جمعرات، 30 اکتوبر، 2025

میتھلی ٹھاکر اور نسوانی وقار کی سیاست

 میتھلی ٹھاکر اور نسوانی وقار کی سیاست


قلم: قاری ممتاز احمد جامعی

majaamai@gmail.com 

گزشتہ دنوں ایک سوال میڈیا اور عوامی حلقوں میں بڑے زور و شور سے گردش کر رہا ہے —

"سیاست میں آنے کے بعد میتھلی ٹھاکر کا مستقبل کیا ہوگا؟"

یہ سوال محض سیاسی تجسس نہیں بلکہ ایک فکری اور تہذیبی اندیشہ بھی ہے۔

کیونکہ جب فنکار اپنی خالص تخلیقی دنیا سے نکل کر اقتدار کی گلیوں میں قدم رکھتا ہے تو اکثر فن کی صداقت، اخلاق کی نرمی، اور عوامی اعتماد سیاست کی گرد میں دب جاتے ہیں۔

یہی احساس اس مضمون کو لکھنے کا اصل محرک ہے — کہ میتھلی ٹھاکر جیسے ایک شفاف فنکارانہ وجود کو سیاست کی حرارت میں جلنے سے پہلے آئینہ دکھایا جائے۔


میتھلی ٹھاکر — دربھنگہ کی ایک باصلاحیت، کم سن، اور خوش آہنگ گلوکارہ — جنہوں نے اپنی نرم دھنوں، متوازن لب و لہجے اور تہذیبی خلوص سے بہار کی لوک روایت کو نئی زندگی بخشی۔ وہ میتھلی، بھوجپوری اور ہندی لوک گیتوں کے ذریعے نہ صرف دربھنگہ بلکہ پورے بھارت میں مقبول ہوئیں، اور نئ نسل کے لیے اپنی مادری زبان و ثقافت سے جڑنے کی ایک روشن مثال بن گئیں۔


لیکن جب اسی میتھلی ٹھاکر نے سیاست کے میدان میں قدم رکھتے ہوئے آر ایس ایس و بی جے پی کے پلیٹ فارم سے ودھان پریشد کی امیدواری قبول کی، تو ان کے چاہنے والوں کے درمیان ایک گہری فکری بحث چھڑ گئی۔

کیوں کہ وہ جماعت جس نے “سنسکرتی” اور “ناری شکتی” کے نام پر قوم کو نعرے دیے، اسی کے اندر عورتوں کی عزت و وقار بارہا پامال ہوا۔


گزشتہ برسوں میں بی جے پی اور اس سے وابستہ رہنماؤں کے خلاف جنسی ہراسانی، بدسلوکی اور طاقت کے ناجائز استعمال کے متعدد سنگین واقعات منظرِ عام پر آئے۔

سابق مرکزی وزیر ایم جے اکبر پر دو درجن سے زائد خواتین صحافیوں نے دورانِ ملازمت جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے۔ بالآخر عدالت نے متاثرہ خاتون کے حق میں فیصلہ دیا اور اکبر کو وزارت سے استعفیٰ دینا پڑا۔

اتر پردیش میں کُلدیپ سنگھ سینگر، جو بی جے پی کے سابق ایم ایل اے تھے، ایک نابالغ لڑکی سے زیادتی کے جرم میں عدالت سے عمر قید کی سزا پا چکے ہیں۔

اسی طرح بی جے پی کے رکن پارلیمان بِرج بھوشن شرن سنگھ پر متعدد خاتون پہلوانوں نے جنسی استحصال کے سنگین الزامات لگائے، جن پر عدالتی چارچ شیٹ دائر ہو چکی ہے۔

ہتھرس کے لرزہ خیز واقعے میں مظلوم دلت لڑکی کے ساتھ مبینہ عصمت دری اور قتل کے بعد بی جے پی کے مقامی رہنماؤں اور پولیس کے رویّے نے عوامی غم و غصے کو جنم دیا۔

یہ تمام واقعات ایک ایسی تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ طاقت اور مذہبی قوم پرستی کے امتزاج نے عورت کی عزت کو نعرہ تو بنا دیا، مگر عمل میں اس کے وقار کو سب سے زیادہ مجروح کیا۔


ایسے سیاسی ماحول میں میتھلی ٹھاکر جیسی باعزت اور فنکارانہ پہچان رکھنے والی خاتون کا بی جے پی سے وابستہ ہونا محض سیاسی قدم نہیں بلکہ ایک اخلاقی آزمائش ہے۔

فن و ثقافت کی دنیا میں ان کا مقام اس لیے نمایاں تھا کہ وہ “مقامی روایت اور نسوانی شرافت” کی ترجمان تھیں، مگر اب ان کی شناخت ایک ایسی جماعت کے سیاسی رنگ میں رنگنے جا رہی ہے جس کے ماضی پر عورتوں کی تذلیل کے داغ ثبت ہیں۔


فنکار کا سب سے بڑا سرمایا اس کا وقار اور عوامی اعتماد ہوتا ہے۔

اگر وہ سیاسی طاقت کے سائے میں اپنی آواز کو مصلحت کے خول میں چھپا لے، تو وہ صرف اپنی ذات نہیں، بلکہ پوری تہذیبی روایت کا نقصان کرتی ہے۔

میتھلی ٹھاکر کے لیے اصل کامیابی یہ نہ ہوگی کہ وہ ایوانِ اقتدار تک پہنچ جائیں، بلکہ یہ ہوگی کہ وہ اپنی اس فنّی اور اخلاقی شناخت کو برقرار رکھ سکیں جس نے انہیں عوام کے دلوں میں زندہ رکھا۔


سیاسی میدان میں ان کا یہ قدم یقینی طور پر ایک موڑ ہے — مگر اس موڑ پر انہیں فیصلہ خود کرنا ہوگا کہ وہ “بی جے پی امیدوار” بن کر یاد کی جائیں گی یا “میتھلی گائیکی کی تہذیبی روح” کے طور پر۔

ان کے لیے میرا مخلصانہ پیغام یہ ہے کہ وہ اپنی آواز، فن، اور نسوانی وقار کو کسی سیاسی مفاد کے تابع نہ کریں۔

اقتدار کی گلیاں وقتی ہوتی ہیں، مگر عوامی دلوں کی گونج ہمیشہ باقی رہتی ہے۔

اگر وہ اپنی فطری سادگی اور فنکارانہ دیانت کو محفوظ رکھ سکیں تو وہ سیاست نہیں، قوم و تہذیب کی بیٹی کے طور پر ہمیشہ یاد کی جائیں گی۔



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔