اکھنڈ بھارت کا خواب یا داخلی انہدام؟ — ایک فکری جائزہ
قلم: قاری ممتاز احمد جامعی
> "کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری، صدیوں رہا ہے دشمنِ دورِ زماں ہمارا۔"
یہ مصرعہ آج کے ہندوستانی حالات پر ایک گہری طنز بھی ہے اور امید کا استعارہ بھی۔
وقت کے ساتھ حکومتیں بدلتی رہیں، مگر اس ملک کی اصل روح — رواداری، عدل، اور گنگا جمنی تہذیب — آج بھی کہیں نہ کہیں سانس لے رہی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ اسی روح کو آج اقتدار کی کرسیوں پر بیٹھے وہ نظریات دبا رہے ہیں جن کا وجود نفرت، بالادستی، اور مذہبی جنون پر کھڑا ہے۔
بی جے پی اور آر ایس ایس کی ہندوتوا پالیسی برسوں سے ایک ہی خواب بیچ رہی ہے: “اکھنڈ بھارت”۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ منوسمرتی جیسے غیر انسانی نظام کی بنیاد پر نہ کوئی قوم متحد رہ سکتی ہے اور نہ ہی کوئی سماج ترقی کر سکتا ہے۔ ستی پرتھا، نیوگ پرتھا، اور دلت و نچلی ذاتوں کی تذلیل اب تاریخ کے تاریک باب ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی گروہ دوبارہ اسی دیو مالائی سماج کو زندہ کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے تو وہ خود اپنی نسلوں کو ماضی کی غلامی کی طرف دھکیل رہا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ جو لوگ اپنے ہی ملک کی مشترکہ تہذیب، اسلامی آثار، اور مسلم ثقافت کے وجود کو برداشت نہیں کر سکتے، وہ “اکھنڈ بھارت” کے نام پر دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ اگر واقعی انہیں اتحاد کا شوق ہے تو پھر نفرت اور اونچ نیچ کی دیواریں گرا کر اپنے ہی شہریوں سے انصاف کرنا ہوگا۔ ورنہ یہ نعرہ صرف سیاسی ہتھکنڈہ ہے، جس کے نیچے غریب عوام کی بھوک اور مجبوریوں کا شور دب گیا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ ہندوستان کو طاقت، وقار اور عروج اس وقت ملا جب یہاں عدل، علم، اور مساوات کا نظام قائم تھا۔ مسلم حکمرانوں نے ایک ہزار برس تک نہ صرف اس سرزمین کو متحد رکھا بلکہ اسے علم و تہذیب کا مرکز بنایا۔ وہی دور تھا جب ہندوستان “سونے کی چڑیا” کہلاتا تھا اور دنیا بھر کے لوگ یہاں آنے کے خواب دیکھتے تھے۔ آج کا المیہ یہ ہے کہ وہی ملک جس نے دنیا کو امن و علم کا پیغام دیا، اپنے ہی شہریوں کے لیے بے روزگاری، نفرت اور ذلت کا گڑھ بنتا جا رہا ہے۔
ایسے میں جمہوریہ اسلامیہ افغانستان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی حفظہ اللہ کا بھارت کا دورہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ دارالعلوم دیوبند اور تاج محل آگرہ کا بھی دورہ کریں گے۔ یہ خبر سن کر وہی انتہا پسند حلقے تلملا اٹھے جنہیں اس سرزمین کے اسلامی ورثے سے ہمیشہ الرجی رہی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر بھارت اپنی قدیم تہذیب پر فخر کرتا ہے تو اس کے اصل ورثے کو دیکھنے آنے والوں سے نفرت کیوں؟
درحقیقت بھارت کی اصل پہچان اس کی اسلامی تہذیب، گنگا جمنی ثقافت اور صدیوں کی رواداری سے وابستہ ہے۔ دارالعلوم دیوبند، تاج محل، قطب مینار، اور دکن کے آثار — یہ سب وہ ستون ہیں جن پر بھارت کی عالمی شناخت قائم ہے۔ جب بھی کوئی غیر ملکی وفد آتا ہے تو وہ ان ہی مقامات کا رخ کرتا ہے جو علم، عدل اور محبت کے استعارے ہیں۔ یہی ورثہ بھارت کو عالمی سطح پر عزت اور وقار عطا کرتا ہے۔
افسوس کہ آج ملک کی توانائی نفرت میں صرف ہو رہی ہے۔ مذہب کے نام پر سیاست، ذات پات کے نام پر تفریق، اور اکثریت کے نام پر اقلیتوں کی تذلیل — یہ سب مل کر اس ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ کسان خودکشی پر مجبور ہیں، نوجوان بے روزگار ہیں، مگر اقتدار کے ایوانوں میں نفرت کے نعروں کا شور ہے۔ ایسے حالات میں وشو گرو بننے کے دعوے خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔
اگر بھارت کو واقعی عظیم بننا ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے ہی شہریوں کا احترام کرنا سیکھنا ہوگا۔ گنگا جمنی تہذیب کو صرف نعرہ نہیں بلکہ قومی اساس بنانا ہوگا۔ نفرت کی دیواروں کے بجائے انصاف، مساوات اور محبت کی بنیادیں پھر سے اٹھانی ہوں گی۔ جب ملک اپنے ہر شہری کو عزت دے گا، تب ہی دنیا اسے عزت دے گی۔
تاریخ کی گواہی یہی ہے کہ جس قوم نے عدل اور اخلاق کو چھوڑا، اس کے دروازے پر زوال نے ضرور دستک دی۔ اگر آج بھی بھارت نے اس سچائی کو نظر انداز کیا تو “اکھنڈ بھارت” کا خواب ایک نئے بٹوارے کی تمہید بن جائے گا۔ خدا کی سنت اٹل ہے — ظلم پر کبھی سلطنت قائم نہیں رہتی۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔