ہفتہ، 18 اکتوبر، 2025

امارت شرعیہ: منصب کی جنگ نہیں، ملت کی امانت ہے

 دردمندانہ اپیل


بعنوان:


امارت شرعیہ: منصب کی جنگ نہیں، ملت کی امانت ہے!


(ایک غیر جانب دار اصلاحی آواز)


جب ادارے افراد سے بڑے ہوں اور اصول شخصیتوں سے بلند تر — تب قومیں بنتی ہیں، اور تاریخ فخر کرتی ہے۔


لیکن جب فرد ادارے پر غالب آ جائے، جب ذاتی مفاد اصول پر بھاری ہو جائے، اور جب جماعتیں اپنے حصار میں ملت کو قید کرنے لگیں — تب امت انتشار کی دہلیز پر پہنچتی ہے۔


ایسا ہی ایک نازک لمحہ، آج امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ کے حوالے سے امت مسلمہ کے سامنے ہے۔


قضیہ نامرضیہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کا دائرہ مسلسل ایک تشویشناک صورتحال کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دونوں دعوے دارانِ "امیر شریعت" اپنے اپنے حلقے سے نکل کر اثر و رسوخ کے بل پر عوام الناس سے رجوع، ہنگامی دورے اور بیعت و تائید کے اجتماعات کر رہے ہیں، گویا ملت ایک دوسرگوں کشمکش کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔


یہ کوئی معمولی ادارہ نہیں، کہ جسے فقط کسی نشست، کسی عہدہ یا کسی شخصیت سے تعبیر کر دیا جائے۔


یہ ایک خواب کا تسلسل ہے — جو حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجادؒ، مولانا محمد علی مونگیریؒ، مولانا منت اللہ رحمانیؒ، اور حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ جیسے رجال کی قربانیوں سے پروان چڑھا۔


یہ اس قوم کا اجتماعی ضمیر ہے — جو آئینِ ہند کے دائرے میں رہ کر دینی، ملی، تعلیمی، اور سماجی خودمختاری کا شعور رکھتی ہے۔


مگر آج جب ہم اپنے بزرگوں کی چھوڑی ہوئی اس امانت پر نظر ڈالتے ہیں، تو دل کانپ اٹھتا ہے۔


کرسی کی کشمکش، گروہی صف بندی، امارت کی تقسیم — یہ سب کچھ وہ زخم ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایک ادارہ، بلکہ پوری ملت کے وقار کو مجروح کیا ہے۔


حالیہ ایّام میں منعقد دونوں عظیم الشان جلسے، بظاہر اتحاد کے نام پر منعقد ہوئے — مگر باطن میں ایک ناقابلِ انکار حقیقت چھپی ہے:

امت دو رُخوں میں تقسیم ہو رہی ہے، اور ہم سب اس المیے کے خاموش گواہ بنے کھڑے ہیں۔


مفتیانِ کرام، فضلا، حفاظ، دانشوران قوم و ملت، ادارہ جاتی ذمے داران — سب کو ایک لائن میں کھڑا کر کے گروہی وفاداری کی فصیلیں بلند کی جا رہی ہیں۔


یہ وقت فتح و شکست کے اعلانات کا نہیں،

یہ وقت جیتنے یا ہرانے کا نہیں —

بلکہ یہ وہ گھڑی ہے جب ملت کے ذی شعور افراد، غیر جانب دار ادارے، مخلص علما و دانشور آگے آئیں، اور یہ کہیں:


> "ہمیں نہ تمہاری جیت سے غرض ہے، نہ اس کی ہار سے؛

ہمیں صرف اتنا معلوم ہے کہ امت ہار رہی ہے!"


ہماری دردمندانہ اپیل ہے کہ:


1. دونوں موجودہ دعوے دار گروہ اعلانیہ اور بلاتاخیر دستبردار ہوں؛


2. ایک مشترکہ عبوری شوریٰ تشکیل دی جائے، جس میں کسی فریق کا غلبہ نہ ہو؛


3. اس شوریٰ کے زیرِ نگرانی، واضح، شرعی، آئینی، اور شفاف نظام کے مطابق نئے امیر کے انتخاب کی راہ ہموار ہو؛


4. اس نئے امیر کا انتخاب انسان نہیں، اصول کرے؛ اور پسند نہیں، ملت کی امانت کرے۔


ہم جیسے لوگ، جنہوں نے ہمیشہ امارت شرعیہ کے فیصلوں کو احترام دیا ہے، اور اس کے وجود کو دین کی اجتماعی علامت سمجھا ہے — آج یہ سوال کرتے ہیں:


📌 کیا وقت نہیں آ گیا کہ ہم اداروں کو افراد سے بلند تر مانیں؟


📌 کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم کسی تیسرے باوقار، دیانت دار، متفق علیہ فرد کو موقع دیں؟


📌 کیا قوم کی مائیں صرف دو ہی افراد کو چننے پر قادر ہیں؟


📌 کیا واقعی ہم اصول، دیانت، اور شفاف قیادت کے خواب سے دستبردار ہو چکے ہیں؟


ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ:


📌 شخصیات کے ہجوم سے نکل کر اصولوں کا پرچم اٹھائیں؛


📌 ماضی پر رونے کے بجائے حال کو سنواریں؛


📌 اور اس ادارے کو آنے والی نسلوں کے اعتماد کے قابل بنا دیں۔


اگر ہم نے یہ موقع بھی کھو دیا —

تو یاد رکھئے!


کرسی بچ جائے گی، افراد جی لیں گے،

لیکن امت ہار جائے گی…!


جانب: قاری ممتاز احمد جامعی


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔