بدھ، 24 جون، 2026

حضرت مولانا قاری رشید احمد اجمیری دامت برکاتہم — ایک ذاتی مشاہدہ، علمی خدمات اور اکابرانہ طرزِ عمل

حضرت مولانا قاری رشید احمد اجمیری دامت برکاتہم


حضرت مولانا قاری رشید احمد اجمیری دامت برکاتہم کی علمی، تدریسی، اصلاحی اور روحانی خدمات پر ایک ذاتی مشاہدہ۔ 


حضرت مولانا قاری رشید احمد اجمیری صاحب دامت برکاتہم، شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ راندیر سورت، کا شمار برصغیر کے ممتاز علمائے کرام، مشائخِ طریقت، قراء اور اکابر اہلِ علم میں ہوتا ہے۔ آپ ایک صاحبِ نسبت بزرگ، مرجعِ خلائق، کہنہ مشق استاد اور ہزاروں علماء، ائمہ، حفاظ اور طلبہ کے مربی و محسن ہیں۔ آپ کے اسلافِ کرام بھی علم و عمل، تقویٰ، دیانت اور خدمتِ دین کے حوالے سے نمایاں مقام رکھتے ہیں، اور حضرت والا نے اسی علمی و روحانی وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنی پوری زندگی تعلیم، تربیت، اصلاح اور خدمتِ دین کے لیے وقف کر رکھی ہے۔

جامعہ اشرفیہ راندیر، سورت میں آپ کی علمی و تدریسی خدمات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ آپ کے دروس، خطابات اور اصلاحی بیانات سے ملک و بیرونِ ملک لاکھوں افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ تصوف و سلوک کے میدان میں بھی آپ اکابرینِ دیوبند کے اس معتدل اور متوازن منہج کے نمائندہ سمجھے جاتے ہیں جس کی بنیاد اخلاص، اعتدال، خدمتِ خلق، اصلاحِ باطن اور اتباعِ سنت پر قائم ہے۔ آپ کی شخصیت علم، عمل، تواضع، اعتدال اور خیر خواہی کا حسین امتزاج ہے جس کا اعتراف آپ کے موافقین ہی نہیں بلکہ مختلف مکاتبِ فکر کے سنجیدہ اہلِ علم بھی کرتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں ایک جملے کے حوالے سے بعض حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے۔ اس موقع پر سب سے قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ حضرت والا نے اپنے پیش رو اکابر و اسلاف کے طرزِ عمل کو اختیار کرتے ہوئے بلا چوں و چرا رجوع فرما لیا۔ حالانکہ وہ جملہ ایک خاص موقع، محل اور مخصوص تناظر میں کہا گیا تھا، لیکن حضرت نے تاویلات اور اصرار کی راہ اختیار کرنے کے بجائے رجوع اور اصلاح کو ترجیح دی۔ یہی اہلِ حق علماء اور اکابرینِ امت کا شیوہ رہا ہے کہ وہ حق اور مصلحتِ امت کو اپنی ذات پر مقدم رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ رجوع کر لینا کمزوری نہیں بلکہ علمی دیانت، تقویٰ، تواضع اور وسعتِ ظرف کی علامت ہے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو کسی عالم کو محض صاحبِ علم نہیں بلکہ صاحبِ کردار بناتے ہیں۔

بندہ کا حضرت والا سے تقریباً تیس سالہ تعلق اور رابطہ ہے، جو بالخصوص دینی خدمات اور مدرسہ کے تعاون کے حوالے سے قائم رہا۔ بندہ کا تعلق ضلع سمستی پور، صوبۂ بہار سے ہے۔ اس طویل عرصے میں جب بھی کسی دینی ضرورت، تعلیمی خدمت یا خصوصی تقاضے کے تحت حضرت والا سے رجوع کیا، ہمیشہ شفقت، دلجوئی، حوصلہ افزائی اور حسبِ استطاعت تعاون ہی ملا۔ متعدد مواقع پر ایسا ہوا کہ توقع سے بڑھ کر حضرت نے تعاون فرمایا اور دعاؤں سے نوازا۔ میری ذاتی زندگی اور دینی خدمات کے کئی مراحل ایسے ہیں جن میں حضرت والا کی دعاؤں، سرپرستی اور حوصلہ افزائی نے میرے لیے قوت و اطمینان کا سبب بن کر کام کیا۔

اسی لیے جب سوشل میڈیا پر بعض افراد کی جانب سے کسی ایک بات کو اس کے سیاق و سباق سے الگ کرکے حضرت والا پر تعصب کا الزام عائد کرتے دیکھا تو مجھے شدید حیرت ہوئی۔ میرے ذہن میں فوراً گزشتہ تیس برسوں کے وہ تمام مواقع تازہ ہوگئے جن میں حضرت والا نے بلا امتیاز تعاون فرمایا، خیر خواہی کا مظاہرہ کیا اور دینی خدمات کی حوصلہ افزائی کی۔ ابھی حال ہی میں عید الاضحیٰ سے قبل بھی حضرت والا سے بالمشافہ ملاقات کا شرف حاصل ہوا، دعا اور تعاون سے مستفید ہوا۔ اس ملاقات نے بھی میرے سابقہ مشاہدات کی مزید تائید کی کہ حضرت والا کی شخصیت کا بنیادی جوہر خیر خواہی، شفقت اور خدمتِ دین ہے۔

میرے ناقص علم، محدود تجربے اور طویل مشاہدے کی روشنی میں حضرت والا کی پوری زندگی علمِ دین کی اشاعت، طلبہ و علماء کی سرپرستی، اصلاحِ معاشرہ، خدمتِ امت اور خیر خواہی سے عبارت نظر آتی ہے۔ انصاف اور دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ ایک ایسی علمی و روحانی شخصیت، جس کے خانوادے کی تاریخ علمِ دین، خدمتِ شریعت اور اصلاحِ امت سے روشن ہو اور جس نے خود بھی اپنی پوری زندگی اسی مشن کے لیے وقف کر رکھی ہو، اس کے بارے میں کسی ایک جملے یا ایک وقتی واقعے کو بنیاد بنا کر فیصلہ صادر نہ کیا جائے۔ بڑی شخصیات کو ان کی مجموعی خدمات، علمی ورثے، عملی کردار اور امت پر مرتب ہونے والے دیرپا اثرات کی روشنی میں دیکھا جاتا ہے، نہ کہ کسی ایک جزوی واقعے کی بنیاد پر۔

اہلِ علم کی قدر اور ان کے مقام کا تحفظ امت کی اجتماعی ذمہ داری ہے، خصوصاً ان حضرات کا جن کی زندگیاں اور جن کے خانوادوں کی روایات نسل در نسل دینِ اسلام کی خدمت، اشاعتِ علم اور اصلاحِ امت سے وابستہ رہی ہوں۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ ایک فطری امر ہے، لیکن اختلاف کو انصاف، اعتدال اور حسنِ ظن کے دائرے میں رہنا چاہیے۔ امت کی علمی و روحانی قیادت کے بارے میں گفتگو کرتے وقت جذبات کے بجائے انصاف اور مجموعی خدمات کو پیشِ نظر رکھنا ہی اہلِ دیانت کا شیوہ ہے۔

اللہ تعالیٰ حضرت مولانا قاری رشید احمد اجمیری صاحب دامت برکاتہم کی عمر، صحت، علم، عمل، اخلاص اور خدمات میں مزید برکت عطا فرمائے، ان کے فیوض و برکات کو عام فرمائے، اور امتِ مسلمہ کو ان کے علم، تجربہ، حکمت، دعاؤں اور روحانی رہنمائی سے مدتوں مستفید فرماتا رہے۔ آمین یا رب العالمین۔

 قاری ممتاز احمد جامعی
جنرل سکریٹری، الامداد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ
ناظم و بانی، جامعہ اشاعت العلوم، سمستی پور، بہار
Email: majaamai@gmail.com

جمعہ، 5 جون، 2026

جے پی تحریک سے کاکروچ جنتا پارٹی تک: مسلمان، انقلابات اور ایک ناگزیر سوال

 جے پی تحریک سے کاکروچ جنتا پارٹی تک: مسلمان، انقلابات اور ایک ناگزیر سوال

آزاد بھارت کی سیاسی تاریخ مختلف تحریکوں، انقلابات اور عوامی بیداری کی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ جے پی تحریک سے لے کر انا ہزارے تحریک تک، منڈل سیاست سے لے کر نئی نسل کی طلبہ سیاست تک، اور CAA-NRC احتجاجات سے لے کر آج کی کاکروچ جنتا پارٹی تک، ہر دور میں عوام کو یہ یقین دلایا گیا کہ اب نظام بدلے گا، انصاف آئے گا اور محروم طبقات کو ان کا حق ملے گا۔ لیکن ایک سوال آج بھی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے کہ ان تمام تحریکوں، انقلابات اور سیاسی تبدیلیوں سے ہندوستانی مسلمانوں کو، بحیثیت ایک مذہبی، تہذیبی اور اجتماعی اکائی، آخر کیا حاصل ہوا؟

جے پی تحریک کو جدید بھارت کی سب سے بڑی عوامی تحریکوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس تحریک نے ایمرجنسی کے خلاف عوامی بغاوت کو منظم کیا، حکومتیں بدلیں اور نئی سیاسی قیادتیں پیدا کیں۔ اس کے بعد منڈل دور آیا، جس نے سماجی انصاف اور پسماندہ طبقات کی سیاست کو نئی قوت بخشی۔ پھر مختلف ادوار میں نئی نئی تحریکیں سامنے آئیں، مگر مسلمانوں کے بنیادی سوالات اپنی جگہ برقرار رہے۔ مسلمان ان تحریکوں میں شریک ضرور رہے، لیکن ان کے مذہبی حقوق، تہذیبی تشخص، مساجد، مدارس، اوقاف، شخصی قوانین اور اجتماعی تحفظ کبھی بھی کسی تحریک کے مرکزی ایجنڈے کا حصہ نہ بن سکے۔

بابری مسجد کا واقعہ اور اس کے بعد کا سیاسی و عدالتی سفر مسلم ذہن پر گہرے اثرات چھوڑ گیا۔ مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کے نزدیک یہ صرف ایک عمارت یا زمین کا مقدمہ نہیں تھا، بلکہ ان کے مذہبی وجود، تاریخی ورثے اور آئینی اعتماد کا معاملہ تھا۔ اسی طرح بعد کے برسوں میں مختلف مذہبی مقامات سے متعلق تنازعات، فرقہ وارانہ فسادات اور متعدد سیاسی واقعات نے اس احساس کو مزید مضبوط کیا کہ ملک کے سیاسی اور ادارہ جاتی ڈھانچے میں مسلمان خود کو مکمل طور پر مطمئن اور محفوظ محسوس نہیں کرتے۔

دوسری طرف دہشت گردی کے مختلف مقدمات، مالیگاؤں سمیت متعدد دھماکوں کے کیس، طویل عدالتی کارروائیاں، برسوں جیلوں میں رہنے کے بعد بعض افراد کی بریت، اور تفتیشی عمل پر اٹھنے والے سوالات بھی مسلم حلقوں میں بحث کا موضوع بنتے رہے ہیں۔ اسی طرح مختلف سرکاری اداروں، ایجنسیوں اور عدالتی فیصلوں کے حوالے سے بھی مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے میں اعتماد اور عدم اعتماد کی متضاد کیفیات پائی جاتی ہیں۔ بہت سے مسلمان یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے مسائل اور تحفظات کو وہ توجہ نہیں ملتی جس کی وہ توقع رکھتے ہیں۔

2011 کی انا ہزارے تحریک نے بدعنوانی کے خلاف پورے ملک میں ایک نئی امید پیدا کی۔ بعد ازاں نئی سیاسی قوتیں ابھریں، نئے چہرے سامنے آئے اور ملک میں سیاسی تبدیلیوں کی نئی بحث شروع ہوئی۔ اسی طرح کنہیا کمار، عمر خالد، جگنیش میوانی، ہاردک پٹیل اور دیگر نوجوان رہنماؤں نے بھی مختلف سماجی اور سیاسی مسائل پر آواز بلند کی۔ تاہم مسلم نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو سوال اب بھی باقی ہے کہ کیا ان تمام تحریکوں اور شخصیات نے مسلمانوں کے بنیادی اجتماعی مسائل کو مستقل اور واضح سیاسی ایجنڈے کا حصہ بنایا؟

CAA-NRC کے خلاف تحریک نے پہلی مرتبہ ایک بڑے پیمانے پر مسلمانوں کو براہِ راست سیاسی میدان میں متحرک کیا۔ شاہین باغ اور ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے احتجاجات نے مسلم سیاسی بیداری کا ایک نیا منظر پیش کیا۔ تاہم اس تجربے نے یہ سوال بھی پیدا کیا کہ کیا محض احتجاج اور وقتی سیاسی سرگرمی کسی قوم کے طویل المدت تحفظ، ترقی اور استحکام کی ضمانت بن سکتی ہے؟

آج جب کاکروچ جنتا پارٹی کے نام سے نوجوانوں کی ایک نئی احتجاجی لہر سامنے آ رہی ہے، اور بے روزگاری، امتحانی بے ضابطگیوں اور حکومتی نظام پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، تو مسلمانوں کے لیے بنیادی سوال پھر وہی ہے: کیا اس تحریک کے پاس مسلمانوں کی جان، مال، عزت و آبرو، مذہبی آزادی، مساجد، مدارس، خانقاہوں، اوقاف، شخصی قوانین اور آئینی حقوق کے تحفظ کے بارے میں کوئی واضح مؤقف اور عملی لائحۂ عمل موجود ہے؟ اگر نہیں، تو پھر مسلمانوں کو محض جذباتی نعروں یا وقتی سیاسی جوش کی بنیاد پر کسی بھی ہجوم یا تحریک کا حصہ بننے سے پہلے سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہیے۔

یہاں ایک ایسا سوال بھی ہے جس کا جواب آزادی کے بعد کی تقریباً تمام بڑی تحریکوں، انقلابات اور اندولن کاری قیادتوں کو دینا چاہیے۔ اگر رشوت، کرپشن، امتحانی بدعنوانی، وسائل کی لوٹ، اقتدار کا ناجائز استعمال اور قانون کی موشگافیوں کے ذریعے کمزور طبقات کا استحصال ظلم ہے، تو کیا ایک بے گناہ انسان کا قتل، اس کی عزت و آبرو پر حملہ، اس کے مذہبی تشخص کو نشانہ بنانا، اس کی عبادت گاہوں کو متنازع بنانا، یا ہجوم کے ہاتھوں اسے زندہ مار دینا اس سے کہیں بڑا ظلم نہیں؟ اگر آدیواسی، دلت اور مسلمان صدیوں سے سماجی و سیاسی ناانصافیوں کا شکار رہے ہیں، اور اگر ہاشم پورہ، میرٹھ، مرادآباد، بھاگلپور، گجرات اور موب لنچنگ جیسے واقعات نے ہزاروں خاندانوں کی زندگیاں بدل دی ہیں، تو پھر آخر کیا وجہ ہے کہ ملک کی بیشتر انقلابی تحریکوں اور اندولن کاری قیادتوں نے کرپشن اور بے روزگاری کو تو اپنا مرکزی نعرہ بنایا، مگر جان کے تحفظ، عزت کے تحفظ، مذہبی آزادی، فرقہ وارانہ تشدد اور کمزور طبقات کی اجتماعی سلامتی کو اسی درجہ اپنی جدوجہد کا مرکز نہ بنایا؟ کیا ایک انسان کا روزگار چھن جانا بڑا مسئلہ ہے یا اس کی جان چھن جانا؟ کیا مال کا نقصان بڑا ظلم ہے یا مال کے ساتھ جان، عزت اور شناخت کا بھی سلب ہو جانا؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب آج بھی کروڑوں محروم اور مظلوم شہری تلاش کر رہے ہیں۔

اسی بنیاد پر بہت سے مسلم حلقے یہ رائے رکھتے ہیں کہ مسلمانوں کو کسی بھی نئی سیاسی جماعت، عوامی تحریک یا انقلابی مہم کا حصہ بننے سے پہلے واضح اور دوٹوک شرائط سامنے رکھنی چاہئیں۔ صرف روزگار، کرپشن یا انتظامی اصلاحات کے نعروں کی بنیاد پر کسی ہجوم کا حصہ بن جانا کافی نہیں۔ جب تک مسلمانوں کی جان، مال، عزت و آبرو، مذہبی آزادی، مساجد، مدارس، خانقاہوں، اوقاف، اسلامی تشخص اور آئینی حقوق کے تحفظ کے بارے میں واضح مؤقف، عملی ضمانت اور سنجیدہ عہد موجود نہ ہو، اس وقت تک محض جذباتی نعروں کی بنیاد پر کسی تحریک میں شامل ہونا دانشمندانہ حکمتِ عملی نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق مسلمانوں کو ہر سیاسی قوت سے پہلے یہ سوال کرنا چاہیے کہ وہ ان کے وجودی اور بنیادی حقوق کے بارے میں کیا پالیسی رکھتی ہے، کیونکہ کسی بھی قوم کے لیے معاشی مفاد کے ساتھ جان، عزت، مذہب اور شناخت کا تحفظ بھی یکساں، بلکہ بعض حالات میں اس سے زیادہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

گزشتہ کئی دہائیوں کے سیاسی تجربات سے کم از کم یہ سبق ضرور حاصل ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو کسی بھی نئی سیاسی تحریک یا انقلاب میں شامل ہونے سے پہلے اپنی شرائط، اپنے مفادات اور اپنے بنیادی مطالبات واضح کرنے چاہئیں۔ انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ ہر تحریک، ہر سیاسی جماعت اور ہر عوامی مہم سے یہ سوال کریں کہ ان کے مذہبی، آئینی، تعلیمی اور سماجی حقوق کے بارے میں اس کا مؤقف کیا ہے۔ اگر کوئی تحریک ان سوالات کا جواب نہیں دیتی، تو مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ محض ہجوم کا حصہ بننے کے بجائے اپنی اجتماعی قوت، تعلیمی ترقی، معاشی استحکام، ادارہ جاتی مضبوطی اور شعوری سیاسی شرکت پر توجہ دیں۔

آزاد بھارت کی تاریخ کا مسلم نقطۂ نظر سے سب سے اہم سبق شاید یہی ہے کہ جذباتی انقلابات اور وقتی سیاسی لہریں ہمیشہ قوموں کے مسائل حل نہیں کرتیں۔ قوموں کی اصل طاقت ان کے ادارے، ان کی تعلیم، ان کی معاشی خودمختاری، ان کا اجتماعی شعور اور ان کی منظم قیادت ہوتی ہے۔ اس لیے مسلمانوں کے لیے اصل ضرورت ہجوم کی سیاست نہیں، بلکہ شعوری، باوقار اور اصولی سیاسی شرکت ہے، جو ان کے بنیادی حقوق، مذہبی آزادی اور اجتماعی وقار کے تحفظ کو مقدم رکھے۔

قاری ممتاز احمد جامعی 

majaamai@gmail.com