ہفتہ، 18 اکتوبر، 2025

کھیل کا جشن یا عقل کا ماتم؟ — ایک فکری تجزیہ

 کھیل کا جشن یا عقل کا ماتم؟ — ایک فکری تجزیہ


 پس منظر


بنگلور میں IPL ٹیم RCB کی جیت پر ایک جذباتی اور بے قابو ہجوم نے سڑکوں پر جشن منایا۔

دھوم دھڑاکے، نعرے، ڈھول، اور دیوانگی میں ڈوبی عوامی ریل کا انجام یہ ہوا کہ 10 قیمتی جانیں تلف ہو گئیں۔

ایک لمحے کو رک کر سوچیں:

یہ کس چیز کا جشن تھا؟

ایک کمرشل کھیل میں ایک ٹیم کی فتح؟

یا عقل، شعور، اور ایمان کی موت پر اجتماعی خاموشی؟

 کرکٹ: کھیل یا نئی نسل کا بت؟

یہ اب محض کھیل نہیں رہا،

بلکہ نفسیاتی غلامی، تجارتی جال، اور دینی بے حسی کا مجموعہ بن چکا ہے۔

کیا آپ نے کبھی غور کیا:

ایک چھکے پر پوری قوم اچھلتی ہے،

لیکن مسجد کی اذان پر کوئی کان نہیں دھرتا؛

ایک بال کے لیے پوری رات جاگتے ہیں،

مگر قرآن سننے کے لیے پانچ منٹ بھی نکالنا مشکل؛

بچے کھلاڑیوں کے نام یاد رکھتے ہیں،

مگر اصحابِ بدر یا خلفائے راشدین کے نام پوچھیں تو نظریں جھک جاتی ہیں۔

 اخلاقی و دینی زوال

کھیل کے نام پر نمازیں قضا ہوتی ہیں

تعلیمی نظام پر کھیل کی دیوانگی حاوی ہے

میڈیا اور اشتہارات میں مرد و زن کی بے حیائی فروغ پا رہی ہے

نوجوان نسل کی سوچ کرکٹ کے ریٹائرمنٹ، سنچری، اور کیپٹنسی تک محدود ہو چکی ہے

ایسے میں اگر کوئی کہے کہ "کرکٹ قوم کا فخر ہے"، تو یہ نہیں بلکہ قومی المیہ ہے۔

 حضرت مفتی عبد الرحیم لاجپوریؒ کا فکری مشاہدہ

یہ بات صرف جذبات یا رائے نہیں، بلکہ علمی اور فقہی بصیرت کا بھی تقاضا ہے۔

حضرت مفتی عبد الرحیم لاجپوریؒ (مصنف فتاویٰ رحیمیہ)

اپنی زندگی کے آخری ایام میں ایک اہم شرعی استفتا تیار کروا رہے تھے — موضوع تھا:

"کرکٹ کا شرعی حکم اور اس کے دینی اثرات"

انہوں نے فقہ کے ماہر علما سے فرمایا:

> "اس استفتا میں یہ نکتہ ضرور شامل کریں کہ:

بعض لوگ کرکٹ دیکھنے میں اس قدر مگن ہو جاتے ہیں کہ جب نماز کا وقت ختم ہونے کے قریب ہوتا ہے تو سوچتے ہیں:

’ایک بال اور دیکھ لوں، شاید چھکا لگ جائے’

اور یوں فرض نماز قضا ہو جاتی ہے۔

ایسے عمل کا شرعی حکم بیان کیا جائے۔"

حضرت مفتیؒ نے اس بات کو ایک فتنہ قرار دیا تھا،

مگر افسوس! حضرت کی عمر نے وفا نہ کی،

اور بعد کے مفتیان میں وہ جرأت، فکر اور امت کا درد باقی نہ رہا۔

یوں ایک عظیم علمی رہنمائی امت سے محروم ہو گئی۔

 قوم کی ترجیحات کا المیہ

علمائے حق کے بیانات پر کوئی کان نہیں دھرتا

لیکن کمنٹیٹرز کی چیخ پر پوری قوم ہل جاتی ہے

اصلاحی جلسے خالی، مگر کھیلوں کی جگہ بھری ہوئی

جنہوں نے قوم کے لیے جان دی، ان کے مزار اجنبی

جنہوں نے بیٹ گھمایا، ان کی تصویریں دیواروں پر

ایسی قوم کے لیے "آ بیل مجھے مار" محاورہ نہیں، زندہ حقیقت بن چکا ہے۔

ہم کھیل کے خلاف نہیں،

غفلت، ترجیحات کی خرابی، اور دینی خسارے کے خلاف ہیں۔

> کیا کھیل دیکھنا فرض نماز سے بڑھ کر ہے؟

کیا ایک چھکا دین کے ایک حرف سے قیمتی ہو گیا؟

کیا ہمارا دین اتنا سستا ہو گیا ہے کہ ایک اسکرین پر قربان ہو جائے؟

اگر نہیں — تو اب وقت ہے کہ:

ہم تماشائی بننا چھوڑیں، رہبر بنیں

بچوں کو کھلاڑیوں کے بجائے صحابہ کا فین بنائیں

کھیل کے تماشے کو دین پر قربان نہ کریں

اور سب سے بڑھ کر، کرکٹ پر ایمان نہ لائیں — ایمان کو بچائیں

یہ مضمون نہ نفرت ہے، نہ حسد،

یہ ایک دردمند دل کی فریاد ہے — جو چاہتا ہے کہ امت ہوش میں آئے۔

کرکٹ دیکھنا حرام نہیں،

لیکن کرکٹ میں ڈوب کر دین، نماز، اور عقل کو دفن کرنا یقینا فتنہ ہے۔

 "کھیل زندگی کا حصہ ہو، تو خوبصورت ہے؛

لیکن اگر زندگی کھیل بن جائے — تو تباہی ہے۔"

اللہ تعالیٰ ہمیں فتنوں سے بچائے،

امت کو فہم، توازن اور ترجیحات کی درست سمت عطا فرمائے۔

آمین۔

تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔