے آتا گیا… کوئی کہتا دماغ اپنی پوری صلاحیت سے محروم ہے، کوئی کہتا یہ قدموں پر کھڑا ہونا تو دور، حرکت کی بھی قوت نہ پا سکے گا—یوں ہر خبر دل کے نہاں خانوں میں ایک اور دراڑ ڈالتی گئی، ہر امید ٹوٹ کر آنکھوں میں نمی بن کر اترتی رہی۔ انہی آزمائشوں کے درمیان ایک اور ایسا زخم لگا جس نے اس کہانی کو اور بھی گہرا کر دیا… بچے کی ماں، جو اس کی پہلی پناہ، پہلی دعا اور پہلی محبت تھی، ولادت کے چند ہی برسوں بعد اپنی قلیل سانسیں پوری کر کے رب کے حضور لوٹ گئی… یوں یہ معصوم سایۂ مادر کی ٹھنڈی چھاؤں سے بھی محروم ہو گیا۔
لیکن انہی ٹوٹتی ہوئی امیدوں کے ملبے تلے اللہ نے ایسا صبر عطا کیا جو پہاڑوں سے بھی بلند نکلا… گھر والوں نے اس آزمائش کو بوجھ نہیں، اپنی قسمت کی سعادت سمجھ لیا۔ دربھنگہ کی گلیوں سے لے کر پٹنہ کے دروازوں تک، دہلی کی بھیڑ سے ممبئی کے شور تک، ہر ممکن علاج کی تلاش میں قدم قدم پر امید کو زندہ رکھا گیا… اور اس کٹھن سفر میں سب سے آگے اس بچے کے دادا اور دادی رہے، جنہوں نے اپنے بڑھاپے کو آرام نہیں بلکہ خدمت کی عبادت میں ڈھال دیا، اپنے ہر لمحے کو اس بچے کی سانسوں کے ساتھ باندھ دیا۔ بستر پر اس کی ہر ضرورت، ہر اذیت، ہر لمحے کی بے بسی کو اپنے دل پر لے لیا گیا، نہ کبھی لبوں پر شکوہ آیا، نہ پیشانی پر تھکن کا سایہ—صرف خاموشی سے بہتی ہوئی محبت، جو عبادت بن چکی تھی، اور قربانی، جو زندگی کا مقصد ٹھہری۔
پھر وقت نے ایک اور کڑی آزمائش پیش کی… دادا کا سایہ بھی اٹھ گیا، اور ان کے جانے کے بعد دادی کی ضعیفی نے انہیں اس بوجھ کو مزید اٹھانے کے قابل نہ چھوڑا… یوں یہ کہانی ایک اور موڑ پر آ کھڑی ہوئی۔ اب یہ بچہ اپنی سوتیلی ماں اور دیگر بھائی بہنوں کے حصار میں ہے، جہاں اپنی اپنی بساط کے مطابق سب اس کی خدمت اور دیکھ بھال کو اپنی ذمہ داری اور سعادت سمجھ رہے ہیں۔
اور آج… وہی بچہ، جس کے لیے وقت نے چند سالوں کی مہلت لکھی تھی، اللہ کے بے پایاں کرم سے چوبیس سال مکمل کر کے پچیسویں برس کی دہلیز پر کھڑا ہے—کمزوریوں کے حصار میں سہی، مگر زندہ، سانس لیتا ہوا، اپنے وجود سے صبر کی ایک ایسی لازوال تفسیر بن کر جو لفظوں میں قید نہیں ہو سکتی۔ یہ صرف ایک زندگی کی بقا نہیں، یہ ایمان کی فتح ہے، یہ ٹوٹتی دعاؤں کے دوبارہ جڑنے کا معجزہ ہے، یہ اس محبت کا صلہ ہے جو برسوں سے بغیر کسی غرض کے اس کے گرد حصار بنائے کھڑی ہے… اور اب آگے کیا لکھا ہے، کتنی سانسیں ابھی باقی ہیں، یہ راز صرف ربِ کائنات کے علم میں ہے—مگر جو کچھ بیت چکا، وہی ایک ایسی داستان بن چکا ہے جو دل کو چیر کر آنسوؤں میں بہا دیتا ہے اور روح کو جھکا کر سجدۂ شکر پر مجبور کر دیتا ہے۔
قاری ممتاز احمد جامعی

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔