قائدین کی منافقت اور عوام کا اعتماد کا بحران — امت کی سیاسی و اخلاقی پسپائی کا اصل سبب
یوں تو بندہ جب سے باشعور ہوا تبھی سے ہندی فلم انڈسٹری اور بھارتی سیاسی پارٹیوں (چند افراد کو چھوڑ کر) کے متعلق ایک واضح نظریہ رکھتا ہے کہ یہ طبقہ زیادہ تر لامذہب، زندیق اور جدید اصطلاح میں ’’لبرل ایتھیسٹ‘‘ مزاج رکھتا ہے۔ اسلام سے ان کا تعلق صرف اتنا ہی ہوتا ہے کہ ان کے نام کے ساتھ کوئی مسلمان پہچان والا لاحقہ جڑا ہوتا ہے، ورنہ عقائد و اسلامی شعائر سے یہ لوگ نابلد ہوتے ہیں۔ ہاں، کبھی کبھی یہی مسلم نام ان کے لیے مصیبت کا سبب بھی بن جاتا ہے، جب ہندوتوا نظریے کے شدت پسند ان سے ٹکرا جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر چند برس قبل مشہور اداکار شاہ رخ خان کے بیٹے کو NCB کے ذریعے گرفتار کیا گیا، یا ایڈووکیٹ مجید میمن جیسے معتدل مسلم چہروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
بھارت مختلف تہذیبوں اور تمدنی تنوع کا مرکز ہے، اور اس میں شک نہیں کہ آزادی سے قبل یہ تنوع ایک اخلاقی توازن کے ساتھ موجود تھا، مگر آزادی کے بعد کے حالات نے بہت کچھ بدل دیا۔ ’’گنگا جمنی تہذیب‘‘ جیسا لفظ اگرچہ بظاہر ہم آہنگی اور باہمی احترام کا مظہر ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اسی نظریے کے نام پر اسلام کی خالص شناخت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا۔ سیاسی مفاد پرستی اور فلمی ثقافت کے امتزاج نے مسلم معاشرت کی جڑیں کمزور کر دیں۔ عقائد، سیرتِ نبوی ﷺ اور دینی شعائر کا مذاق بننے لگا۔ آج جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں، ملک بھر میں ’’چھٹ پوجا‘‘ منائی جا رہی ہے، اور سوشل میڈیا پر ایک مسلم ایم ایل اے (سمستی پور، بہار) کو دیکھا گیا کہ وہ سر پر پوجا کا سامان رکھ کر گھاٹ پر جا رہے ہیں، پانی میں اتر کر ’’ڈوبتے سورج‘‘ کو سلام کر رہے ہیں۔ یہ مناظر صرف مذہبی انحطاط نہیں بلکہ فکری خودکشی ہیں۔
سیاسی منافقت کا یہ زہر دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ قائدین جب اقتدار کے دربار میں پہنچتے ہیں تو ان کے لیے ایمان، اصول اور نظریہ سب کچھ ثانوی بن جاتا ہے۔ جب موقع آتا ہے، تو ذاتی مفاد کے لیے کفریہ کلمات زبان سے نکلنے میں لمحہ نہیں لگتا۔ چند سال قبل امارتِ شرعیہ پھلواری شریف، پٹنہ کے صدر مفتی سہیل ندوی قاسمی صاحب نے حالات کے بگاڑ پر ایک تاریخی فتویٰ دیا تھا، جب چمپارن کے ایک مسلم ایم ایل اے خورشید عرف فیروز نے عوامی جلسے میں ’’جے شری رام‘‘ کا نعرہ بلند کیا۔ مفتی صاحب نے اس عمل کو کفر قرار دیا، مگر بعد میں خاندانی دباؤ میں آکر وہی شخص رجوع کے لیے امارت پہنچا۔ یہ وہی دوغلا پن ہے جو سیاست کے جسم میں خون بن کر دوڑ رہا ہے۔
اسی طرح جے ڈی یو کے لیڈر سلیم پرویز، جو اس وقت بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ کے چیئرمین بھی ہیں، نے وقف بل کے موقع پر امارتِ شرعیہ جیسے باوقار دینی ادارے کے خلاف زبان درازی کی، حالانکہ انہی اداروں کی قربت سے وہ پہچان حاصل کر پائے تھے۔ موجودہ ایم ایل سی خالد انور، جو کبھی امارتِ شرعیہ کے پلیٹ فارم سے ابھرے، وہ بھی وقف بل کی حمایت میں حکومت کے ساتھ کھڑے دکھائی دیے، جبکہ امارت نے امت کے مفاد میں اس کی مخالفت کی تھی۔ سوال یہ ہے کہ جب آپ امت کے نمائندہ بن کر منتخب ہوئے تھے، تو پھر ضمیر کہاں چلا گیا؟
ڈاکٹر فرید امان اللہ، جوائنٹ سیکرٹری ادارہ شرعیہ، کی طرف سے حالیہ دنوں کسی ’’سیکولر‘‘ پارٹی کی تائید کی خبر سامنے آئی ہے۔ اگر یہ تائید ادارے کی جانب سے ہے تو یہ ایک خطرناک اور منافقانہ رویہ ہے، کیونکہ اسی ادارے کے دوسرے ذمہ دار غلام رسول بلیاوی ایک کھلی فرقہ پرست پارٹی سے وابستہ ہیں۔ امت کے لیے یہ دوہرا معیار سب سے بڑا زہر ہے۔ ایک طرف ملی قیادت کا دعویٰ، دوسری طرف دشمنِ ملت جماعتوں کے ساتھ نرم رویہ—یہ وہی مزاج ہے جو امت کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی مخلص نے اپنے ضمیر کی آواز پر سیاست میں قربانی دی، امت کو اخلاقی طاقت ملی۔ پہلا واقعہ 1996ء میں پیش آیا جب اٹل بہاری واجپائی کی سربراہی میں مرکز میں بی جے پی کی حکومت بنی، مگر صرف 13 دن میں گر گئی، کیونکہ نیشنل کانفرنس کے رکنِ پارلیمنٹ سیف الدین سوز نے اپنی پارٹی لائن سے اختلاف کرتے ہوئے بی جے پی کے خلاف ووٹ دیا۔ اسی طرح آندھرا پردیش کی تیلگو دیشم پارٹی کے رکن اسمبلی بشیر احمد نے فرقہ پرست حکومت کی حمایت سے انکار کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جس سے صوبائی حکومت گر گئی۔ یہ تھے وہ لوگ جنہوں نے اقتدار نہیں، ایمان کی حفاظت کو ترجیح دی۔
آج امت ایسے ضمیروں کی تلاش میں ہے جو کسی مفاد یا منصب کے سامنے جھک نہ جائیں۔ مگر افسوس کہ قائدین کی اکثریت نے خود کو اقتدار کی غلامی میں بیچ دیا ہے۔ عوام کا اعتماد ٹوٹ چکا ہے۔ لوگ اب اپنے قائدین کی بات پر یقین نہیں کرتے، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ہر تقریر کے پیچھے کوئی معاہدہ، کوئی لالچ، یا کوئی سیاسی گٹھ جوڑ چھپا ہوتا ہے۔
اصل المیہ یہ ہے کہ عوام کی بیداری وقتی جوش میں سمٹ کر رہ گئی ہے، اور قائدین کی منافقت دائمی عادت بن چکی ہے۔ جب تک امت اپنے نمائندوں کا محاسبہ نہیں کرے گی، ان سے جواب نہیں مانگے گی، تب تک یہ زوال جاری رہے گا۔ امت کی سیاسی، اخلاقی اور فکری پسپائی کا اصل سبب یہی دوغلا پن ہے—قائدین کا مفاد پرستی میں ڈوبا ضمیر اور عوام کا خاموش تماشائی بن جانا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ امت ایک نئے سیاسی اخلاق کی بنیاد رکھے، جس میں ایمان، اصول، دیانت اور جواب دہی مرکزی حیثیت رکھتے ہوں۔ اگر اب بھی ہم نے اس بحران کو سمجھنے میں تاخیر کی، تو شاید ہماری نسلیں صرف تاریخ میں یہ لکھیں گی کہ ’’کبھی ہم ایک امت تھے، مگر منافقت نے ہمیں بکھیر دیا۔‘‘
قاری ممتاز احمد جامعی
📧 majaamai@gmail.com
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔