![]() |
حضرت مولانا قاری رشید احمد اجمیری دامت برکاتہم کی علمی، تدریسی، اصلاحی اور روحانی خدمات پر ایک ذاتی مشاہدہ۔
حضرت مولانا قاری رشید احمد اجمیری صاحب دامت برکاتہم، شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ راندیر سورت، کا شمار برصغیر کے ممتاز علمائے کرام، مشائخِ طریقت، قراء اور اکابر اہلِ علم میں ہوتا ہے۔ آپ ایک صاحبِ نسبت بزرگ، مرجعِ خلائق، کہنہ مشق استاد اور ہزاروں علماء، ائمہ، حفاظ اور طلبہ کے مربی و محسن ہیں۔ آپ کے اسلافِ کرام بھی علم و عمل، تقویٰ، دیانت اور خدمتِ دین کے حوالے سے نمایاں مقام رکھتے ہیں، اور حضرت والا نے اسی علمی و روحانی وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنی پوری زندگی تعلیم، تربیت، اصلاح اور خدمتِ دین کے لیے وقف کر رکھی ہے۔
جامعہ اشرفیہ راندیر، سورت میں آپ کی علمی و تدریسی خدمات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ آپ کے دروس، خطابات اور اصلاحی بیانات سے ملک و بیرونِ ملک لاکھوں افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ تصوف و سلوک کے میدان میں بھی آپ اکابرینِ دیوبند کے اس معتدل اور متوازن منہج کے نمائندہ سمجھے جاتے ہیں جس کی بنیاد اخلاص، اعتدال، خدمتِ خلق، اصلاحِ باطن اور اتباعِ سنت پر قائم ہے۔ آپ کی شخصیت علم، عمل، تواضع، اعتدال اور خیر خواہی کا حسین امتزاج ہے جس کا اعتراف آپ کے موافقین ہی نہیں بلکہ مختلف مکاتبِ فکر کے سنجیدہ اہلِ علم بھی کرتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں ایک جملے کے حوالے سے بعض حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے۔ اس موقع پر سب سے قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ حضرت والا نے اپنے پیش رو اکابر و اسلاف کے طرزِ عمل کو اختیار کرتے ہوئے بلا چوں و چرا رجوع فرما لیا۔ حالانکہ وہ جملہ ایک خاص موقع، محل اور مخصوص تناظر میں کہا گیا تھا، لیکن حضرت نے تاویلات اور اصرار کی راہ اختیار کرنے کے بجائے رجوع اور اصلاح کو ترجیح دی۔ یہی اہلِ حق علماء اور اکابرینِ امت کا شیوہ رہا ہے کہ وہ حق اور مصلحتِ امت کو اپنی ذات پر مقدم رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ رجوع کر لینا کمزوری نہیں بلکہ علمی دیانت، تقویٰ، تواضع اور وسعتِ ظرف کی علامت ہے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو کسی عالم کو محض صاحبِ علم نہیں بلکہ صاحبِ کردار بناتے ہیں۔
بندہ کا حضرت والا سے تقریباً تیس سالہ تعلق اور رابطہ ہے، جو بالخصوص دینی خدمات اور مدرسہ کے تعاون کے حوالے سے قائم رہا۔ بندہ کا تعلق ضلع سمستی پور، صوبۂ بہار سے ہے۔ اس طویل عرصے میں جب بھی کسی دینی ضرورت، تعلیمی خدمت یا خصوصی تقاضے کے تحت حضرت والا سے رجوع کیا، ہمیشہ شفقت، دلجوئی، حوصلہ افزائی اور حسبِ استطاعت تعاون ہی ملا۔ متعدد مواقع پر ایسا ہوا کہ توقع سے بڑھ کر حضرت نے تعاون فرمایا اور دعاؤں سے نوازا۔ میری ذاتی زندگی اور دینی خدمات کے کئی مراحل ایسے ہیں جن میں حضرت والا کی دعاؤں، سرپرستی اور حوصلہ افزائی نے میرے لیے قوت و اطمینان کا سبب بن کر کام کیا۔
اسی لیے جب سوشل میڈیا پر بعض افراد کی جانب سے کسی ایک بات کو اس کے سیاق و سباق سے الگ کرکے حضرت والا پر تعصب کا الزام عائد کرتے دیکھا تو مجھے شدید حیرت ہوئی۔ میرے ذہن میں فوراً گزشتہ تیس برسوں کے وہ تمام مواقع تازہ ہوگئے جن میں حضرت والا نے بلا امتیاز تعاون فرمایا، خیر خواہی کا مظاہرہ کیا اور دینی خدمات کی حوصلہ افزائی کی۔ ابھی حال ہی میں عید الاضحیٰ سے قبل بھی حضرت والا سے بالمشافہ ملاقات کا شرف حاصل ہوا، دعا اور تعاون سے مستفید ہوا۔ اس ملاقات نے بھی میرے سابقہ مشاہدات کی مزید تائید کی کہ حضرت والا کی شخصیت کا بنیادی جوہر خیر خواہی، شفقت اور خدمتِ دین ہے۔
میرے ناقص علم، محدود تجربے اور طویل مشاہدے کی روشنی میں حضرت والا کی پوری زندگی علمِ دین کی اشاعت، طلبہ و علماء کی سرپرستی، اصلاحِ معاشرہ، خدمتِ امت اور خیر خواہی سے عبارت نظر آتی ہے۔ انصاف اور دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ ایک ایسی علمی و روحانی شخصیت، جس کے خانوادے کی تاریخ علمِ دین، خدمتِ شریعت اور اصلاحِ امت سے روشن ہو اور جس نے خود بھی اپنی پوری زندگی اسی مشن کے لیے وقف کر رکھی ہو، اس کے بارے میں کسی ایک جملے یا ایک وقتی واقعے کو بنیاد بنا کر فیصلہ صادر نہ کیا جائے۔ بڑی شخصیات کو ان کی مجموعی خدمات، علمی ورثے، عملی کردار اور امت پر مرتب ہونے والے دیرپا اثرات کی روشنی میں دیکھا جاتا ہے، نہ کہ کسی ایک جزوی واقعے کی بنیاد پر۔
اہلِ علم کی قدر اور ان کے مقام کا تحفظ امت کی اجتماعی ذمہ داری ہے، خصوصاً ان حضرات کا جن کی زندگیاں اور جن کے خانوادوں کی روایات نسل در نسل دینِ اسلام کی خدمت، اشاعتِ علم اور اصلاحِ امت سے وابستہ رہی ہوں۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ ایک فطری امر ہے، لیکن اختلاف کو انصاف، اعتدال اور حسنِ ظن کے دائرے میں رہنا چاہیے۔ امت کی علمی و روحانی قیادت کے بارے میں گفتگو کرتے وقت جذبات کے بجائے انصاف اور مجموعی خدمات کو پیشِ نظر رکھنا ہی اہلِ دیانت کا شیوہ ہے۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا قاری رشید احمد اجمیری صاحب دامت برکاتہم کی عمر، صحت، علم، عمل، اخلاص اور خدمات میں مزید برکت عطا فرمائے، ان کے فیوض و برکات کو عام فرمائے، اور امتِ مسلمہ کو ان کے علم، تجربہ، حکمت، دعاؤں اور روحانی رہنمائی سے مدتوں مستفید فرماتا رہے۔ آمین یا رب العالمین۔
قاری ممتاز احمد جامعی
جنرل سکریٹری، الامداد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ
ناظم و بانی، جامعہ اشاعت العلوم، سمستی پور، بہار
Email: majaamai@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔