جمعہ، 1 مئی، 2026

بکھرتا خاندانی نظام اور ہماری سماجی حقیقت

 بکھرتا خاندانی نظام اور ہماری سماجی حقیقت

سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں ایک تصویر بہت تیزی سے وائرل ہوئی، جس میں تین بھائی ایک ہی گھر کے اندر دیواریں کھڑی کرکے الگ الگ زندگی گزارنے پر مجبور نظر آتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک معمولی گھریلو اختلاف معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ہمارے سماج کے بکھرتے ہوئے خاندانی نظام کی نہایت گہری اور تشویشناک علامت ہے۔ یہ منظر اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ہمارا معاشرہ اندرونی طور پر کس قدر انتشار، بے اعتمادی اور خود غرضی کا شکار ہو چکا ہے، جہاں رشتے محض نام کے رہ گئے ہیں اور دلوں کی دوریاں دیواروں کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔

کبھی یہی خاندانی نظام محبت، ایثار، قربانی اور باہمی تعاون کا حسین نمونہ ہوا کرتا تھا۔ بزرگوں کا احترام، بھائیوں میں اخوت، اور بہنوں کی عزت اس کی بنیادیں تھیں۔ لیکن آج یہی نظام اپنی اصل روح سے خالی ہوتا جا رہا ہے۔ عام تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ یورپی معاشرہ خاندانی نظام سے محروم ہے اور وہاں شادی بیاہ کی کوئی خاص حیثیت نہیں، جبکہ ہندوستانی معاشرہ اس معاملے میں مضبوط ہے۔ مگر حقیقت کا گہرا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا یہ مضبوط نظر آنے والا نظام اندر سے کمزور، غیر متوازن اور کئی طرح کی ناانصافیوں سے بھرا ہوا ہے۔

برصغیر، خصوصاً ہندوستانی معاشرہ، ہندوانہ تہذیب کے زیر اثر ایک ایسے مشترکہ خاندانی ڈھانچے کو اپنائے ہوئے ہے جس میں بظاہر اتحاد ہے، لیکن عملی طور پر یہ اکثر استحصال کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ مسلم سوسائٹی بھی اسی تہذیبی اثر سے محفوظ نہ رہ سکی، حالانکہ اسلام نے ایک نہایت متوازن، منصفانہ اور واضح خاندانی نظام پیش کیا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں ہر فرد کی ذمہ داری اور حق متعین ہے، مگر ہم نے ان اصولوں کو پس پشت ڈال کر غیر اسلامی رسوم و رواج کو ترجیح دے دی۔

مشترکہ خاندانی نظام میں سب سے بڑا بوجھ عموماً بڑے بیٹے کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ وہ اپنی جوانی، محنت اور کمائی کو والدین، چھوٹے بہن بھائیوں کی کفالت، ان کی تعلیم و تربیت، اور خصوصاً بہنوں کی شادی جیسے اہم مراحل میں صرف کر دیتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنی بیوی بچوں کی ضروریات کو بھی قربان کر کے خاندان کا سہارا بنا رہتا ہے۔ دوسری طرف، ہندوانہ رسم و رواج سے متاثر ہو کر بیٹیوں کو تعلیم کے ساتھ بھاری جہیز اور نقدی دے کر رخصت کیا جاتا ہے، جو بذاتِ خود ایک غیر اسلامی بوجھ ہے، مگر اس کے باوجود وہ وراثت میں اپنے شرعی حق کی بھی حقدار رہتی ہیں۔

مزید پیچیدگی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب والد اپنی زندگی میں جائیداد اپنے نام پر رکھتے ہوئے بڑے بیٹے کی کمائی سے اثاثے بناتے رہتے ہیں، لیکن وفات کے بعد وہی جائیداد تمام اولاد میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ اس تقسیم میں وہ افراد بھی برابر کے شریک بن جاتے ہیں جنہوں نے نہ اس جائیداد کے بنانے میں کوئی کردار ادا کیا ہوتا ہے اور نہ ہی خاندانی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھایا ہوتا ہے۔ نتیجتاً وہ بڑا بیٹا، جو پورے خاندان کی بنیاد تھا، خود مالی تنگی اور محرومی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی احساسِ ناانصافی رفتہ رفتہ اختلافات، جھگڑوں اور پھر مکمل علیحدگی کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

اسلام اس کے برعکس ایک نہایت متوازن نظام پیش کرتا ہے، جہاں بچے بلوغت تک والدین کی کفالت میں رہتے ہیں، مگر اس کے بعد ہر فرد اپنی ذمہ داری خود سنبھالتا ہے۔ شادی کے بعد ایک الگ اور خودمختار خاندانی یونٹ قائم کرنا اسلامی مزاج کا حصہ ہے، جبکہ وراثت کا نظام اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ایک منصفانہ تقسیم ہے۔ اسلام نہ اندھا مشترکہ نظام تھوپتا ہے اور نہ ہی بے لگام انفرادیت کی اجازت دیتا ہے، بلکہ ایک ایسا اعتدال قائم کرتا ہے جس میں حقوق اور ذمہ داریاں واضح اور متوازن ہوں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جذبات، رسم و رواج اور معاشرتی دباؤ سے اوپر اٹھ کر اپنے خاندانی نظام کا ازسرنو جائزہ لیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یک طرفہ قربانی دراصل ناانصافی کو جنم دیتی ہے، حد سے بڑھی ہوئی ذمہ داری بوجھ بن جاتی ہے، اور انصاف سے خالی رشتے زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتے۔ سوشل میڈیا پر وائرل یہ تصویر محض تین بھائیوں کی کہانی نہیں، بلکہ ہمارے پورے معاشرے کا آئینہ ہے۔ اگر ہم نے اب بھی اصلاح کی سنجیدہ کوشش نہ کی تو یہ دراڑیں مزید گہری ہوں گی، اور خاندانی نظام صرف ایک یادگار بن کر رہ جائے گا۔


اصلاح کا آغاز ہمیں اپنے گھروں سے، اپنے طرزِ فکر سے، اور اپنی ترجیحات سے کرنا ہوگا۔ اگر ہم نے انصاف، توازن اور دینی اصولوں کو بنیاد نہ بنایا تو یہ دیواریں صرف گھروں تک محدود نہیں رہیں گی، بلکہ دلوں کے درمیان ہمیشہ کے لیے حائل ہو جائیں گی۔

✍️ قاری ممتاز احمد جامعی

📧 majaamai@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔