اسلامی عدل کا درخشاں ورثہ اور آج کے فیصلوں کا زوال
تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی
انسانی تاریخ کے بڑے بڑے ابواب اس بات کے گواہ ہیں کہ جب بھی کسی قوم نے ترقی کی بلندیاں چھوئیں، اس کی بنیاد طاقت، لشکر یا دولت نہیں بلکہ عدل و انصاف رہا۔ اور جب بھی قومیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئیں، ان کے زوال کا نقطۂ آغاز عدالت کا ڈھے جانا ہی تھا۔ اسلامی تاریخ بالخصوص عدل کی اس روایت سے منور ہے جس کی مثالیں نہ صرف دلوں کو گرماتی ہیں بلکہ جدید دنیا کے لیے بھی رہنمائی کا مینار ہیں۔
حالیہ دنوں میں افغانستان کے امیر الاسلام شیخ بیت اللہ اخوندزادہ صاحب (حفظہ اللہ) کا ایک عمل سامنے آیا جس نے اسی سنہرے ورثے کی یاد دلادی۔ انہوں نے ملک کے تمام گورنروں کو مقررہ وقت پر بلاکر خود دو گھنٹے کی تاخیر سے آمد اختیار کی۔ لوگوں نے ادب سے دریافت کیا تو جواب دیا کہ میں چاہتا تھا تم یہ محسوس کرو کہ رعایا کو انتظار کروانا کتنی تکلیف دہ بات ہے۔ پھر کھانا سب کے ساتھ پیش ہوا مگر انہوں نے الگ پلیٹ منگوائی، کہ بیت المال صرف ضرورت مند کے لیے ہے، میرے پاس ذاتی رقم موجود ہے۔ یہ طرزِ عمل خود اسلامی سیاسی اخلاقیات کی قدیم روایت ہے جہاں منصب اور بیت المال کے درمیان واضح تفریق لازم سمجھی جاتی تھی۔
یہ بات ہمیں سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے طرزِ حکومت کی طرف لے جاتی ہے، جنہیں امام ذہبی، ابن کثیر اور طبری جیسے مؤرخین نے ”خامس الخلفاء الراشدین“ یا ”عمر ثانی“ کے لقب سے یاد کیا۔ تاریخ ابن کثیر میں مذکور ہے کہ جب سرکاری امور انجام دیتے تو بیت المال کا چراغ روشن رکھتے، مگر جیسے ہی ذاتی گفتگو شروع ہوتی فوراً چراغ بجھا دیتے اور اپنا ذاتی چراغ جلا لیتے۔ فرمایا کرتے تھے کہ عوام کے مال پر میرا کوئی ذاتی حق نہیں۔ یہی نہیں، ان کے دور میں زکات لینے والوں کا فقدان اس حد تک پہنچ گیا کہ خراج کی مد میں جمع مال خرچ کرنے کو مستحق نہیں ملتے تھے—یہ امام مالک کے تلامذہ کی روایت سے ثابت ہے (المدوّنة الکبری وغیرہ)۔
اسی روایت کا تسلسل ہمیں ہندوستان کی مسلم تاریخ میں بھی ملتا ہے۔ اورنگزیب عالمگیر، جنہیں مغل مؤرخ خافی خان، سیّد گلاب، اور معاصر غیر مسلم مؤرخین بھی تقویٰ، دیانت اور عدل میں فریدِ روزگار لکھتے ہیں، کے زمانے کا ایک مشہور واقعہ "ماخذ: مصنفِ عالمگیرنامہ، اور بعض مقامی بنارسی تواریخ" میں مذکور ملتا ہے۔ ایک سرکاری افسر نے بنارس کے ایک پنڈت کی بیٹی پر ناپاک ارادہ ظاہر کیا۔ لڑکی نے والد کو تسلی دی اور دہلی پہنچ کر جمعہ کے بعد مسجد کے دروازے پر اس صف میں کھڑی ہو گئی جہاں عالمگیر ضرورت مندوں کی مدد کے لیے کھڑے ہوتے تھے۔ اس نے اپنا دکھ بیان کیا تو بادشاہ نے فرمایا: بیٹی فکر نہ کرو، اگر ڈولی اٹھے گی تو تمہاری نہیں اس کی۔ روایت کے مطابق بادشاہ نے بھیس بدلا، رات میں بنارس پہنچے، پنڈت کے گھر چھپے، اور لڑکی کی جگہ خود کو ڈولی میں بٹھا کر اس فاسق افسر کے گھر بھیجا۔ دروازہ بند ہوتے ہی بادشاہ نے عدل کا وہ نافذ کیا جو اس وقت ریاستی شریعت کے عین مطابق تھا۔ روایتوں میں اس افسر کو برطرفی اور سخت سزا دیے جانے کا ذکر آتا ہے۔ یہ واقعہ بلاشبہ اس عدل کی نمائندگی کرتا ہے جو حکومت کو خوفِ خدا سے مضبوط کرتا تھا نہ کہ شخصی طاقت سے۔
اسلام کا عدل ان تین واقعات تک محدود نہیں بلکہ پوری تاریخ میں اس کی لامحدود مثالیں بکھری پڑی ہیں۔ سیدنا عمر فاروقؓ کے وہ فیصلے جنہیں ابن جوزی اور امام طبری نے نقل کیا ہے کہ جب قبطی غلام نے گورنرِ مصر کے بیٹے کی زیادتی کی شکایت کی تو سیدنا عمرؓ نے غلام کو فرمایا: انت صفعت ابن الأکرمین فاضربہ—"تم نے سب سے معزز باپ کے بیٹے کو مارا ہے، تو اب اسے مارنے کا پورا حق رکھتے ہو"۔ عدل کی یہ شان آج بھی عالمی قانون کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
اسی طرح سیدنا علیؓ اور ایک یہودی کے درمیان زرہ کا مقدمہ "کتاب الخراج" اور "سنن دارقطنی" میں مذکور ہے۔ قاضی شریح نے دلیل کا مطالبہ کیا، جو امیرالمؤمنین علیؓ کے پاس نہ تھا، چنانچہ فیصلہ ان کے خلاف آیا۔ عدل کا یہ معیار جب یہودی نے دیکھا تو اس کا ضمیر پکار اٹھا: یہ عدل انسانوں کا نہیں ہو سکتا اور وہ اسلام لے آیا۔
اسلامی عدل کی یہ نسل در نسل جاری روایت اس امر کی دلیل ہے کہ ریاستیں قانون کی قوت سے نہیں، انصاف کی روح سے قائم رہتی ہیں۔ جہاں قاضی آزاد ہو، حکمران جواب دہ ہو، اور کمزور پر ہاتھ اٹھانا جرمِ اعظم ہو—وہاں معاشرے پھلتے پھولتے ہیں۔
لیکن آج… جب ہم اپنے ہندوستانی عدالتی ماحول کی طرف نگاہ اٹھاتے ہیں، حالیہ فیصلوں کی صورت میں جو منظر سامنے آتا ہے وہ نہ صرف انسانیت کو زخمی کرتا ہے بلکہ تاریخ کے اس آئینے میں ہمیں اپنا چہرہ بھی دھندلا دکھائی دیتا ہے۔ جب عدالت عوام کی امیدوں کے بجائے طاقت کے دباؤ کا شکار ہو جائے تو یہ کسی ایک فیصلے کا نقصان نہیں ہوتا، یہ اعتماد کے ٹوٹنے کا وہ لمحہ ہوتا ہے جو پوری قوم کی بنیاد ہلا دیتا ہے۔
اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ یک آواز ہو کر کہہ رہی ہے کہ عدل ہی ریاست کا ستون ہے۔ جہاں عدل قائم رہے وہاں قومیں محفوظ رہتی ہیں؛ اور جہاں عدل مٹ جائے وہاں دنیا کی سب سے بڑی سلطنتیں بھی ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے فیصلوں، نظاموں، اداروں اور معاشروں کو انہی روشن مثالوں کی روشنی میں پرکھیں—کیونکہ عدل کا چراغ بجھ جائے تو ظلم کی تاریکی کبھی اکیلی نہیں آتی، بلکہ پوری نسلوں کو اپنے سائے میں نگل لیتی ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔