پیر، 1 دسمبر، 2025

نور سے اندھیرے تک: نسلوں کے بدلنے کی وہ خاموش حقیقت جسے ہم نظر انداز کر رہے ہیں

 نور سے اندھیرے تک: نسلوں کے بدلنے کی وہ خاموش حقیقت جسے ہم نظر انداز کر رہے ہیں

مرتب: قاری ممتاز احمد جامعی

Email: majaamai@gmail.com


نسلوں کا سفر انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ ایمان وراثت میں منتقل نہیں ہوتا؛ اسے حفاظت، تربیت اور صالح ماحول کے سائے میں پروان چڑھانا پڑتا ہے۔ تاریخ میں ایسے کئی خاندان ملتے ہیں جن کے سفر کی ابتدا نور، علم اور دینداری سے ہوئی، مگر چند ہی نسلوں بعد وہ فکری اندھیروں میں گم ہوگئے۔ یہ معاملہ محض ایک نظری بحث نہیں؛ اس کی زندہ مثالیں ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں۔ جاوید اختر کا خانوادہ اسی حقیقت کا بین ثبوت ہے—وہ خاندان جس کی بنیاد علمِ دین، جہادِ آزادی اور اسلامی غیرت کے ستونوں پر رکھی گئی تھی۔ ان کے پردادا مولانا فضلِ حق خیرآبادیؒ وہ عظیم مجاہد اور بلند پایہ عالم تھے جنہوں نے 1857 میں انگریز کے خلاف تاریخی فتویٰ صادر کیا اور جنہیں برصغیر میں “شیخ الاسلام” کی حیثیت حاصل تھی۔ ان کی علمی قد آور شخصیت، استقامت اور خدمات ہماری دینی تاریخ کا روشن باب ہیں۔ جاوید اختر کے دادا مضطر خیرآبادی بھی شعر و ادب کے باوقار نام اور دینی و تہذیبی وقار کے حامل تھے۔ ان کے والد جانثار اختر ممتاز شاعر تھے، مگر رفتہ رفتہ سوشلسٹ فکر کے زیرِ اثر مذہبی وابستگی کمزور پڑتی چلی گئی۔ اور یہی فکری زوال چند دہائیوں میں ایسے نقطے تک جا پہنچا کہ انہی نسلوں کے وارث جاوید اختر نے خدا کے وجود ہی کا انکار اپنا فکری تشخص بنا لیا۔ یہ پوری داستان اس حقیقت کی بڑی دلیل ہے کہ نسلوں کی فکری سمت بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔

اسی طرح تسلیمہ نسرین کا پس منظر بھی اسلامی اخلاق اور مشرقی اقدار سے خالی نہیں تھا۔ وہ ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئیں جہاں مذہب سے لاتعلقی کا کوئی تصور نہ تھا۔ ان کے والد ڈاکٹر رفیق الاسلام باوقار، تعلیم یافتہ اور با شعور انسان تھے جن کے گھر میں قرآن کی تلاوت، تہذیبی شائستگی اور خاندانی اقدار کی فضا موجود تھی۔ مگر ذہنی بغاوت، مغربی فکر کی یلغار، شہرت کی خواہش اور مذہب بیزار حلقوں کی حوصلہ افزائی نے انہیں اپنی بنیادی شناخت سے دور کر دیا—یہاں تک کہ مذہب پر حملہ ان کے اظہار کا انداز بن گیا۔

سلمان رشدی کا خاندانی ماحول بھی اسلام اور تہذیبی ادب سے ناآشنا نہ تھا۔ ان کے والد انوار رشدی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ، تہذیبی سلیقے اور ادبی ذوق رکھنے والے شخص تھے۔ گھر میں مشرقی آداب اور مذہبی احترام موجود تھا۔ مگر مغربی علمی دنیا کی چکاچوند، اس کے فکری جال اور نظریاتی غلامی نے انہیں ایسی تحریر لکھنے کی طرف دھکیل دیا جس نے پوری مسلم دنیا کے دل زخمی کیے۔

یہ تینوں مثالیں اس ناقابلِ انکار حقیقت کو ثابت کرتی ہیں کہ اگر نسلوں کو دین کی روشنی اور ایمان کی نرم آنچ مہیا نہ کی جائے، اگر ان کے ذہن، فکر اور اخلاق کے نگہبان موجود نہ ہوں، اگر گھر کا ماحول ایمان کا محافظ نہ ہو—تو چند نسلوں کے اندر ایک خاندان کی فکری بنیادیں مکمل طور پر ڈھل سکتی ہیں۔ اسلام کسی شاعر، ادیب، مفکر یا خاندان کا محتاج نہیں۔ اللہ کی ربوبیت اور دینِ حق کی شان کسی ایک فرد یا خاندان کے انکار سے نہ کبھی کم ہوئی ہے اور نہ ہوگی۔ خسارہ تو اسی شخص اور اس کی نسلوں کا ہے جو اپنے ہاتھوں اپنی آخرت کا چراغ بجھا بیٹھے۔

اسی پس منظر میں 20 دسمبر 2025 کو دہلی میں ہونے والا مکالمہ “Does God Exist?” غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک جانب جاوید اختر ہیں—جن کے فکری ڈھانچے کی بنیاد خدا کے انکار پر قائم ہے، اور دوسری جانب مفتی شمائل ندوی—جو وحی، عقلِ سلیم اور علمی استدلال کی روشنی میں خدا کے وجود کا مضبوط مقدمہ پیش کرنے والے محقق و عالم ہیں۔ یہ محض دو شخصیات کی بحث نہیں؛ یہ دو نظریات کا ٹکراؤ ہے: ایک طرف الحاد، شک اور مادیت کی تاریکی؛ دوسری طرف ایمان، فطرت، وحی اور عقل کا نور۔

یہ زمانہ ہمیں مسلسل یاد دہانی کرا رہا ہے کہ اپنی نسلوں کی حفاظت کیجیے۔ انہیں قرآن و سنت سے جوڑیے، صالح ماحول دیجئے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت دلوں میں بٹھائیے۔ اگر تربیت کا چراغ بجھ گیا اور گھر کا ماحول ایمان کا نگہبان نہ رہا تو وہی حالات دہرائے جائیں گے—چند نسلوں میں ایمان کمزور پڑتا جائے گا، اور لوگ وہاں پہنچ جائیں گے جہاں خدا کے انکار پر فخر کیا جاتا ہے۔

اس لیے غور کیجیے… سوچئے… اپنے گھرانے کے مستقبل کی ذمہ داری سنبھالیے۔ ایمان کی حفاظت علم، تربیت اور نیک ماحول سے ہوتی ہے۔ ورنہ نسلوں کا بدل جانا وقت کا محتاج نہیں ہوتا۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔