جمعہ، 28 نومبر، 2025

فسطائیت کی زد میں… جامعہ اشاعت العلوم

 فسطائیت کی زد میں… جامعہ اشاعت العلوم


 قاری ممتاز احمد جامعی 

majaamai@gmail.com

جامعہ اشاعت العلوم کا ذکر آتے ہی ذہن میں ایک ایسے روشن چراغ کی تصویر ابھرتی ہے جس نے برسوں سے علم، خدمت اور انسانی وقار کی شمعیں جلائے رکھیں۔ لیکن آج اس چراغ پر سیاسی یلغار کا سایہ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ قومیں جب اپنی تاریخ کے تاریک ترین دور سے گزرتی ہیں تو ظلم کی کئی شکلیں سامنے آتی ہیں—کبھی انسانی حقوق پر شب خون، کبھی آئین کی روح کا گلا گھونٹنا، کبھی اقلیتوں کو حاشیے پر دھکیلنا، اور کبھی اُن تعلیمی مراکز کو نشانہ بنانا جو دراصل کسی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ آج بھارت کا ماحول اسی گھٹن اور اسی بے چینی سے بوجھل ہے، اور اسی بوجھ کے نیچے وہ ادارے بھی کراہ رہے ہیں جنہوں نے دہائیوں تک سماج کے کمزور طبقات کو امید، تحفظ اور شعور فراہم کیا۔

انہی عظیم اداروں میں سے ایک، جامعہ اشاعت العلوم اکل کُوا، اس وقت ایک ایسی یلغار کا سامنا کر رہا ہے جس کی نہ بنیاد ہے، نہ جواز، نہ اخلاقی وزن۔ یہ بات کسی بھی صاحبِ شعور کے لیے ناقابلِ برداشت ہے کہ ایک ایسا مرکز، جو چالیس پچاس سال سے زائد عرصے سے قوم اور انسانیت کی خاموش مگر عظیم خدمات سرانجام دیتا آیا، اسے آج سیاسی چنگیزیت کے نرغے میں لے لیا جائے۔ یہ حقیقت ناقابلِ انکار ہے کہ ایسے اداروں پر حملے ہمیشہ سیاسی ہوتے ہیں، کیونکہ وہ ظلم کے مقابلے میں باشعور نسل تیار کرتے ہیں، اور باشعوری ہمیشہ فسطائیت کے لیے خطرہ ہوتی ہے۔

جامعہ کا سفر ایک چھوٹی سی جھونپڑی اور چند طلبہ سے شروع ہوا تھا، لیکن چند دہائیوں میں یہ ایک ایسے تعلیمی شہر میں تبدیل ہو گیا جس نے دینی تعلیم، عصری تعلیم، میڈیکل اور انجینئرنگ کے شعبے، یتیم خانے، ہاسٹل، فلاحی مراکز اور انتظامی ڈھانچے کے ذریعے ہزاروں نوجوانوں کے مستقبل کو نئی سمت دی۔ یہ محض ایک مدرسہ نہیں تھا؛ یہ مسلمانوں کے تعلیمی وجود کی علامت بن چکا تھا۔ اس نے ہندوستانی سماج کو یہ پیغام دیا کہ مسلمان محروم نہیں—بلکہ مستقبل بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ عظیم سفر حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ کی قیادت اور بصیرت کا نتیجہ تھا۔ وہ ایسے باوقار، باصلاحیت اور بے خوف قائد تھے جنہوں نے علم کے راستے کو خدمت، انسانیت اور اصول کے ساتھ جوڑا۔ وہ ایک ایسا مضبوط ستون تھے کہ جن کے دور میں کسی سیاسی طاقت، کسی آر ایس ایس ذہنیت یا کسی حکومتی ایجنسی کو یہ ہمت نہ تھی کہ ادارے پر میلی نگاہ ڈال سکے۔ ان کی دیانت، نظم، شفافیت اور جرأت خود ایک ڈھال بنی رہتی تھی۔ یہ انہی کا جذبہ اور انہی کی بنیادیں تھیں جنہوں نے اس ادارے کو ریاستی و سماجی سطح پر اعتماد کا سرچشمہ بنا دیا۔

مولانا کے انتقال کے بعد ادارہ ان کے صاحبزادے مولانا حذیفہ وستانوی کے زیرِ نظم ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ کام وہی اصول، وہی ترتیب، وہی شفافیت اور وہی انتظامی ڈھانچہ کے ساتھ جاری ہے جو حضرت وستانویؒ نے قائم کیا تھا۔ اس لیے کسی بھی طرح کی کارروائی، تفتیش یا الزامت کو انتظامی کمزوری یا بدعنوانی کے ساتھ جوڑنا سراسر ظلم ہے۔ یہ حقیقت سب جانتے ہیں کہ یہاں نظم و ضبط موجود ہے، حساب کتاب موجود ہے، شفافیت موجود ہے—پھر بھی نشانہ بنانے کی کوششیں جاری ہیں، اور اسی میں چھپا ہے اصل سیاسی کھیل۔

سوال یہ ہے کہ ایک ایسا ادارہ جو مذہبی نہیں، سیاسی نہیں، ٹکراؤ کا مرکز نہیں، بلکہ خالص تعلیمی اور فلاحی کردار ادا کر رہا ہے—آخر اسے نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟ ایک ایسا ادارہ جو غریب بچوں کو تعلیم دے رہا ہے، یتیموں کو سہارا دے رہا ہے، قبائلی بچوں کو عزت دے رہا ہے، سماج کے پسماندہ طبقات کو اٹھا رہا ہے—وہ کس جرم کی سزا کاٹ رہا ہے؟ اس کا جواب ایک ہی ہے: خوف۔ وہ طاقتیں جو اقلیتوں، دلتوں، غریبوں، قبائلیوں اور کمزور طبقات کو تعلیم یافتہ نہیں دیکھنا چاہتیں، وہ اس خوف میں مبتلا ہیں کہ کہیں علم کی روشنی ظلم کے ایوانوں میں دراڑیں نہ ڈال دے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیمی اداروں کو سب سے پہلے نشانہ بنایا جاتا ہے، کیونکہ ظالم جانتا ہے کہ تعلیم یافتہ قوم کبھی غلام نہیں رہتی۔

یہ تفتیشیں، یہ کارروائیاں، یہ پروپیگنڈے—یہ سب دراصل اسی بڑے منصوبے کا حصہ ہیں جس کا مقصد اقلیتوں کو ذہنی، سماجی اور تعلیمی طور پر کمزور رکھنا ہے۔ آج جب آئین لہولہان ہے، جمہوریت کمزور پڑ چکی ہے، دلت مسلمان مسلسل نشانے پر ہیں، تب ایسے اداروں پر یلغار کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمت عملی ہے۔ ظلم کے ایوان چاہتے ہیں کہ یہ چراغ بجھ جائیں، یہ تعلیمی پرچم سر نہ اٹھا سکیں، اور قوم ایک بار پھر پسماندگی کے اندھیروں میں دھکیل دی جائے۔

لیکن یہ بھی تاریخ کا اٹل اصول ہے کہ علم کے چراغ بجھائے نہیں جا سکتے۔ ظلم کی گرم ہوا انہیں کچھ دیر کے لیے لرزا ضرور سکتی ہے مگر بجھا نہیں سکتی۔ اور جامعہ اشاعت العلوم جیسا ادارہ، جو خدمت، اخلاق، شفافیت اور اصولوں پر قائم ہے، اسے کسی بھی سیاسی یلغار سے دبایا نہیں جا سکتا۔

آج جب ہم حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ کو یاد کرتے ہیں تو دل گواہی دیتا ہے کہ وہ ہوتے تو کوئی طاقت اس ادارے پر ہاتھ نہ ڈال سکتی۔ لیکن ان کی غیر موجودگی میں بھی یہ ادارہ کمزور نہیں—صرف ہم کمزور ہیں، بکھرے ہوئے ہیں، منتشر ہیں۔ اور یہی وقت ہے کہ ہم یہ طے کر لیں کہ علم کے چراغ کے ساتھ کھڑے رہنا ہے، ظلم کے مقابلے میں خاموش نہیں رہنا۔

کیونکہ تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ ایک ہی رہا ہے:

ادارے باقی رہتے ہیں… ظلم باقی نہیں رہتا۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔