بدھ، 5 نومبر، 2025

انڈیا الائنس اور اویسی کی عدم شمولیت — سیاسی خوف یا فکری کمزوری؟

 انڈیا الائنس اور اویسی کی عدم شمولیت — سیاسی خوف یا فکری کمزوری؟
✍️ قلم: قاری ممتاز احمد جامعی
📧 majaamai@gmail.com

ہندوستانی سیاست میں اتحاد، مفاد اور نظریات کا ملاپ ہمیشہ ایک پیچیدہ معاملہ رہا ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں انڈیا گٹھ بندھن (INDIA Alliance) کے قیام کے بعد یہ سوال شدت سے ابھرا ہے کہ اگر یہ اتحاد واقعی جمہوریت اور سیکولرزم کا علمبردار ہے، تو پھر اویسی جیسی آئینی اور عوامی آواز کو اس سے باہر کیوں رکھا گیا؟

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انڈیا الائنس میں شامل بڑی جماعتیں، خصوصاً کانگریس، آر جے ڈی، مکیش سہنی کی پارٹی، اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ اگر اویسی کو اتحاد میں شامل کیا گیا تو بی جے پی اور آر ایس ایس اس پر “اقلیت نواز سیاست” کا الزام لگا کر ہندو ووٹوں کو متحد کر لیں گی۔ یہی خوف ان جماعتوں کی سب سے بڑی کمزوری بن چکا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر بی جے پی کا پروپیگنڈہ ہی آپ کے فیصلوں کو طے کرے تو پھر آپ بی جے پی سے مختلف کب ہیں؟ سیکولرزم اگر واقعی اصول ہے تو اسے “ہندو ردِعمل کے خوف” سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ماضی میں اویسی خاندان اور ان کی پارٹی مجلس اتحاد المسلمین کانگریس حکومتوں کے ساتھ اندرونی سطح پر شاملِ اقتدار رہی ہے۔ وہی کانگریس، جو کبھی انہیں “جمہوری پارٹنر” مانتی تھی، آج انہیں “سیاسی اچھوت” سمجھتی ہے۔ یہ تضاد دراصل نظریاتی نہیں بلکہ وقتی مفاد اور خوف پر مبنی رویے کی علامت ہے۔ اگر کل اویسی کی موجودگی سیکولرزم کے منافی نہ تھی، تو آج وہ اچانک کیوں بن گئی؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب انڈیا الائنس کے کسی رہنما کے پاس نہیں۔

عملی سیاست میں ضروری نہیں کہ ہر جماعت تحریری طور پر اتحاد میں شامل ہو۔ اگر انڈیا الائنس واقعی فرقہ پرست طاقتوں کو روکنے کے لیے مخلص ہوتا، تو کم از کم اخلاقی و انتخابی سمجھوتے کی بنیاد پر اویسی کو ان کے اثر والے علاقوں — مثلاً سیمانچل، کشن گنج، ارریہ، کٹیہار — کی چند سیٹوں پر آزادانہ لڑنے دیا جاتا، اور بقیہ حلقوں میں باہمی حمایت و مہم کے ذریعے ایک مضبوط مشترکہ حکمتِ عملی تیار کی جاتی۔ اس سے عوام میں یہ تاثر قائم ہوتا کہ اتحاد واقعی سب کو ساتھ لے کر چلنے کا حوصلہ رکھتا ہے، نہ کہ محض “مسلمان ووٹ لینے” کے لیے دکھاوے کی سیاست کر رہا ہے۔

اویسی کو اکثر “ووٹ کٹر” کہہ کر رد کر دیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ آئینی حقوق، تعلیمی انصاف، اور اقلیتوں کی نمائندگی کے سوالات اٹھاتے آئے ہیں۔ اگر انڈیا الائنس انہیں نظرانداز کرتا ہے، تو دراصل یہ اویسی کے اثر و فکر کی قبولیت ہے، جسے وہ زبان سے تسلیم کرنے سے جھجھکتے ہیں۔ اویسی کی سیاست مذہب نہیں، بلکہ آئین کے اس جملے “We the People of India” کی عملی تعبیر ہے۔ انہیں اتحاد سے باہر رکھنا دراصل آئینی سیاست کی سب سے مضبوط مسلم آواز کو خاموش کرنے کے مترادف ہے۔

تاہم اویسی پر یہ الزام بھی درست ہے کہ ان کے بعض بیانات اور طرزِ تقریر میں تضاد پایا جاتا ہے۔ وہ حیدرآباد یا سیمانچل جیسے اپنے مضبوط علاقوں میں جب تیز لہجے میں تقریر کرتے ہیں تو یہ نہیں سوچتے کہ ملک کے دوسرے حصوں میں، جہاں کمزور مسلمان ہندوتوا اکثریت کے درمیان رہتے ہیں، ان کے الفاظ کا کیا اثر ہوگا۔ ایک پرانی اور تجربہ کار سیاسی جماعت سے یہ تیز رفتاری اور بے احتیاطی ناقابلِ فہم ہے۔ ان کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی تقاریر کے اثرات پر غور کریں، کیونکہ بعض اوقات ایک درست بات بھی غلط موقع یا غیر مناسب لہجے میں کہی جائے تو نقصان دہ بن جاتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ انڈیا الائنس کی قیادت جمہوریت کی بقا کے لیے سرگرم ہے یا محض اقتدار کے لیے ایک نیا چہرہ تیار کر رہی ہے؟ اگر نیت واقعی خالص ہوتی تو اویسی جیسے رہنما کو کم از کم مشترکہ پلیٹ فارم پر مدعو کیا جاتا، تاکہ ملک کے سامنے یہ پیغام جائے کہ یہ اتحاد محض بی جے پی کا متبادل نہیں بلکہ فکری سطح پر ایک بہتر راستہ ہے۔ مگر یہاں بھی سیاسی خودغرضی اور خوف غالب آ گیا — سیکولرزم صرف نعرہ رہا، جبکہ عملی سیاست پر ہندوتوا کے ردِعمل کا سایہ چھایا رہا۔

نتیجہ یہ ہے کہ اویسی کو الگ رکھ کر انڈیا الائنس نے اپنی “شمولیت” (Inclusiveness) کی بنیاد کمزور کر دی ہے۔ یہ فیصلہ وقتی طور پر سیاسی حساب سے فائدہ مند لگ سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں یہی کمزوری اس کے زوال کا سبب بنے گی۔ کیونکہ جو اتحاد خوف، مفاد اور تاثر کے دباؤ پر کھڑا ہو، وہ کبھی قوم اور ضمیر دونوں کی نمائندگی نہیں کر سکتا۔

آخر میں سوال باقی رہ جاتا ہے —
کیا انڈیا الائنس واقعی بی جے پی کا متبادل بننا چاہتا ہے،
یا وہ صرف بی جے پی کے خوف سے چلنے والا ایک نیا چہرہ ہے؟

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔