بدھ، 24 جون، 2026

حضرت مولانا قاری رشید احمد اجمیری دامت برکاتہم — ایک ذاتی مشاہدہ، علمی خدمات اور اکابرانہ طرزِ عمل

حضرت مولانا قاری رشید احمد اجمیری دامت برکاتہم


حضرت مولانا قاری رشید احمد اجمیری دامت برکاتہم کی علمی، تدریسی، اصلاحی اور روحانی خدمات پر ایک ذاتی مشاہدہ۔ 


حضرت مولانا قاری رشید احمد اجمیری صاحب دامت برکاتہم، شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ راندیر سورت، کا شمار برصغیر کے ممتاز علمائے کرام، مشائخِ طریقت، قراء اور اکابر اہلِ علم میں ہوتا ہے۔ آپ ایک صاحبِ نسبت بزرگ، مرجعِ خلائق، کہنہ مشق استاد اور ہزاروں علماء، ائمہ، حفاظ اور طلبہ کے مربی و محسن ہیں۔ آپ کے اسلافِ کرام بھی علم و عمل، تقویٰ، دیانت اور خدمتِ دین کے حوالے سے نمایاں مقام رکھتے ہیں، اور حضرت والا نے اسی علمی و روحانی وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنی پوری زندگی تعلیم، تربیت، اصلاح اور خدمتِ دین کے لیے وقف کر رکھی ہے۔

جامعہ اشرفیہ راندیر، سورت میں آپ کی علمی و تدریسی خدمات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ آپ کے دروس، خطابات اور اصلاحی بیانات سے ملک و بیرونِ ملک لاکھوں افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ تصوف و سلوک کے میدان میں بھی آپ اکابرینِ دیوبند کے اس معتدل اور متوازن منہج کے نمائندہ سمجھے جاتے ہیں جس کی بنیاد اخلاص، اعتدال، خدمتِ خلق، اصلاحِ باطن اور اتباعِ سنت پر قائم ہے۔ آپ کی شخصیت علم، عمل، تواضع، اعتدال اور خیر خواہی کا حسین امتزاج ہے جس کا اعتراف آپ کے موافقین ہی نہیں بلکہ مختلف مکاتبِ فکر کے سنجیدہ اہلِ علم بھی کرتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں ایک جملے کے حوالے سے بعض حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے۔ اس موقع پر سب سے قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ حضرت والا نے اپنے پیش رو اکابر و اسلاف کے طرزِ عمل کو اختیار کرتے ہوئے بلا چوں و چرا رجوع فرما لیا۔ حالانکہ وہ جملہ ایک خاص موقع، محل اور مخصوص تناظر میں کہا گیا تھا، لیکن حضرت نے تاویلات اور اصرار کی راہ اختیار کرنے کے بجائے رجوع اور اصلاح کو ترجیح دی۔ یہی اہلِ حق علماء اور اکابرینِ امت کا شیوہ رہا ہے کہ وہ حق اور مصلحتِ امت کو اپنی ذات پر مقدم رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ رجوع کر لینا کمزوری نہیں بلکہ علمی دیانت، تقویٰ، تواضع اور وسعتِ ظرف کی علامت ہے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو کسی عالم کو محض صاحبِ علم نہیں بلکہ صاحبِ کردار بناتے ہیں۔

بندہ کا حضرت والا سے تقریباً تیس سالہ تعلق اور رابطہ ہے، جو بالخصوص دینی خدمات اور مدرسہ کے تعاون کے حوالے سے قائم رہا۔ بندہ کا تعلق ضلع سمستی پور، صوبۂ بہار سے ہے۔ اس طویل عرصے میں جب بھی کسی دینی ضرورت، تعلیمی خدمت یا خصوصی تقاضے کے تحت حضرت والا سے رجوع کیا، ہمیشہ شفقت، دلجوئی، حوصلہ افزائی اور حسبِ استطاعت تعاون ہی ملا۔ متعدد مواقع پر ایسا ہوا کہ توقع سے بڑھ کر حضرت نے تعاون فرمایا اور دعاؤں سے نوازا۔ میری ذاتی زندگی اور دینی خدمات کے کئی مراحل ایسے ہیں جن میں حضرت والا کی دعاؤں، سرپرستی اور حوصلہ افزائی نے میرے لیے قوت و اطمینان کا سبب بن کر کام کیا۔

اسی لیے جب سوشل میڈیا پر بعض افراد کی جانب سے کسی ایک بات کو اس کے سیاق و سباق سے الگ کرکے حضرت والا پر تعصب کا الزام عائد کرتے دیکھا تو مجھے شدید حیرت ہوئی۔ میرے ذہن میں فوراً گزشتہ تیس برسوں کے وہ تمام مواقع تازہ ہوگئے جن میں حضرت والا نے بلا امتیاز تعاون فرمایا، خیر خواہی کا مظاہرہ کیا اور دینی خدمات کی حوصلہ افزائی کی۔ ابھی حال ہی میں عید الاضحیٰ سے قبل بھی حضرت والا سے بالمشافہ ملاقات کا شرف حاصل ہوا، دعا اور تعاون سے مستفید ہوا۔ اس ملاقات نے بھی میرے سابقہ مشاہدات کی مزید تائید کی کہ حضرت والا کی شخصیت کا بنیادی جوہر خیر خواہی، شفقت اور خدمتِ دین ہے۔

میرے ناقص علم، محدود تجربے اور طویل مشاہدے کی روشنی میں حضرت والا کی پوری زندگی علمِ دین کی اشاعت، طلبہ و علماء کی سرپرستی، اصلاحِ معاشرہ، خدمتِ امت اور خیر خواہی سے عبارت نظر آتی ہے۔ انصاف اور دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ ایک ایسی علمی و روحانی شخصیت، جس کے خانوادے کی تاریخ علمِ دین، خدمتِ شریعت اور اصلاحِ امت سے روشن ہو اور جس نے خود بھی اپنی پوری زندگی اسی مشن کے لیے وقف کر رکھی ہو، اس کے بارے میں کسی ایک جملے یا ایک وقتی واقعے کو بنیاد بنا کر فیصلہ صادر نہ کیا جائے۔ بڑی شخصیات کو ان کی مجموعی خدمات، علمی ورثے، عملی کردار اور امت پر مرتب ہونے والے دیرپا اثرات کی روشنی میں دیکھا جاتا ہے، نہ کہ کسی ایک جزوی واقعے کی بنیاد پر۔

اہلِ علم کی قدر اور ان کے مقام کا تحفظ امت کی اجتماعی ذمہ داری ہے، خصوصاً ان حضرات کا جن کی زندگیاں اور جن کے خانوادوں کی روایات نسل در نسل دینِ اسلام کی خدمت، اشاعتِ علم اور اصلاحِ امت سے وابستہ رہی ہوں۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ ایک فطری امر ہے، لیکن اختلاف کو انصاف، اعتدال اور حسنِ ظن کے دائرے میں رہنا چاہیے۔ امت کی علمی و روحانی قیادت کے بارے میں گفتگو کرتے وقت جذبات کے بجائے انصاف اور مجموعی خدمات کو پیشِ نظر رکھنا ہی اہلِ دیانت کا شیوہ ہے۔

اللہ تعالیٰ حضرت مولانا قاری رشید احمد اجمیری صاحب دامت برکاتہم کی عمر، صحت، علم، عمل، اخلاص اور خدمات میں مزید برکت عطا فرمائے، ان کے فیوض و برکات کو عام فرمائے، اور امتِ مسلمہ کو ان کے علم، تجربہ، حکمت، دعاؤں اور روحانی رہنمائی سے مدتوں مستفید فرماتا رہے۔ آمین یا رب العالمین۔

 قاری ممتاز احمد جامعی
جنرل سکریٹری، الامداد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ
ناظم و بانی، جامعہ اشاعت العلوم، سمستی پور، بہار
Email: majaamai@gmail.com

جمعہ، 5 جون، 2026

جے پی تحریک سے کاکروچ جنتا پارٹی تک: مسلمان، انقلابات اور ایک ناگزیر سوال

 جے پی تحریک سے کاکروچ جنتا پارٹی تک: مسلمان، انقلابات اور ایک ناگزیر سوال

آزاد بھارت کی سیاسی تاریخ مختلف تحریکوں، انقلابات اور عوامی بیداری کی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ جے پی تحریک سے لے کر انا ہزارے تحریک تک، منڈل سیاست سے لے کر نئی نسل کی طلبہ سیاست تک، اور CAA-NRC احتجاجات سے لے کر آج کی کاکروچ جنتا پارٹی تک، ہر دور میں عوام کو یہ یقین دلایا گیا کہ اب نظام بدلے گا، انصاف آئے گا اور محروم طبقات کو ان کا حق ملے گا۔ لیکن ایک سوال آج بھی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے کہ ان تمام تحریکوں، انقلابات اور سیاسی تبدیلیوں سے ہندوستانی مسلمانوں کو، بحیثیت ایک مذہبی، تہذیبی اور اجتماعی اکائی، آخر کیا حاصل ہوا؟

جے پی تحریک کو جدید بھارت کی سب سے بڑی عوامی تحریکوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس تحریک نے ایمرجنسی کے خلاف عوامی بغاوت کو منظم کیا، حکومتیں بدلیں اور نئی سیاسی قیادتیں پیدا کیں۔ اس کے بعد منڈل دور آیا، جس نے سماجی انصاف اور پسماندہ طبقات کی سیاست کو نئی قوت بخشی۔ پھر مختلف ادوار میں نئی نئی تحریکیں سامنے آئیں، مگر مسلمانوں کے بنیادی سوالات اپنی جگہ برقرار رہے۔ مسلمان ان تحریکوں میں شریک ضرور رہے، لیکن ان کے مذہبی حقوق، تہذیبی تشخص، مساجد، مدارس، اوقاف، شخصی قوانین اور اجتماعی تحفظ کبھی بھی کسی تحریک کے مرکزی ایجنڈے کا حصہ نہ بن سکے۔

بابری مسجد کا واقعہ اور اس کے بعد کا سیاسی و عدالتی سفر مسلم ذہن پر گہرے اثرات چھوڑ گیا۔ مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کے نزدیک یہ صرف ایک عمارت یا زمین کا مقدمہ نہیں تھا، بلکہ ان کے مذہبی وجود، تاریخی ورثے اور آئینی اعتماد کا معاملہ تھا۔ اسی طرح بعد کے برسوں میں مختلف مذہبی مقامات سے متعلق تنازعات، فرقہ وارانہ فسادات اور متعدد سیاسی واقعات نے اس احساس کو مزید مضبوط کیا کہ ملک کے سیاسی اور ادارہ جاتی ڈھانچے میں مسلمان خود کو مکمل طور پر مطمئن اور محفوظ محسوس نہیں کرتے۔

دوسری طرف دہشت گردی کے مختلف مقدمات، مالیگاؤں سمیت متعدد دھماکوں کے کیس، طویل عدالتی کارروائیاں، برسوں جیلوں میں رہنے کے بعد بعض افراد کی بریت، اور تفتیشی عمل پر اٹھنے والے سوالات بھی مسلم حلقوں میں بحث کا موضوع بنتے رہے ہیں۔ اسی طرح مختلف سرکاری اداروں، ایجنسیوں اور عدالتی فیصلوں کے حوالے سے بھی مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے میں اعتماد اور عدم اعتماد کی متضاد کیفیات پائی جاتی ہیں۔ بہت سے مسلمان یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے مسائل اور تحفظات کو وہ توجہ نہیں ملتی جس کی وہ توقع رکھتے ہیں۔

2011 کی انا ہزارے تحریک نے بدعنوانی کے خلاف پورے ملک میں ایک نئی امید پیدا کی۔ بعد ازاں نئی سیاسی قوتیں ابھریں، نئے چہرے سامنے آئے اور ملک میں سیاسی تبدیلیوں کی نئی بحث شروع ہوئی۔ اسی طرح کنہیا کمار، عمر خالد، جگنیش میوانی، ہاردک پٹیل اور دیگر نوجوان رہنماؤں نے بھی مختلف سماجی اور سیاسی مسائل پر آواز بلند کی۔ تاہم مسلم نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو سوال اب بھی باقی ہے کہ کیا ان تمام تحریکوں اور شخصیات نے مسلمانوں کے بنیادی اجتماعی مسائل کو مستقل اور واضح سیاسی ایجنڈے کا حصہ بنایا؟

CAA-NRC کے خلاف تحریک نے پہلی مرتبہ ایک بڑے پیمانے پر مسلمانوں کو براہِ راست سیاسی میدان میں متحرک کیا۔ شاہین باغ اور ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے احتجاجات نے مسلم سیاسی بیداری کا ایک نیا منظر پیش کیا۔ تاہم اس تجربے نے یہ سوال بھی پیدا کیا کہ کیا محض احتجاج اور وقتی سیاسی سرگرمی کسی قوم کے طویل المدت تحفظ، ترقی اور استحکام کی ضمانت بن سکتی ہے؟

آج جب کاکروچ جنتا پارٹی کے نام سے نوجوانوں کی ایک نئی احتجاجی لہر سامنے آ رہی ہے، اور بے روزگاری، امتحانی بے ضابطگیوں اور حکومتی نظام پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، تو مسلمانوں کے لیے بنیادی سوال پھر وہی ہے: کیا اس تحریک کے پاس مسلمانوں کی جان، مال، عزت و آبرو، مذہبی آزادی، مساجد، مدارس، خانقاہوں، اوقاف، شخصی قوانین اور آئینی حقوق کے تحفظ کے بارے میں کوئی واضح مؤقف اور عملی لائحۂ عمل موجود ہے؟ اگر نہیں، تو پھر مسلمانوں کو محض جذباتی نعروں یا وقتی سیاسی جوش کی بنیاد پر کسی بھی ہجوم یا تحریک کا حصہ بننے سے پہلے سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہیے۔

یہاں ایک ایسا سوال بھی ہے جس کا جواب آزادی کے بعد کی تقریباً تمام بڑی تحریکوں، انقلابات اور اندولن کاری قیادتوں کو دینا چاہیے۔ اگر رشوت، کرپشن، امتحانی بدعنوانی، وسائل کی لوٹ، اقتدار کا ناجائز استعمال اور قانون کی موشگافیوں کے ذریعے کمزور طبقات کا استحصال ظلم ہے، تو کیا ایک بے گناہ انسان کا قتل، اس کی عزت و آبرو پر حملہ، اس کے مذہبی تشخص کو نشانہ بنانا، اس کی عبادت گاہوں کو متنازع بنانا، یا ہجوم کے ہاتھوں اسے زندہ مار دینا اس سے کہیں بڑا ظلم نہیں؟ اگر آدیواسی، دلت اور مسلمان صدیوں سے سماجی و سیاسی ناانصافیوں کا شکار رہے ہیں، اور اگر ہاشم پورہ، میرٹھ، مرادآباد، بھاگلپور، گجرات اور موب لنچنگ جیسے واقعات نے ہزاروں خاندانوں کی زندگیاں بدل دی ہیں، تو پھر آخر کیا وجہ ہے کہ ملک کی بیشتر انقلابی تحریکوں اور اندولن کاری قیادتوں نے کرپشن اور بے روزگاری کو تو اپنا مرکزی نعرہ بنایا، مگر جان کے تحفظ، عزت کے تحفظ، مذہبی آزادی، فرقہ وارانہ تشدد اور کمزور طبقات کی اجتماعی سلامتی کو اسی درجہ اپنی جدوجہد کا مرکز نہ بنایا؟ کیا ایک انسان کا روزگار چھن جانا بڑا مسئلہ ہے یا اس کی جان چھن جانا؟ کیا مال کا نقصان بڑا ظلم ہے یا مال کے ساتھ جان، عزت اور شناخت کا بھی سلب ہو جانا؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب آج بھی کروڑوں محروم اور مظلوم شہری تلاش کر رہے ہیں۔

اسی بنیاد پر بہت سے مسلم حلقے یہ رائے رکھتے ہیں کہ مسلمانوں کو کسی بھی نئی سیاسی جماعت، عوامی تحریک یا انقلابی مہم کا حصہ بننے سے پہلے واضح اور دوٹوک شرائط سامنے رکھنی چاہئیں۔ صرف روزگار، کرپشن یا انتظامی اصلاحات کے نعروں کی بنیاد پر کسی ہجوم کا حصہ بن جانا کافی نہیں۔ جب تک مسلمانوں کی جان، مال، عزت و آبرو، مذہبی آزادی، مساجد، مدارس، خانقاہوں، اوقاف، اسلامی تشخص اور آئینی حقوق کے تحفظ کے بارے میں واضح مؤقف، عملی ضمانت اور سنجیدہ عہد موجود نہ ہو، اس وقت تک محض جذباتی نعروں کی بنیاد پر کسی تحریک میں شامل ہونا دانشمندانہ حکمتِ عملی نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق مسلمانوں کو ہر سیاسی قوت سے پہلے یہ سوال کرنا چاہیے کہ وہ ان کے وجودی اور بنیادی حقوق کے بارے میں کیا پالیسی رکھتی ہے، کیونکہ کسی بھی قوم کے لیے معاشی مفاد کے ساتھ جان، عزت، مذہب اور شناخت کا تحفظ بھی یکساں، بلکہ بعض حالات میں اس سے زیادہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

گزشتہ کئی دہائیوں کے سیاسی تجربات سے کم از کم یہ سبق ضرور حاصل ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو کسی بھی نئی سیاسی تحریک یا انقلاب میں شامل ہونے سے پہلے اپنی شرائط، اپنے مفادات اور اپنے بنیادی مطالبات واضح کرنے چاہئیں۔ انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ ہر تحریک، ہر سیاسی جماعت اور ہر عوامی مہم سے یہ سوال کریں کہ ان کے مذہبی، آئینی، تعلیمی اور سماجی حقوق کے بارے میں اس کا مؤقف کیا ہے۔ اگر کوئی تحریک ان سوالات کا جواب نہیں دیتی، تو مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ محض ہجوم کا حصہ بننے کے بجائے اپنی اجتماعی قوت، تعلیمی ترقی، معاشی استحکام، ادارہ جاتی مضبوطی اور شعوری سیاسی شرکت پر توجہ دیں۔

آزاد بھارت کی تاریخ کا مسلم نقطۂ نظر سے سب سے اہم سبق شاید یہی ہے کہ جذباتی انقلابات اور وقتی سیاسی لہریں ہمیشہ قوموں کے مسائل حل نہیں کرتیں۔ قوموں کی اصل طاقت ان کے ادارے، ان کی تعلیم، ان کی معاشی خودمختاری، ان کا اجتماعی شعور اور ان کی منظم قیادت ہوتی ہے۔ اس لیے مسلمانوں کے لیے اصل ضرورت ہجوم کی سیاست نہیں، بلکہ شعوری، باوقار اور اصولی سیاسی شرکت ہے، جو ان کے بنیادی حقوق، مذہبی آزادی اور اجتماعی وقار کے تحفظ کو مقدم رکھے۔

قاری ممتاز احمد جامعی 

majaamai@gmail.com 

اتوار، 17 مئی، 2026

زندگی ہی میں حساب صاف ہو جائے

 زندگی ہی میں حساب صاف ہو جائے

انسانی زندگی تعلقات، معاملات، حقوق اور ذمہ داریوں کا مجموعہ ہے۔ انسان چاہے کتنی ہی احتیاط کیوں نہ کرے، زندگی کے سفر میں کبھی نہ کبھی کسی سے کوتاہی، دل آزاری یا حق تلفی کا اندیشہ باقی رہتا ہے۔ خصوصاً دینی، تعلیمی اور سماجی مصروفیات رکھنے والا شخص بے شمار افراد سے جڑا ہوتا ہے، اس لیے احتسابِ نفس اور حقوق العباد کی فکر اور بھی ضروری ہوجاتی ہے۔

زیرِ نظر تحریر کسی رسمی اعلان، مایوسی یا غیر معمولی کیفیت کا اظہار نہیں، بلکہ ایک دینی، اخلاقی اور انسانی احساسِ ذمہ داری کے تحت لکھی گئی چند گزارشات ہیں، تاکہ حتی الامکان معاملات زندگی ہی میں صاف ہو جائیں، معافی طلب کر لی جائے، اور بعد میں وارثین یا متعلقین کسی غیر ضروری الجھن کا شکار نہ ہوں۔

اسی جذبے کے تحت یہ مختصر “عام معافی نامہ” پیش ہے۔


عام معافی نامہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للہ وحدہ، والصلوٰۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ۔

میں، قاری ممتاز احمد جامعی ولد محمد مستقیم مرحوم، ساکن: کرہوا برہیتا، کلیانپور، سمستی پور، بہار — نہایت عاجزی، احساسِ ذمہ داری اور فکرِ آخرت کے ساتھ یہ عام معافی نامہ تحریر کر رہا ہوں۔

زندگی کے مختلف مراحل میں، دینی، تعلیمی، سماجی اور شخصی مصروفیات کے دوران، اگر مجھ سے دانستہ یا نادانستہ، قول و عمل، برتاؤ، لین دین یا کسی بھی معاملے میں کسی فرد کی حق تلفی، دل آزاری یا کوتاہی ہوئی ہو تو میں اللہ تعالیٰ کے بعد تمام متعلقین سے دلی معافی کا طلبگار ہوں۔

جن حضرات کے میرے ذمہ کسی بھی نوعیت کے مالی، اخلاقی یا شخصی حقوق، مطالبات یا معاملات باقی ہوں، ان سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ حتی الامکان میری زندگی ہی میں براہِ راست مجھ سے رجوع فرما لیں تاکہ معاملات صاف اور واضح ہو جائیں، اور بعد میں کسی قسم کی الجھن یا پریشانی باقی نہ رہے۔ میری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ کسی کا حق اپنے ذمہ باقی نہ رکھوں، اور بظاہر وقتِ تحریر میرے علم و یادداشت کے مطابق کسی کا کوئی مالی حق میرے ذمہ باقی نہیں ہے۔ تاہم انسانی بھول یا غفلت کا امکان بہرحال موجود رہتا ہے، اس لیے اگر کسی کا کوئی حق یا دعویٰ ہو تو وہ بلا تکلف مجھ سے رجوع کر لے۔

خصوصاً اہلِ تعلق، عزیز و اقارب، بھائی، بہن، بھتیجوں اور قریبی رشتہ داروں سے بھی درخواست ہے کہ اگر کسی نوعیت کا کوئی معاملہ یا شبہ ہو تو اسے میری زندگی ہی میں واضح فرما لیں تاکہ بعد میں میرے وارثین کسی غیر ضروری پریشانی، سوال یا دباؤ کا شکار نہ ہوں۔

البتہ اپنے اساتذۂ کرام، مشفقین، مخلص دوستوں، معاونین اور متعلقین کے علمی، دینی، اخلاقی اور دعائیہ احسانات کا میں تہہِ دل سے معترف ہوں، جن کا حقیقی بدل یا مکمل حق ادا کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی ان حضرات کو بہترین جزا عطا فرمائے اور ان کی محبتوں، دعاؤں اور شفقتوں کو میرے لیے سرمایۂ آخرت بنائے۔

اگر کسی وجہ سے میری وفات، ملاقات یا ادائیگی سے پہلے ہو جائے تو میں تمام متعلقین سے امید کرتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے معاف فرما دیں اور میرے وارثین کو کسی قسم کی غیر ضروری پریشانی یا باز پرس میں مبتلا نہ کریں۔

اسی لیے میری خواہش اور گزارش ہے کہ جنازہ یا تعزیتی مواقع پر رائج رسمی اعلانات — جیسے:

“اگر میت پر کسی کا حق ہو تو وارثین سے رجوع کریں” — کو محض رسمی طور پر دہرانے کے بجائے اصل توجہ زندگی ہی میں معاملات کی صفائی، حقوق کی ادائیگی اور باہمی معافی پر رکھی جائے، کیونکہ میرے نزدیک حقوق العباد کی ادائیگی کا اصل محل انسان کی زندگی ہی ہے۔

میں اللہ رب العزت سے عاجزانہ دعا کرتا ہوں کہ وہ میری لغزشوں، کوتاہیوں اور خطاؤں کو معاف فرمائے، میرے اخلاص کو قبول فرمائے، حسنِ خاتمہ نصیب فرمائے، اور ہم سب کو حقوق العباد صحیح طور پر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔

خاکسار

قاری ممتاز احمد جامعی

تاریخ: ___۱۷ / ۵ / ۲۰۲۶

ذی قعدہ ۲۹ / ۱۴۴۷

بروز اتوار 

majaamai@gmail.com 

جمعہ، 1 مئی، 2026

بکھرتا خاندانی نظام اور ہماری سماجی حقیقت

 بکھرتا خاندانی نظام اور ہماری سماجی حقیقت

سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں ایک تصویر بہت تیزی سے وائرل ہوئی، جس میں تین بھائی ایک ہی گھر کے اندر دیواریں کھڑی کرکے الگ الگ زندگی گزارنے پر مجبور نظر آتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک معمولی گھریلو اختلاف معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ہمارے سماج کے بکھرتے ہوئے خاندانی نظام کی نہایت گہری اور تشویشناک علامت ہے۔ یہ منظر اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ہمارا معاشرہ اندرونی طور پر کس قدر انتشار، بے اعتمادی اور خود غرضی کا شکار ہو چکا ہے، جہاں رشتے محض نام کے رہ گئے ہیں اور دلوں کی دوریاں دیواروں کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔

کبھی یہی خاندانی نظام محبت، ایثار، قربانی اور باہمی تعاون کا حسین نمونہ ہوا کرتا تھا۔ بزرگوں کا احترام، بھائیوں میں اخوت، اور بہنوں کی عزت اس کی بنیادیں تھیں۔ لیکن آج یہی نظام اپنی اصل روح سے خالی ہوتا جا رہا ہے۔ عام تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ یورپی معاشرہ خاندانی نظام سے محروم ہے اور وہاں شادی بیاہ کی کوئی خاص حیثیت نہیں، جبکہ ہندوستانی معاشرہ اس معاملے میں مضبوط ہے۔ مگر حقیقت کا گہرا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا یہ مضبوط نظر آنے والا نظام اندر سے کمزور، غیر متوازن اور کئی طرح کی ناانصافیوں سے بھرا ہوا ہے۔

برصغیر، خصوصاً ہندوستانی معاشرہ، ہندوانہ تہذیب کے زیر اثر ایک ایسے مشترکہ خاندانی ڈھانچے کو اپنائے ہوئے ہے جس میں بظاہر اتحاد ہے، لیکن عملی طور پر یہ اکثر استحصال کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ مسلم سوسائٹی بھی اسی تہذیبی اثر سے محفوظ نہ رہ سکی، حالانکہ اسلام نے ایک نہایت متوازن، منصفانہ اور واضح خاندانی نظام پیش کیا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں ہر فرد کی ذمہ داری اور حق متعین ہے، مگر ہم نے ان اصولوں کو پس پشت ڈال کر غیر اسلامی رسوم و رواج کو ترجیح دے دی۔

مشترکہ خاندانی نظام میں سب سے بڑا بوجھ عموماً بڑے بیٹے کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ وہ اپنی جوانی، محنت اور کمائی کو والدین، چھوٹے بہن بھائیوں کی کفالت، ان کی تعلیم و تربیت، اور خصوصاً بہنوں کی شادی جیسے اہم مراحل میں صرف کر دیتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنی بیوی بچوں کی ضروریات کو بھی قربان کر کے خاندان کا سہارا بنا رہتا ہے۔ دوسری طرف، ہندوانہ رسم و رواج سے متاثر ہو کر بیٹیوں کو تعلیم کے ساتھ بھاری جہیز اور نقدی دے کر رخصت کیا جاتا ہے، جو بذاتِ خود ایک غیر اسلامی بوجھ ہے، مگر اس کے باوجود وہ وراثت میں اپنے شرعی حق کی بھی حقدار رہتی ہیں۔

مزید پیچیدگی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب والد اپنی زندگی میں جائیداد اپنے نام پر رکھتے ہوئے بڑے بیٹے کی کمائی سے اثاثے بناتے رہتے ہیں، لیکن وفات کے بعد وہی جائیداد تمام اولاد میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ اس تقسیم میں وہ افراد بھی برابر کے شریک بن جاتے ہیں جنہوں نے نہ اس جائیداد کے بنانے میں کوئی کردار ادا کیا ہوتا ہے اور نہ ہی خاندانی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھایا ہوتا ہے۔ نتیجتاً وہ بڑا بیٹا، جو پورے خاندان کی بنیاد تھا، خود مالی تنگی اور محرومی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی احساسِ ناانصافی رفتہ رفتہ اختلافات، جھگڑوں اور پھر مکمل علیحدگی کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

اسلام اس کے برعکس ایک نہایت متوازن نظام پیش کرتا ہے، جہاں بچے بلوغت تک والدین کی کفالت میں رہتے ہیں، مگر اس کے بعد ہر فرد اپنی ذمہ داری خود سنبھالتا ہے۔ شادی کے بعد ایک الگ اور خودمختار خاندانی یونٹ قائم کرنا اسلامی مزاج کا حصہ ہے، جبکہ وراثت کا نظام اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ایک منصفانہ تقسیم ہے۔ اسلام نہ اندھا مشترکہ نظام تھوپتا ہے اور نہ ہی بے لگام انفرادیت کی اجازت دیتا ہے، بلکہ ایک ایسا اعتدال قائم کرتا ہے جس میں حقوق اور ذمہ داریاں واضح اور متوازن ہوں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جذبات، رسم و رواج اور معاشرتی دباؤ سے اوپر اٹھ کر اپنے خاندانی نظام کا ازسرنو جائزہ لیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یک طرفہ قربانی دراصل ناانصافی کو جنم دیتی ہے، حد سے بڑھی ہوئی ذمہ داری بوجھ بن جاتی ہے، اور انصاف سے خالی رشتے زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتے۔ سوشل میڈیا پر وائرل یہ تصویر محض تین بھائیوں کی کہانی نہیں، بلکہ ہمارے پورے معاشرے کا آئینہ ہے۔ اگر ہم نے اب بھی اصلاح کی سنجیدہ کوشش نہ کی تو یہ دراڑیں مزید گہری ہوں گی، اور خاندانی نظام صرف ایک یادگار بن کر رہ جائے گا۔


اصلاح کا آغاز ہمیں اپنے گھروں سے، اپنے طرزِ فکر سے، اور اپنی ترجیحات سے کرنا ہوگا۔ اگر ہم نے انصاف، توازن اور دینی اصولوں کو بنیاد نہ بنایا تو یہ دیواریں صرف گھروں تک محدود نہیں رہیں گی، بلکہ دلوں کے درمیان ہمیشہ کے لیے حائل ہو جائیں گی۔

✍️ قاری ممتاز احمد جامعی

📧 majaamai@gmail.com

ہفتہ، 25 اپریل، 2026

صبر، آزمائش اور محبت کی لازوال داستان — محمد ساریہ کی 25 سالہ زندگی کا حیرت انگیز سفر

 یہ کوئی عام تصویر نہیں… یہ ڈھائی دہائیوں پر پھیلی ہوئی ایک ایسی خاموش داستان ہے جس کے ہر ورق پر صبر کا لہو، آزمائش کی تپش اور بے لوث محبت کی ٹھنڈی چھاؤں ثبت ہے۔ ہمارے نسب کی پہلی اولاد، محمد ساریہ، جب اس دنیا میں آیا تو اس کی معصوم کلکاریوں نے صرف ایک گھر نہیں بلکہ دو خاندانوں کی دھڑکنوں کو ایک لڑی میں پرو دیا، آنگن خوشیوں سے مہک اٹھا، چہروں پر روشنی اتر آئی، اور دل شکر کے سجدوں میں جھک گئے… مگر جیسے وقت نے حسرتوں پر نظر ڈال دی ہو، یہ بہار زیادہ دیر نہ ٹھہر سکی۔ ابھی مسکراہٹیں پوری طرح پھیل بھی نہ پائی تھیں کہ ڈاکٹروں کے بے رحم اور سرد جملوں نے امیدوں کی شاخیں کاٹ دیں—کہ یہ بچہ چند سانسوں کا مہمان ہے، کسی نے چار سال، کسی نے سات سال کی حد کھینچ دی۔

مگر اصل امتحان تو تب شروع ہوا جب ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک نئی بیماری، ایک نیا اندیشہ، ایک نیا زخم سامنے آتا گیا… کوئی کہتا دماغ اپنی پوری صلاحیت سے محروم ہے، کوئی کہتا یہ قدموں پر کھڑا ہونا تو دور، حرکت کی بھی قوت نہ پا سکے گا—یوں ہر خبر دل کے نہاں خانوں میں ایک اور دراڑ ڈالتی گئی، ہر امید ٹوٹ کر آنکھوں میں نمی بن کر اترتی رہی۔ انہی آزمائشوں کے درمیان ایک اور ایسا زخم لگا جس نے اس کہانی کو اور بھی گہرا کر دیا… بچے کی ماں، جو اس کی پہلی پناہ، پہلی دعا اور پہلی محبت تھی، ولادت کے چند ہی برسوں بعد اپنی قلیل سانسیں پوری کر کے رب کے حضور لوٹ گئی… یوں یہ معصوم سایۂ مادر کی ٹھنڈی چھاؤں سے بھی محروم ہو گیا۔

لیکن انہی ٹوٹتی ہوئی امیدوں کے ملبے تلے اللہ نے ایسا صبر عطا کیا جو پہاڑوں سے بھی بلند نکلا… گھر والوں نے اس آزمائش کو بوجھ نہیں، اپنی قسمت کی سعادت سمجھ لیا۔ دربھنگہ کی گلیوں سے لے کر پٹنہ کے دروازوں تک، دہلی کی بھیڑ سے ممبئی کے شور تک، ہر ممکن علاج کی تلاش میں قدم قدم پر امید کو زندہ رکھا گیا… اور اس کٹھن سفر میں سب سے آگے اس بچے کے دادا اور دادی رہے، جنہوں نے اپنے بڑھاپے کو آرام نہیں بلکہ خدمت کی عبادت میں ڈھال دیا، اپنے ہر لمحے کو اس بچے کی سانسوں کے ساتھ باندھ دیا۔ بستر پر اس کی ہر ضرورت، ہر اذیت، ہر لمحے کی بے بسی کو اپنے دل پر لے لیا گیا، نہ کبھی لبوں پر شکوہ آیا، نہ پیشانی پر تھکن کا سایہ—صرف خاموشی سے بہتی ہوئی محبت، جو عبادت بن چکی تھی، اور قربانی، جو زندگی کا مقصد ٹھہری۔

پھر وقت نے ایک اور کڑی آزمائش پیش کی… دادا کا سایہ بھی اٹھ گیا، اور ان کے جانے کے بعد دادی کی ضعیفی نے انہیں اس بوجھ کو مزید اٹھانے کے قابل نہ چھوڑا… یوں یہ کہانی ایک اور موڑ پر آ کھڑی ہوئی۔ اب یہ بچہ اپنی سوتیلی ماں اور دیگر بھائی بہنوں کے حصار میں ہے، جہاں اپنی اپنی بساط کے مطابق سب اس کی خدمت اور دیکھ بھال کو اپنی ذمہ داری اور سعادت سمجھ رہے ہیں۔

اور آج… وہی بچہ، جس کے لیے وقت نے چند سالوں کی مہلت لکھی تھی، اللہ کے بے پایاں کرم سے چوبیس سال مکمل کر کے پچیسویں برس کی دہلیز پر کھڑا ہے—کمزوریوں کے حصار میں سہی، مگر زندہ، سانس لیتا ہوا، اپنے وجود سے صبر کی ایک ایسی لازوال تفسیر بن کر جو لفظوں میں قید نہیں ہو سکتی۔ یہ صرف ایک زندگی کی بقا نہیں، یہ ایمان کی فتح ہے، یہ ٹوٹتی دعاؤں کے دوبارہ جڑنے کا معجزہ ہے، یہ اس محبت کا صلہ ہے جو برسوں سے بغیر کسی غرض کے اس کے گرد حصار بنائے کھڑی ہے… اور اب آگے کیا لکھا ہے، کتنی سانسیں ابھی باقی ہیں، یہ راز صرف ربِ کائنات کے علم میں ہے—مگر جو کچھ بیت چکا، وہی ایک ایسی داستان بن چکا ہے جو دل کو چیر کر آنسوؤں میں بہا دیتا ہے اور روح کو جھکا کر سجدۂ شکر پر مجبور کر دیتا ہے۔

قاری ممتاز احمد جامعی 


جمعرات، 9 اپریل، 2026

بنگال کی سیاست، وائرل ویڈیو اور اعتماد کا بحران


بنگال کی سیاست میں وائرل ویڈیو، مبینہ سودے بازی اور اویسی برادران پر اٹھتے سوالات—ایک جامع اور تنقیدی تجزیہ۔

ذیل میں وہ وائرل ویڈیو ملاحظہ کریں


آج کل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو نے بنگال کے سیاسی ماحول میں غیر معمولی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ اس ویڈیو میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ہمایوں کبیر نے تقریباً ایک ہزار کروڑ روپے کے بدلے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ کوئی خفیہ معاملہ طے کیا تاکہ بنگال میں اس کی جیت یقینی بنائی جا سکے۔ اگرچہ اس دعوے کی سچائی اپنی جگہ تحقیق طلب ہے، لیکن اس نے عوام کے ذہنوں میں سیاست دانوں کی نیت، دیانت اور کردار پر سنگین سوالات ضرور کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اس نوعیت کے الزامات سامنے آئے ہوں، مگر اس بار معاملہ اس لیے زیادہ حساس ہو گیا ہے کہ یہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عوام پہلے ہی سیاسی وعدوں اور حقیقت کے درمیان فرق کو لے کر بدظن ہو چکی ہے۔ مگر اب سوال صرف ایک ویڈیو کا نہیں رہا، بلکہ پورے سیاسی نظام کی ساکھ اور شفافیت کٹہرے میں کھڑی نظر آ رہی ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اگر ایک نسبتاً معمولی سطح کا رہنما اتنی بڑی رقم پر “خرید” لیا جا سکتا ہے، تو پھر بڑے سیاسی چہروں کے بارے میں عوام کیا رائے قائم کریں؟ کیا سیاست واقعی نظریات کی جنگ ہے یا محض سرمایہ اور سودے بازی کا کھیل بن چکی ہے؟ اسی تناظر میں بعض حلقوں کی جانب سے اسد الدین اویسی اور ان کے بھائی اکبر الدین اویسی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ ماضی میں اویسی صاحب نے عمرہ کے موقع پر بڑے پُرعزم انداز میں بی جے پی سے کسی بھی قسم کے ساز باز کی سختی سے تردید کی تھی۔ عوام کے ذہن میں اب یہ تضاد کھل کر سامنے آ رہا ہے کہ ایک طرف واضح تردیدیں اور قسمیں، اور دوسری طرف ایسے حالات و روابط کی خبریں—یہ سب مل کر اعتماد کے بحران کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ اب یہی تضاد عوام کے ذہن میں سب سے بڑا سوال بن کر ابھر رہا ہے کہ آخر سچ کیا ہے اور پردے کے پیچھے کیا کھیل چل رہا ہے؟

اب جبکہ ہمایوں کبیر کے ساتھ ان کے ممکنہ سیاسی روابط یا اتحاد کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، تو شکوک و شبہات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ عوام کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو رہا ہے کہ اصل حقیقت کیا ہے اور کس پر یقین کیا جائے۔ نتیجتاً سیاست پر اعتماد کمزور ہوتا جا رہا ہے، اور یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ اقتدار کی سیاست میں اصول، دعوے اور حتیٰ کہ مذہبی جذبات بھی وقتی مفادات کے تابع ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف سیاسی نظام کے لیے خطرہ ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی اور عوامی شعور کے لیے بھی ایک سنجیدہ چیلنج ہے۔ یہ محض ایک الزام نہیں، بلکہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں موجودہ سیاست کا چہرہ صاف دکھائی دینے لگا ہے۔

اسی تناظر میں اویسی برادران، خصوصاً اسد الدین اویسی، ایک بار پھر بحث کے مرکز میں ہیں۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ وہ ایک باصلاحیت مقرر، قانون داں اور تجربہ کار سیاست دان ہیں، جن کی ذہانت کے معترف مخالفین بھی ہیں۔ مگر ان کا مخصوص طرزِ تکلم اور بعض اوقات جارحانہ بیانیہ انہیں مسلسل شکوک کے دائرے میں رکھتا ہے۔ یہی صلاحیت جب جذباتی اور تیز لہجے کے ساتھ سامنے آتی ہے تو سوالات اور بھی سنگین ہو جاتے ہیں۔ کیا یہ طرزِ تکلم واقعی ملت کی رہنمائی ہے یا محض ایک ایسا سیاسی ہتھیار جس کے ذریعے جذبات کو بھڑکا کر ووٹ سمیٹے جاتے ہیں؟ ان کے ناقدین کا ماننا ہے کہ ان کے بیانات میں خلوص سے زیادہ سیاسی حکمت عملی کارفرما ہوتی ہے، اور یہ اعتراض اب پہلے سے کہیں زیادہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

تازہ ویڈیو کے بعد یہ شکوک مزید گہرے ہونے کا اندیشہ ہے، بلکہ عوام کے ایک طبقے کے نزدیک یہ شبہ یقین میں بھی بدل سکتا ہے۔ اب اصل امتحان اویسی برادران کے لیے یہ ہے کہ وہ اپنے حامیوں اور ناقدین دونوں کو کس طرح مطمئن کرتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا محض وضاحتیں اور بیانات اس دراڑ کو بھر سکیں گے جو اعتماد میں پڑ چکی ہے؟ یا پھر یہ معاملہ بھی وقت کے ساتھ دب تو جائے گا مگر عوام کے ذہن میں ایک مستقل شکوک کی شکل اختیار کر لے گا؟ لیکن ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ عام عوام کی بڑی تعداد سیاسی فہم، بصیرت اور گہرے تجزیے کی صلاحیت سے محروم ہوتی ہے، جس کے باعث اکثر نااہل یا متنازع چہرے بھی اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جذباتی نعروں اور وقتی بیانیوں کے ذریعے عوامی رائے کو متاثر کرنا آسان ہو جاتا ہے، جبکہ حقیقت پسندی اور سنجیدہ تجزیہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

اسی پس منظر میں معروف صحافی و اسلامی اسکالر مولانا عبد الحمید نعمانی نے ایک نہایت اہم نکتہ اٹھایا کہ اویسی صاحب جو بیانات حیدرآباد میں دیتے ہیں، کیا وہ پورے ہندوستان کے زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر دیے جاتے ہیں؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ ہندوستان محض چند بڑے شہروں کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا ملک ہے جہاں بے شمار مقامات پر مسلمان اقلیت میں نہایت نازک حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ وہاں ایک غلط یا جذباتی بیان کے اثرات کہیں زیادہ شدید ہو سکتے ہیں، جس کا اندازہ شاید بڑے سیاسی پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر لگانا آسان نہیں ہوتا۔ ہندوستان محض حیدرآباد نہیں ہے؛ یہ حقیقت جتنی سادہ ہے اتنی ہی نظر انداز کی جاتی ہے۔

یہاں ایک اور بنیادی سوال پوری شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے: ایک تعلیم یافتہ بیرسٹر اور خاندانی سیاسی پس منظر رکھنے والا لیڈر جب مسلم اکثریتی علاقوں میں جارحانہ بیانیہ اپناتا ہے، تو کیا وہ ان علاقوں کو بھی دیکھتا ہے جہاں چند مسلم گھرانے اکثریتی برادری کے درمیان خوف اور احتیاط کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں؟ خاص طور پر ایسے وقت میں جب راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) جیسی تنظیمیں نظریاتی طور پر مضبوط اور فعال ہیں، اور ملک کا ماحول پہلے ہی حساس اور کشیدہ ہے۔ ایسے حالات میں ذمہ دارانہ زبان اور متوازن حکمت عملی کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے، مگر بدقسمتی سے یہی پہلو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

مزید برآں، یہ بھی غور طلب ہے کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں کسی بھی ویڈیو یا بیان کا اثر محض ایک علاقے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ وہ پورے ملک بلکہ عالمی سطح تک پہنچ جاتا ہے۔ ایسے میں سیاسی شخصیات کی ذمہ داری کئی گنا بڑھ جاتی ہے کہ وہ نہ صرف اپنے الفاظ بلکہ اپنے روابط اور فیصلوں میں بھی شفافیت اور سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ مگر افسوس یہ ہے کہ اکثر مواقع پر سنجیدگی، احتیاط اور دیانت کی جگہ جذباتی بیانیہ اور وقتی فائدہ غالب آ جاتا ہے، جس کا خمیازہ پورا سماج بھگتتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ افواہیں، شبہات اور پروپیگنڈہ حقیقت پر غالب آ جاتے ہیں، اور عوام سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کرنے میں مزید الجھ جاتے ہیں۔

ان تمام حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ موجودہ حالات میں اویسی صاحب کے لیے اہلِ علم اور باشعور طبقے کو مطمئن کرنا آسان نہیں ہوگا، خاص طور پر اس وقت جب شکوک کو تقویت دینے والی ایسی ویڈیوز عوام کے درمیان گردش کر رہی ہوں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنے سیاسی بیانیے، عملی اقدامات اور واضح مؤقف کے ذریعے اس اعتماد کو بحال کر پاتے ہیں یا نہیں—ورنہ یہ بداعتمادی صرف ایک فرد یا جماعت تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے جمہوری نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی، اور اس کا نقصان پورے سماج کو بھگتنا پڑے گا۔

قاری ممتاز احمد جامعی

majaamai@gmail.com


بدھ، 11 مارچ، 2026

ایپسٹین فائلز اور عالمی اخلاقیات کی منافقت — اسلامی عدل کا حقیقی معیار


 اسلامی ضابطۂ حیات بمقابلہ دگر مذاہب، زندیقیت اور کذاب و دجالی اقوام

ایپسٹین فائلز، ویکی لیکس اور عالمی اخلاقی دعووں کی منافقت
انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ظلم ہوا، بلکہ یہ ہے کہ ظلم کو تمدن، قانون اور عالمی اخلاقیات کے نام پر چھپایا گیا۔ حالیہ بدنامِ زمانہ ایپسٹین فائلز ہوں یا ماضی میں ویکی لیکس اور دیگر خفیہ دستاویزات کے انکشافات—ان سب نے کسی ایک فرد یا واقعے کو نہیں، بلکہ اس پورے عالمی نظام کا نقاب اتارا ہے جو خود کو “مہذب دنیا” کا رہنما کہتا ہے، مگر اندر سے اخلاقی طور پر کھوکھلا ہے۔ اس نظام کی ڈھٹائی کا عالم یہ ہے کہ اپنا سیاہ کردار چھپائے ہوئے، دیگر اقوام کو اخلاقیات کا درس دیتا پھرتا ہے۔
اسلام جب انسان کی بات کرتا ہے تو اسے محض معاشی اکائی، ووٹر یا صارف نہیں بناتا، بلکہ امانتِ الٰہی قرار دیتا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک تمام انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات کا مرکزی نکتہ یہی رہا کہ انسان کی جان، عزت اور حرمت غیر مشروط ہے—خواہ وہ طاقتور ہو یا کمزور، حاکم ہو یا محکوم۔
اس کے برعکس ایپسٹین فائلز اور ویکی لیکس اس تلخ حقیقت کو آشکار کرتی ہیں کہ جدید عالمی نظام میں طاقت، اخلاق سے بڑی ہو چکی ہے۔ یہاں جرم کا معیار عمل نہیں بلکہ اثر و رسوخ ہے۔ اگر مجرم طاقتور ہو تو فائل بند، تحقیق محدود اور انصاف مؤخر کر دیا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں “مہذب سماج” کا دعویٰ خود اپنے خلاف گواہی بن جاتا ہے۔
اسلامی تاریخ میں عدل کا معیار کبھی طاقت نہیں رہا۔ حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ—سب نے اپنی اپنی قوموں کے طاقتور طبقے کو للکارا، کمزور کی حمایت کی اور واضح کر دیا کہ باطل، اکثریت یا اقتدار سے حق نہیں بن جاتا۔ یہی اصول نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ میں کامل اور عملی صورت میں جلوہ گر ہوا۔
نبی کریم ﷺ نے مدینہ میں جو ریاست قائم کی، اس کی بنیاد خوف، خفیہ معاہدوں یا اشرافیہ کے تحفظ پر نہیں بلکہ کھلے عدل اور ہمہ گیر جواب دہی پر تھی۔ وہاں کوئی “ناقابلِ تفتیش” طبقہ موجود نہیں تھا۔ اسی اصول کو واضح کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا:
اگر فاطمہؓ بنتِ محمد بھی چوری کرے تو اس پر بھی حد قائم کی جائے گی۔
یہ وہ معیار ہے جسے آج کی نام نہاد عالمی عدالتیں چھونے کی جرأت بھی نہیں کرتیں۔
خلفائے راشدینؓ کے دور میں یہی عدل ایک مکمل نظام کی صورت اختیار کر گیا۔ حضرت عمرؓ کا اپنے آپ کو عدالت میں پیش کرنا، حضرت علیؓ کا ایک عام شہری کے برابر کھڑا ہونا—یہ سب اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ اسلام میں انصاف شخصیات سے نہیں، اصولوں سے چلتا ہے۔ یہاں جرم نہ چھپایا جاتا ہے اور نہ ہی قرابت یا منصب کی بنیاد پر معاف کیا جاتا ہے۔
اس کے بالمقابل آج کے عالمی ادارے—چاہے وہ اقوامِ متحدہ ہوں یا عالمی عدالتیں—اکثر انتخابی اخلاقیات پر عمل پیرا دکھائی دیتے ہیں۔ کمزور ممالک پر انسانی حقوق کے نام پر دباؤ، مگر طاقتور اقوام اور ان کے بااثر افراد پر معنی خیز خاموشی۔ ایپسٹین فائلز اسی دوہرے معیار کی ایک زندہ اور شرمناک مثال ہیں۔
اسلام جس صالح معاشرے کا تصور پیش کرتا ہے، اس میں سب سے پہلی ترجیح کمزور کی حفاظت ہے۔ بچے، عورتیں، یتیم اور مظلوم—یہ سب ریاست کی ذمہ داری ہوتے ہیں، نہ کہ طاقتوروں کی تفریح یا نظامی غفلت کا شکار۔ جس معاشرے میں کمزور محفوظ نہ ہو، وہ اسلام کی نظر میں فاسد ہے، چاہے وہ خود کو کتنا ہی ترقی یافتہ کیوں نہ کہے۔
ایپسٹین کیس نے یہ حقیقت بھی بے نقاب کر دی کہ جب میڈیا، سیاست اور سرمایہ ایک دوسرے سے گٹھ جوڑ کر لیں تو سچ دب جاتا ہے۔ اسلام نے اسی خطرے کے سدباب کے لیے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو اجتماعی فریضہ قرار دیا، تاکہ طاقتور کے خلاف بھی حق کی آواز بلند کی جا سکے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ایپسٹین مجرم تھا یا نہیں—اصل سوال یہ ہے کہ اسے اور اس جیسے دیگر افراد کو برسوں تک تحفظ کس نے دیا؟ اور عالمی ضمیر کو جاگنے میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟ اسلام اس سوال کا جواب نہایت وضاحت سے دیتا ہے:
جب عدل کو مصلحت پر قربان کر دیا جائے تو پورا معاشرہ شریکِ جرم بن جاتا ہے۔
لہٰذا اسلامی ضابطۂ حیات محض عبادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ انسانیت کا جامع حفاظتی نظام ہے۔ یہ نظام کسی ایک قوم، نسل یا خطے کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے—بشرطیکہ دنیا اخلاق کو طاقت پر اور اصول کو مفاد پر ترجیح دینے کا حوصلہ پیدا کرے۔
نتیجہ یہی ہے کہ ایپسٹین فائلز کوئی حادثہ نہیں بلکہ آج کی دجالی اقوام کی حقیقی تصویر ہیں؛ وہ خود اس فاسد معیار کو درست قرار دے کر دیگر اقوام کو اسی معیار کا حصہ بننے پر مجبور کرتی ہیں، اور انکار کی صورت میں نت نئے ظلم، جبر اور وارننگز مسلط کرتی ہیں۔
اگر انسانیت نے اسلامی عدل، جواب دہی اور اخلاقی حدود سے سبق نہ لیا تو آنے والی تاریخ ایسے مزید گھناؤنے اور بے رحم نظاموں کی داستانیں لکھتی رہے گی۔

اس میں کیا دو رائے ہے کہ دنیا پر ایک غیر اخلاقی عالمی اشرافیہ نے اپنا کنٹرول ایسے ہی نہیں قائم رکھا؛ کہیں عورتوں کو جاسوسی کے لیے استعمال کیا گیا، کہیں قتل و تخریب کے لیے، اور ساری دنیا کے ذہنوں کو مفلوج کرنے کے لیے پورنوگرافی کا ایسا جال بچھایا گیا جس کے جنجال میں چھوٹے سے لے کر بڑا، ہر مذہب، تہذیب اور تمدن کا آدمی پھنسا ہوا ہے۔ خلفائے راشدینؓ کے دور میں بھی اسی نوعیت کی چالیں آزمائی گئیں، مگر وہ خیرالقرون تھا—تابعین اور تبع تابعینؒ نے ان فتنوں کو ناکام بنا دیا۔ البتہ آج کے دور میں مسلم امرا و سلاطین اس اخلاقی یلغار کے سامنے خود اپنی کمزوریوں کے باعث بچ نہیں پا رہے۔


✍️ قاری ممتاز احمد جامعی

ممتاز دینی و سماجی موضوعات پر لکھنے والے قلمکار ہیں۔ اسلامی فکر، تہذیبی مباحث اور عالمی حالات کے تناظر میں اسلام کے عادلانہ نظامِ حیات پر ان کی تحریریں قارئین میں خاصی پذیرائی حاصل کرتی ہیں۔

📧 رابطہ:

majaamai@gmail.com