اتوار، 17 مئی، 2026

زندگی ہی میں حساب صاف ہو جائے

 زندگی ہی میں حساب صاف ہو جائے

انسانی زندگی تعلقات، معاملات، حقوق اور ذمہ داریوں کا مجموعہ ہے۔ انسان چاہے کتنی ہی احتیاط کیوں نہ کرے، زندگی کے سفر میں کبھی نہ کبھی کسی سے کوتاہی، دل آزاری یا حق تلفی کا اندیشہ باقی رہتا ہے۔ خصوصاً دینی، تعلیمی اور سماجی مصروفیات رکھنے والا شخص بے شمار افراد سے جڑا ہوتا ہے، اس لیے احتسابِ نفس اور حقوق العباد کی فکر اور بھی ضروری ہوجاتی ہے۔

زیرِ نظر تحریر کسی رسمی اعلان، مایوسی یا غیر معمولی کیفیت کا اظہار نہیں، بلکہ ایک دینی، اخلاقی اور انسانی احساسِ ذمہ داری کے تحت لکھی گئی چند گزارشات ہیں، تاکہ حتی الامکان معاملات زندگی ہی میں صاف ہو جائیں، معافی طلب کر لی جائے، اور بعد میں وارثین یا متعلقین کسی غیر ضروری الجھن کا شکار نہ ہوں۔

اسی جذبے کے تحت یہ مختصر “عام معافی نامہ” پیش ہے۔


عام معافی نامہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للہ وحدہ، والصلوٰۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ۔

میں، قاری ممتاز احمد جامعی ولد محمد مستقیم مرحوم، ساکن: کرہوا برہیتا، کلیانپور، سمستی پور، بہار — نہایت عاجزی، احساسِ ذمہ داری اور فکرِ آخرت کے ساتھ یہ عام معافی نامہ تحریر کر رہا ہوں۔

زندگی کے مختلف مراحل میں، دینی، تعلیمی، سماجی اور شخصی مصروفیات کے دوران، اگر مجھ سے دانستہ یا نادانستہ، قول و عمل، برتاؤ، لین دین یا کسی بھی معاملے میں کسی فرد کی حق تلفی، دل آزاری یا کوتاہی ہوئی ہو تو میں اللہ تعالیٰ کے بعد تمام متعلقین سے دلی معافی کا طلبگار ہوں۔

جن حضرات کے میرے ذمہ کسی بھی نوعیت کے مالی، اخلاقی یا شخصی حقوق، مطالبات یا معاملات باقی ہوں، ان سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ حتی الامکان میری زندگی ہی میں براہِ راست مجھ سے رجوع فرما لیں تاکہ معاملات صاف اور واضح ہو جائیں، اور بعد میں کسی قسم کی الجھن یا پریشانی باقی نہ رہے۔ میری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ کسی کا حق اپنے ذمہ باقی نہ رکھوں، اور بظاہر وقتِ تحریر میرے علم و یادداشت کے مطابق کسی کا کوئی مالی حق میرے ذمہ باقی نہیں ہے۔ تاہم انسانی بھول یا غفلت کا امکان بہرحال موجود رہتا ہے، اس لیے اگر کسی کا کوئی حق یا دعویٰ ہو تو وہ بلا تکلف مجھ سے رجوع کر لے۔

خصوصاً اہلِ تعلق، عزیز و اقارب، بھائی، بہن، بھتیجوں اور قریبی رشتہ داروں سے بھی درخواست ہے کہ اگر کسی نوعیت کا کوئی معاملہ یا شبہ ہو تو اسے میری زندگی ہی میں واضح فرما لیں تاکہ بعد میں میرے وارثین کسی غیر ضروری پریشانی، سوال یا دباؤ کا شکار نہ ہوں۔

البتہ اپنے اساتذۂ کرام، مشفقین، مخلص دوستوں، معاونین اور متعلقین کے علمی، دینی، اخلاقی اور دعائیہ احسانات کا میں تہہِ دل سے معترف ہوں، جن کا حقیقی بدل یا مکمل حق ادا کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی ان حضرات کو بہترین جزا عطا فرمائے اور ان کی محبتوں، دعاؤں اور شفقتوں کو میرے لیے سرمایۂ آخرت بنائے۔

اگر کسی وجہ سے میری وفات، ملاقات یا ادائیگی سے پہلے ہو جائے تو میں تمام متعلقین سے امید کرتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے معاف فرما دیں اور میرے وارثین کو کسی قسم کی غیر ضروری پریشانی یا باز پرس میں مبتلا نہ کریں۔

اسی لیے میری خواہش اور گزارش ہے کہ جنازہ یا تعزیتی مواقع پر رائج رسمی اعلانات — جیسے:

“اگر میت پر کسی کا حق ہو تو وارثین سے رجوع کریں” — کو محض رسمی طور پر دہرانے کے بجائے اصل توجہ زندگی ہی میں معاملات کی صفائی، حقوق کی ادائیگی اور باہمی معافی پر رکھی جائے، کیونکہ میرے نزدیک حقوق العباد کی ادائیگی کا اصل محل انسان کی زندگی ہی ہے۔

میں اللہ رب العزت سے عاجزانہ دعا کرتا ہوں کہ وہ میری لغزشوں، کوتاہیوں اور خطاؤں کو معاف فرمائے، میرے اخلاص کو قبول فرمائے، حسنِ خاتمہ نصیب فرمائے، اور ہم سب کو حقوق العباد صحیح طور پر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔

خاکسار

قاری ممتاز احمد جامعی

تاریخ: ___۱۷ / ۵ / ۲۰۲۶

ذی قعدہ ۲۹ / ۱۴۴۷

بروز اتوار 

majaamai@gmail.com 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔