بدھ، 17 دسمبر، 2025

ریاست، عورت اور آئین: جب اقتدار خود وقار کا منکر بن جائے


Bihar CM Nitish Kumar Pulls Woman Doctor’s Hijab (YouTube)

An analytical column examining constitutional morality in India through women’s dignity, religious freedom, minority rights, and the limits of state power, based on a recent public incident.

ریاست، عورت اور آئین: جب اقتدار خود وقار کا منکر بن جائے

تمہید: مسئلہ ایک ویڈیو نہیں، ایک ذہنیت ہے

پٹنہ کی ایک سرکاری تقریب میں بہار کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کے حجاب کو زبردستی ہٹانے کا منظر اگر محض ایک لمحاتی بدتمیزی سمجھ لیا جائے تو یہ خود فریبی ہوگی۔ یہ واقعہ اس ریاستی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس میں عورت کے جسم، مذہبی شناخت اور ذاتی وقار کو اقتدار کے تابع سمجھ لیا جاتا ہے۔

یہ سوال اب کسی فرد کی نفسیات تک محدود نہیں رہا بلکہ آئینی اخلاقیات (Constitutional Morality) سے جڑ چکا ہے—وہ اخلاقیات جنہیں ہندوستانی آئین نے جمہوریت کی بنیاد بنایا ہے۔

آئینی دائرہ: ریاست کی حد کہاں ختم ہوتی ہے؟

بھارتی آئین واضح طور پر یہ طے کرتا ہے کہ ریاست شہری کے جسم، لباس اور مذہبی شناخت پر جبر نہیں کر سکتی:

آرٹیکل 14: قانون کی نظر میں مساوات

آرٹیکل 15: جنس اور مذہب کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت

آرٹیکل 19: اظہارِ ذات اور طرزِ زندگی کی آزادی

آرٹیکل 21: شخصی وقار اور نجی زندگی کا حق

آرٹیکل 25: مذہبی آزادی

ان دفعات کا مجموعی مفہوم یہ ہے کہ ریاست شہری کے ذاتی انتخاب میں اس وقت تک مداخلت نہیں کر سکتی جب تک وہ انتخاب کسی دوسرے شہری کے بنیادی حقوق کو مجروح نہ کرے۔

کسی خاتون کے لباس میں زبردستی مداخلت نہ صرف اس کی شخصی آزادی کی نفی ہے بلکہ یہ ریاستی طاقت کے غلط استعمال کی واضح مثال بھی ہے—خصوصاً جب یہ عمل ریاست کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز فرد کی جانب سے ہو۔

تحقیر کا منظرنامہ: ویڈیو کیا ظاہر کرتی ہے؟

ویڈیو کا باریک مطالعہ تین بنیادی حقائق کو بے نقاب کرتا ہے:

1. بلا اجازت جسمانی قربت اور ذاتی دائرے میں مداخلت

2. پس منظر میں ہنسی اور خاموش تماشائی—یعنی اجتماعی بے حسی

3. عورت کے مذہبی انتخاب کو غیر متعلق سمجھنے کا رویہ

یہ عناصر مل کر بتاتے ہیں کہ یہ واقعہ محض ایک ذاتی لغزش نہیں بلکہ ایک ایسی سوچ کا اظہار ہے جو ریاست کو عورت کے جسم اور شناخت پر بالادست تصور کرتی ہے۔

ایک وسیع تر تسلسل: انفرادی واقعہ نہیں، ریاستی رویہ

یہ واقعہ ایک بڑے اور مسلسل مسئلے کا حصہ ہے، جس کی جھلک ان معاملات میں بھی نظر آتی ہے:

بلقیس بانو کیس میں مجرموں کے ساتھ نرمی

کتھوعہ میں آصفہ کے مقدمے میں طاقتور عناصر کا اثر

ہاتھرس میں متاثرہ خاندان کے وقار کی پامالی

اتر پردیش میں اخلاقی لنچنگ سے متعلق مقدمات کی واپسی

یہ تمام مثالیں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جب ریاست نظریاتی طور پر جانبدار ہو جائے تو انصاف کمزور اور انسانی وقار غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔

مسئلہ قوم کا نہیں، نظریاتی ریاست کا ہے

اس پورے پس منظر میں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ناگزیر ہے: مسئلہ کسی مذہب یا قوم کا نہیں بلکہ ایک ایسے نظریاتی ریاستی رویے کا ہے جو اکثریت کے نام پر کمزور طبقات کے حقوق کو ثانوی بنا دیتا ہے۔

جب عورت کے وقار کو اصلاح کے نام پر پامال کیا جائے، مذہبی شناخت کو پسماندگی سے جوڑا جائے اور انصاف کو اکثریتی جذبات کے تابع کر دیا جائے تو یہ آئینی جمہوریت نہیں بلکہ طاقت کی حکمرانی بن جاتی ہے۔

نتیجہ: آئین بطور آئینہ

یہ تحریر کسی طبقے کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ آئین کو آئینہ بنا کر ریاستی رویے کو پرکھنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔

جمہوریت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ اکثریت کیا چاہتی ہے بلکہ یہ ہے کہ کمزور کے وقار، عورت کی آزادی اور اقلیت کے آئینی حقوق کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے۔ اگر ریاست اس ذمہ داری سے انحراف کرے تو تاریخ، عالمی ضمیر اور خود آئینی اصول اس کا احتساب کرتے ہیں۔


By: Qari Mumtaz Ahmad Jamaee

Email: majaamai@gmail.com


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔