عدالتیں: عدل یا اقتدار کا ہتھیار؟
تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی
مولانا ابوالکلام آزادؒ نے کہا تھا: "عدالتیں حکومت وقت کا بہترین ہتھیار ہوا کرتیں ہیں"۔ یہ جملہ آج کے بھارت میں لمحہ بہ لمحہ اپنی سچائی ثابت کر رہا ہے۔ عدالت کا مقصد انصاف فراہم کرنا ہے، مگر جب وہ حکومت کے سیاسی بیانیے کی خدمت کرنے لگے تو انصاف قتل اور عدل تماشا بن جاتا ہے۔
بھارت میں آج عدلیہ پر سوالیہ نشان بڑھتے جا رہے ہیں۔ احتجاج کرنے والے طلبہ، صحافی اور ایکٹیوسٹ جیلوں میں ڈال دیے جاتے ہیں، اور عدالتیں ان کی ضمانت تک دینے سے ہچکچاتی ہیں۔ دہلی ہائیکورٹ کی تازہ مثال ہمارے سامنے ہے جہاں شرجیل امام، ڈاکٹر عمر خالد، خالد سیفی، میران حیدر اور گلفشاں فاطمہ جیسے ایکٹیوسٹ برسوں سے جیلوں میں بند ہیں۔ ان پر ’’یو اے پی اے‘‘ جیسے سخت قوانین کے تحت مقدمات قائم ہیں، جبکہ عدالتی فیصلوں میں بار بار ضمانت مسترد کی جا رہی ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے خلاف پرامن تحریک چلائی تھی، مگر عدالتیں، جو عوامی آزادی کی محافظ ہونی چاہییں، آج حکومت کے بیانیے کو قانونی شکل دینے کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔
یہ صورتحال کوئی نئی نہیں۔ بابری مسجد مقدمہ میں انصاف قربان ہوا، مالیگاؤں بم بلاسٹ کے تمام ملزمان باعزت بری ہو گئے، مگر مسلم نوجوانوں کی رہائی میں دہائیاں لگ گئیں۔ کشمیر آرٹیکل 370 اور سی اے اے کے معاملات میں عدلیہ کھل کر حکومت کے مؤقف کے قریب جا کھڑی ہوئی۔ اور اب شرجیل امام و ساتھیوں کا معاملہ بتا رہا ہے کہ عدالتیں مسلم دشمنی اور حکومتی دباؤ کے سامنے کس طرح بے بس یا مصلحت پسند ہیں۔
مولانا آزادؒ کی بصیرت آج ایک کڑوا سچ ہے۔ عدلیہ عوام کے لیے امید نہیں بلکہ حکومت کے لیے ڈھال بن گئی ہے۔ شرجیل امام اور ان کے ساتھیوں کا معاملہ بتا رہا ہے کہ عدالتیں طاقتور کے سامنے جھکتی ہیں اور کمزور کے لیے تازیانہ بن جاتی ہیں۔ اگر انصاف کی بحالی کے لیے اجتماعی دباؤ نہ ڈالا گیا تو یہ جمہوریت محض کاغذی رہ جائے گی، اور عدلیہ کا وجود صرف اقتدار کے ہتھیار کے طور پر باقی بچے گا۔ یہی وقت ہے کہ انصاف پسند طبقات، ملی تنظیمیں اور عوام متحد ہو کر سوال اٹھائیں، ورنہ تاریخ یہ گواہی دے گی کہ عدالتیں ظالم کے ساتھ کھڑی تھیں اور مظلوم کو تنہا چھوڑ گئیں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔