اتوار، 16 نومبر، 2025

اتنی بد احتیاطی" کا پس منظر — ودود ساجد کی تحریر پر ایک حقیقت پسندانہ اور مدلل تبصرہ


اتنی بد احتیاطی" کا پس منظر — ودود ساجد کی تحریر پر ایک حقیقت پسندانہ اور مدلل تبصرہ


ودود ساجد صاحب کی تحریر بظاہر مسلمان نوجوانوں کو احتیاط اور سمجھ داری کا مشورہ دیتی ہے، اور یہ مشورہ اپنی جگہ بجا بھی ہے۔ لیکن اس مشورے کے پیچھے چھپے بڑے سوالات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ آخر ایک ایسے ملک میں جہاں ریاستی طاقت، حکومتی ادارے، پولیس، اور اکثریتی سیاست کی پوری مشینری برسوں سے اقلیتوں کے خلاف کارفرما ہو—صرف کمزور طبقے کو ہی بداحتیاطی کا سبق کیوں دیا جاتا ہے؟ مسئلہ نوجوانوں کی جذباتی پوسٹس کا نہیں، مسئلہ اس وسیع تر ریاستی رویے کا ہے جو آزاد بھارت کی پوری تاریخ میں بار بار دہرایا گیا۔


یہ دھارا آج کا نہیں، دہائیوں پر محیط ہے۔ 1987 کا ہاشم پورہ آج بھی گواہی دیتا ہے کہ کس طرح ریاستی وردی میں ملبوس اہلکاروں نے مسلمانوں کو لائن میں کھڑا کرکے گولیوں سے بھون دیا۔ میرٹھ، مرادآباد، علی گڑھ, ممبئی، سورت، بھاگلپور اور پھر 2002 کا گجرات—یہ سب واقعات اس تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہاں "بداحتیاطی" ہمیشہ کمزور کے کھاتے میں ڈالی گئی، مگر ظلم اور زیادتی کا بوجھ کبھی طاقتور پر نہیں ڈالا گیا۔ مظفر نگر 2013 ہو یا دہلی 2020—ریاست کی خاموشی اور انتظامیہ کی شراکت داری کا نقشہ بار بار دہرا نظر آتا ہے۔


ودود ساجد کے مضمون میں جن واقعات کا حوالہ ہے، وہ اس رویے کو اور نمایاں کرتے ہیں۔ آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کا یہ کہنا کہ وہ مسلمانوں کی ہر پوسٹ دیکھ رہے ہیں اور سب کے اسکرین شاٹس محفوظ کیے جا رہے ہیں، ایک جمہوری ریاست میں خوف پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ کیا وزیراعلیٰ کا کام شہریوں کی سوشل میڈیا نگرانی ہے؟ یا یہ کام ریاستی ایجنسیوں کے اختیار میں ہوتا ہے؟ یہ حقیقت بتاتی ہے کہ ریاستی طاقت کو امن و قانون کی خاطر نہیں، بلکہ ایک مخصوص طبقے کی زبان بند کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔


اسی تناظر میں سلچر آسام کا واقعہ بھی سامنے آتا ہے جہاں ایک سبکدوش اسکول پرنسپل کو محض "الیکشن اسٹنٹ" لکھنے پر گرفتار کر لیا گیا۔ یہ جرم نہیں تھا—یہ ریاستی عدم برداشت تھی۔ دیوبند کے ہندو انسپکٹر کو “آتنک واد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا” کہنے پر لائن حاضر کر دینا اس بات کی علامت ہے کہ اس ملک میں انصاف پسندی بھی سزا بن جاتی ہے۔ پھر مہاراشٹر میں ایک عمر رسیدہ ٹیچر کو ”جے شری رام“ نہ بولنے پر تذلیل کرتے ہوئے گھٹنوں کے بل جھکایا گیا—یہ صرف بداخلاقی نہیں بلکہ ایک تہذیبی پیغام ہے کہ اقلیت کو سر جھکا کر ہی جینا ہوگا۔


ان واقعات کے درمیان یوگی آدتیہ ناتھ کا یہ اعلان کہ "ہم جنوری–فروری میں مئی–جون جیسی گرمی لے آئیں گے" سیاسی زبان سے زیادہ دھمکی کی زبان ہے۔ یہ وہ جملے ہیں جو ایک عام نوجوان کو نہیں، بلکہ ایک ریاستی سربراہ کو زیب دیتے ہیں، مگر تعجب یہ ہے کہ احتیاط کے لیکچر ہمیشہ کمزور کو ملتے ہیں اور طاقتور کو کبھی نہیں۔


اویسی نے کشمیر میں انکاونٹر کے بعد پارلیمنٹ میں سوال اٹھایا تھا کہ اگر لاکھوں لوگ کسی مقتول کے جنازے میں شریک ہوتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کی گورننس ہی لوگوں کے دل جیتنے میں ناکام ہے۔ یہی سوال آج پورے بھارت پر لاگو ہوتا ہے کہ جب ریاست انصاف نہیں دے گی تو بداعتمادیاں تو بڑھیں گی ہی۔


یہ بات درست ہے کہ مسلمانوں کو اصول پر چلتے ہوئے اپنے جذبات پر قابو رکھنا چاہیے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ ریاست اپنی ذمہ داری کب قبول کرے گی؟ جب پورا نظام اکثریتی سیاست کے ہاتھوں یرغمال ہو، جب میڈیا نفرت بیچے، جب ایجنسیاں مخصوص زاویے سے کام کریں، جب ہر مثبت آواز کو سزا ملے، تو صرف اقلیت سے احتیاط کا مطالبہ حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔


حقیقت یہی ہے کہ آج کے بھارت میں اقلیت مجرم نہیں—بلکہ مسلسل نشانے پر رہنے والی مظلوم اکائی ہے۔ وہ اپنے بچوں کو بچانے، اپنے گھروں کو محفوظ رکھنے، اور اپنی زبان کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ طاقت کے سرچشمے اسے دبانے کے لیے متحد اور سرگرم ہیں۔ ایسے میں ودود ساجد کا مشورہ اپنی جگہ مگر پوری تصویر صرف اسی وقت مکمل ہوتی ہے جب ریاست کے کردار کا بھی جائزہ لیا جائے، کیونکہ بداحتیاطی اگر کہیں سب سے زیادہ خطرناک ہے تو وہ ریاستی سطح پر ہے، نہ کہ ایک نوجوان کے موبائل اسکرین پر۔


اور اصل سوال یہی ہے کہ آخر کب تک اقلیتوں کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا جاتا رہے گا؟ کب تک نوجوانوں کی زبان بند کی جائے گی اور کب تک طاقتوروں کے خطرناک بیانات پر خاموشی اختیار کی جائے گی؟ جب تک یہ سوال زندہ ہے، تب تک احتیاط کے ساتھ ساتھ اجتماعی بیداری، تاریخی شعور، اور منظم فکری جدوجہد کی ضرورت باقی رہے گی۔


✍️ قاری ممتاز احمد جامعی


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔