منگل، 4 نومبر، 2025

بہار الیکشن 2025: جمہوریت کا امتحان اور عوام کی بے حسی

بہار الیکشن 2025: جمہوریت کا امتحان اور عوام کی بے حسی

قلم: قاری ممتاز احمد جامعی
📧 majaamai@gmail.com

بہار میں پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں اب صرف دو روز باقی ہیں، اور دوسرا مرحلہ 11 نومبر کو ہوگا۔ سیاسی فضا میں جوش ہے، لیکن ہوش کا فقدان نمایاں ہے۔
ایک طبقہ مذہبی منافرت اور فرقہ پرستی کے دلدل میں جکڑا ہوا این ڈی اے کے ساتھ ہے۔ دوسرا طبقہ اگرچہ خود کو سیکولر مزاج کہتا ہے، مگر حالیہ نقل و حرکت سے اس کے جھکاؤ میں بھی ہندوتوا کی پرچھائیں صاف دکھائی دیتی ہے۔ تیسرا حلقہ، جس میں اویسی یا آزاد امیدواروں کے حامی شامل ہیں، انتشار کا شکار ہے۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد تعلیم، روزگار اور سیاسی شعور سے محروم ہے۔ وہ جمہوریت کے اصل مفہوم — عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے، عوام کے لیے — کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرہ خود اپنے اعمال سے اس پستی میں گرتا جا رہا ہے۔ کیونکہ جمہوری نظام میں طاقت کا اصل محور عوام ہی ہوتے ہیں۔

ایسے میں باشعور، تعلیم یافتہ اور اخلاقی ذمہ داری کا احساس رکھنے والا طبقہ، جو تعداد میں نہایت قلیل ہے، ایک سخت امتحان سے گزر رہا ہے۔ وہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں — نظام درہم برہم ہے، انصاف بے وزن، اور عوامی شعور منجمد۔ مگر جمہوری دائرے میں وہ بے بس ہیں۔

حال ہی میں ایک معتبر صحافی سوربھ شکلا (سابق اینکر NDTV، بانی The Red Mic) نے مکامہ، بہار میں چند نوجوانوں سے انٹرویو کے دوران یہ افسوسناک منظر پیش کیا کہ بیروزگاری، بدعنوانی اور جہالت کے باوجود نوجوان اپنے حال میں مست ہیں۔ اس گفتگو نے واضح کر دیا کہ سماج کا زوال صرف حکومت کی ناکامی نہیں، بلکہ عوامی بے حسی اور فکری دیوالیہ پن کا نتیجہ ہے۔

فرقہ پرست ہندوتوا نظریہ اپنی مرکزی طاقت اور نتیش کمار کے تعاون سے بہار کے اقتدار پر کم و بیش بیس سال تک قابض رہا، مگر نہ بنیادی حقوق میں کوئی حقیقی پیش رفت ہوئی، نہ صوبے کی ترقی میں کوئی واضح پہل۔
مرکزی سطح پر بھی ان کے عزائم عوامی ترقی کے بجائے مذہبی تفرقے، نفرت، اور ہندو مسلم فتنہ و فساد کے فروغ پر مبنی رہے ہیں۔
ان کے سیاسی خواب اور آئندہ عزائم بھی خون اور تقسیم سے لبریز دکھائی دیتے ہیں۔

ایسے میں ایک باشعور شہری کا بنیادی فریضہ یہ ہے کہ وہ امیدوار کی ذات یا ذاتی زندگی پر نہیں بلکہ اس کے نظریے اور جماعتی پس منظر پر ووٹ دے۔
اگر بہار کے عوام واقعی امن، تعلیم، انصاف اور ترقی چاہتے ہیں، تو انہیں فرقہ پرست جماعتوں کے بجائے سیکولر امیدواروں کو ووٹ دینا ہوگا — تاکہ جمہوریت کے نام پر نفرت کا کاروبار کرنے والوں کے مکروہ عزائم کو روکا جا سکے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔