گزشتہ دنوں سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت وقف ترمیمی بل پر عدالتی کارروائی کے ابتدائی مراحل سے ایک خوش آئند فضا محسوس ہو رہی ہے۔ عدالت کا سنجیدہ رویہ، وکلاء کے سوالات کو اہمیت دینا، اور حکومت سے وضاحت طلبی، یہ تمام پہلو کسی حد تک اطمینان بخش ہیں۔ مگر یہ امر بھی ہمارے پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں بھی کئی مقدمات کی کارروائی مثبت آغاز کے باوجود فیصلے انصاف سے خالی اور حکومت کی منشا کے عین مطابق آئے۔
بابری مسجد کا فیصلہ ایک ایسی مثال ہے جو ہمارے ذہن و دل میں ہمیشہ تازہ رہنی چاہیے۔ اس مقدمہ میں عدالت نے تسلیم کیا کہ مسجد کو غیر قانونی طور پر گرایا گیا، مگر فیصلہ انہی عناصر کے حق میں صادر ہوا جن کے خلاف قانون شکنی ثابت ہوئی تھی۔ اسی طرح دفعہ 370 کی منسوخی، سی اے اے اور این آر سی جیسے قوانین، اور دیگر حساس مقدمات میں بھی عدالتی کردار پر عوامی حلقے میں سنجیدہ سوالات اٹھے۔
ایسے پس منظر میں، موجودہ عدالتی کارروائی پر خوش ہونا فطری ہے، مگر مکمل طور پر مطمئن ہوکر بیٹھ جانا دانش مندی نہیں۔ تنظیمی سطح پر ہمیں مندرجہ ذیل پہلوؤں پر بھرپور توجہ دینی ہوگی:
1. ہوشیاری اور چوکسی کے ساتھ ہر پیش رفت کا جائزہ لیتے رہیں۔
2. قانونی محاذ پر مضبوط نمائندگی کی مکمل حمایت کریں اور ہر ممکن تعاون جاری رکھیں۔
3. عوامی سطح پر بیداری، سمجھ داری، اور شعوری تحریک کو فروغ دیں تاکہ رائے عامہ بیدار ہو اور دباؤ برقرار رہے۔
4. ماضی کے عدالتی فیصلوں سے سبق لیتے ہوئے آئندہ کی حکمت عملی طے کریں۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ لڑائی صرف عدالت میں نہیں، بلکہ فکری محاذ، سماجی میدان، اور تنظیمی صفوں میں بھی لڑی جا رہی ہے۔ ہماری یکجہتی، اصولی استقامت، اور سنجیدہ تیاری ہی مستقبل کو محفوظ بنا سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حالات کی درست فہم، صبر و حکمت، اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
قاری ممتاز احمد جامعی
بانی و ناظم: جامعہ اشاعت العلوم، سمستی پور
مورخہ: 17 اپریل 2025ء
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔