اتوار، 19 اکتوبر، 2025

اسلامی سیاست کے دعوے داروں میں سچائی اور وقار کی کمی — ایک فکری المیہ

اسلامی سیاست میں سچائی اور وقار کی کمی — ایک فکری المیہ

قلم: قاری ممتاز احمد جامعی

یہ انتشار، فتنہ و فساد، پروپیگنڈہ، دجل و فریب، مکاری و عیاری، اور عزت و نفس کی فروختگی — یہ سب بھارتی سیاست کا خاصہ بن چکا ہے۔ افسوس اس وقت بڑھ جاتا ہے جب یہی رویّے اُن افراد یا جماعتوں میں نظر آئیں جو خود کو دینی مزاج یا اسلامی تہذیب و تمدن سے وابستہ ظاہر کرتے ہیں۔ اگر دین کے نام لیوا بھی اسی طرزِ عمل کو اپنائیں تو پھر عوام کے لیے امتیاز باقی نہیں رہتا کہ کون اصول پر قائم ہے اور کون مفاد پر۔

سیاست دراصل امانت اور خدمتِ خلق کا نام ہے۔ یہ جھوٹ، الزام تراشی یا پروپیگنڈہ کا میدان نہیں۔ کسی بھی اختلاف یا رائے کے تناظر میں اگر سچائی کو مسخ کر کے پیش کیا جائے، یا اپنی بات کو تقویت دینے کے لیے غلط تاثر دیا جائے، تو یہ نہ صرف اخلاقی کمزوری ہے بلکہ عوامی اعتماد کے ساتھ خیانت بھی۔

دینی مزاج رکھنے والوں سے عوام کی توقع ہمیشہ بلند ہوتی ہے۔ ان کے ہر قول و عمل کو دیانت، صداقت اور تحمل کا مظہر سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ اگر وہی طبقہ جلدبازی، غیر مصدقہ دعوے یا سیاسی مفاد کے لیے غلط فہمیوں کو فروغ دے، تو اس سے سب سے زیادہ نقصان اسلامی سیاست کے وقار کو پہنچتا ہے۔

یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اختلاف اور اتفاق دونوں وقتی چیزیں ہیں، مگر کردار دائمی ہوتا ہے۔
کردار وہ ستون ہے جس پر قوم کا اعتماد قائم رہتا ہے۔ لہٰذا جب سیاست، چاہے دینی ہو یا غیر دینی، کردار سے خالی ہونے لگے تو وہ فتنہ بن جاتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان سیاسی کارکن اور رہنما اپنی زبان و قلم کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں۔ سچائی کو مقدم رکھیں، اور اگر کسی معاملے میں ابہام ہو تو وضاحت طلب کریں، نہ کہ افواہ کو ہوا دیں۔
کیونکہ اسلامی مزاج سیاست میں نہیں، کردار میں ظاہر ہوتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔