بدھ، 31 دسمبر، 2025

لبرل شائستگی، میڈیا ٹرائل اور مفتی شمائل ندوی: ایک فکری و اخلاقی احتساب

لبرل شائستگی، میڈیا ٹرائل اور مفتی شمائل ندوی: ایک فکری و اخلاقی احتساب
Hybrid Opening | لبرل اخلاقیات اور مذہبی کردار کشی کا تضاد
ڈبیٹ کے اسٹیج پر جاوید اختر کا یہ جملہ—
“میرے اچھے ہونے سے زیادہ مشکل مذہبی لوگوں کا اچھا ہونا ہے”—
اور اس کے جواب میں مفتی شمائل ندوی کی مدلل، متوازن اور علمی گفتگو؛ پھر اختتام پر ماڈریٹر کے اعلان کے بعد جاوید اختر کا سامعین سے یہ کہنا کہ
“اب ہم مفتی صاحب کے ساتھ کھانا کھائیں گے”—
یہ سب کچھ بظاہر شائستگی، رواداری اور مثبت مکالمے کی ایک دلکش تصویر پیش کرتا ہے۔
مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا لبرل اور ایتھیسٹ حلقوں میں “اچھا ہونا” محض اسٹیج کی حد تک ایک اداکاری ہے؟ کیا اچھا ہونا یہ ہے کہ سامنے بیٹھ کر کھانا کھا لیا جائے، لیکن پسِ پردہ اسی فریق کے خلاف میڈیا ٹرائل، کردار کشی، سیاق و سباق سے کاٹی گئی ویڈیوز اور گودی میڈیا کے ذریعے منظم بدنامی کی مہم چلنے دی جائے؟ اگر یہ مباحثہ واقعی اکیڈمک، علمی اور پرامن تھا تو پھر فرقہ پرست عناصر اور زرد صحافت کو یہ اخلاقی جواز کس نے فراہم کیا؟ اور اگر مفتی شمائل ندوی کے کسی بیان میں پہلے ہی کوئی قابلِ مواخذہ بات موجود تھی تو وہ ان کی مقبولیت کے بعد ہی کیوں دریافت ہوئی—اس سے پہلے کیوں نہیں؟
مفتی شمائل ندوی کے ڈبیٹ کے بعد فتنوں کی یلغار
مفتی شمائل ندوی کے حالیہ ڈبیٹ کے بعد گویا فتنوں کا دروازہ کھل گیا ہے۔ وہ تمام فرقہ پرست اور شرپسند عناصر جو مدتوں تاک میں بیٹھے تھے، اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ یہ بھی کوئی ساجد رشیدی یا انصار رضا طرز کا مولوی ہوگا، جو حصولِ شہرت کے شوق میں جاوید اختر جیسے منجھے ہوئے اور آزمودہ مباحث سے الجھ پڑا ہے۔ جاوید اختر، جو اس سے قبل انجنا اوم کشیپ، طارق فتح اور سادھو گرو جیسے افراد کو بھی دن میں تارے دکھا چکے ہیں، ان کے سامنے یہ نوخیز عالم کہاں ٹھہر پائے گا؟ اور یوں اسلام پر طنز، تمسخر اور استہزا کا ایک نیا میدان ہاتھ آئے گا۔
لیکن نتیجہ ان تمام اندازوں کے بالکل برعکس نکلا۔ مفتی شمائل ندوی نے جس سنجیدگی، شائستگی اور وقار کے ساتھ گفتگو کی، اس نے اتنے بڑے اور حساس ڈبیٹ کے باوجود میڈیا کو کوئی سنسنی خیز مسالا فراہم نہیں کیا۔
سیاق و سباق سے کٹی ویڈیوز اور منظم کردار کشی
چونکہ اس مباحثے سے اسلام کو نیچا دکھانے یا تضحیک کا کوئی موقع ہاتھ نہ آیا، اس لیے اب سیاق و سباق سے کاٹی گئی پرانی ویڈیوز کو بنیاد بنا کر مفتی شمائل ندوی کی گھیرابندی شروع کر دی گئی۔ ہندوتوا وادی، لبرل و ایتھیسٹ حلقے، بعض بریلوی، کچھ غیر مقلدین اور گودی میڈیا—سب ایک صف میں آ کھڑے ہوئے ہیں۔ ہر ایک کی اپنی تکلیف اور اپنا ایجنڈا ہے۔
حالاں کہ یہ ڈبیٹ “اللہ” کے وجود پر نہیں بلکہ “God” کے وجود پر تھا—جو ہر مذہب کی بنیاد اور اساس ہے—مگر ہندوتوا وادیوں کو اسلام پر طنز کا موقع نہ ملا، ایتھیزم منطقی بنیادوں پر مؤثر کارکردگی نہ دکھا سکا، بعض متشدد سلفیوں نے عقیدے میں کج فہمی تلاش کر لی، اور بریلوی حلقوں کو—جیسا کہ روایت ہے—ہر وہ کوشش ناگوار گزری جس سے اسلام کی سربلندی کا پہلو نکلتا ہو۔
لیکن دلچسپ اور افسوسناک بات یہ ہے کہ میڈیا ٹرائل اور کردار کشی کی ابتداء دراصل ایک محدود، مگر متعفن حلقے سے ہوئی۔ ڈاکٹر شجاعت علی قادری، جو بریلوی فکر و نہج کے علمبردار ہیں، نے X پر ایک ٹوئیٹ کے ذریعے مباحثے کے بعد تنقید کا آغاز کیا۔ اس ٹوئیٹ کو ری ٹوئیٹ کرتے ہوئے ایک کانگریس لیڈر—جو دراصل آر ایس ایس کا نمائندہ ہے—کانگریس کے پلیٹ فارم سے یہ لکھتا ہے کہ مفتی شمائل ندوی کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ اس کے بعد ایک ایسا منظم میڈیا ٹرائل شروع ہوا جس میں سماجی اور فکری ماحول تقریباً کینسر زدہ محسوس ہونے لگا، اور منفی رویے ایک طرح سے اجتماعی تعفن کی صورت منہ کھولنے لگے، جس نے مفتی صاحب کی سچائی اور علمی کردار کو نشانہ بنایا۔
اپنوں کی خاموشی اور داخلی انتشار
نتیجتاً مفتی شمائل ندوی کے خلاف اشتعال انگیزی کی ایک منظم مہم چل پڑی۔ ایسے نازک اور حساس موقع پر تو کم از کم اپنوں کو آگے آنا چاہیے تھا، حوصلہ دینا چاہیے تھا، غیر مشروط حمایت کرنی چاہیے تھی؛ مگر افسوس کہ ہم خود ہی آپس میں دست و گریباں ہو گئے۔ یہ المیہ محض شخصی نہیں بلکہ فکری اور ادارہ جاتی ہے۔
دیوبند و ندوہ: مشترکات کے باوجود تصادم
یہ کتنی افسوس ناک حقیقت ہے کہ دو ایسے ادارے، جن کا خدا و رسول ایک، دین و فکر ایک، ملت و مذہب ایک، مشرب و مسلک میں بنیادی اتحاد، اور نصاب میں فقہ و حدیث جیسی کتب مشترک ہیں—وہ محض فنونِ آلیہ کے چند اختلافات کی بنا پر ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو جائیں۔ دیوبند کے بعض فضلاء ندوی فضلاء کو “ہیولی” اور “صورتِ جسمیہ” نہ جاننے کا طعنہ دیں، اور ندوی حلقوں سے دیوبندی فضلاء کو محض “مناظرہ باز” کہہ کر ڈی گریڈ کرنے کی کوشش کی جائے—یہ روش علمی اختلاف نہیں بلکہ فکری تنگ نظری کی علامت ہے۔
تضادِ فکر: باہر محبت، اندر نفرت
ہم ان لوگوں سے محبت، امن اور بھائی چارے کی امید رکھتے ہیں جن سے ہمارے دین، مذہب، خدا اور رسول میں کوئی بنیادی اشتراک نہیں؛ لیکن جن کے ساتھ سو میں سے ننانوے امور میں اتحاد ہے، ان سے ایک اختلاف کی بنیاد پر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ یہ طرزِ عمل اختیار کیے ہوئے ہیں، وہ کھلے فرقہ پرستوں سے بھی زیادہ خطرناک فرقہ پرست ہیں—کیونکہ وہ اتحاد کو اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں۔
نوخیزی، بے احتیاطی اور اخلاقی ذمہ داری
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ مفتی شمائل ندوی سے بعض مقامات پر بے احتیاطیاں سرزد ہوئی ہیں۔ وہ نوخیز ہیں، ابھی ابتدائے سفر میں ہیں، اور یہ فطری امر ہے۔ مگر یہ نہ اس وقت کا تقاضا ہے کہ ان لغزشوں کو اچھالا جائے، نہ عوامی محاسبہ کیا جائے۔ یہ وقت ان کا حوصلہ بڑھانے، ان کے ساتھ کھڑے ہونے اور غیر مشروط حمایت کا ہے۔
البتہ جن اہلِ علم یا احباب کا ان سے ذاتی تعلق ہے، وہ خلوص کے ساتھ نجی طور پر رہنمائی کر سکتے ہیں—خصوصاً اس تناظر میں کہ وہ ایک امریکی استاد کے شاگرد ہیں، خود امریکی شہری نہیں۔
Powerful Conclusion | اصل امتحان شائستگی نہیں، دیانت ہے
اصل سوال یہ نہیں کہ کون اسٹیج پر کتنا شائستہ تھا، یا کس نے کس کے ساتھ کھانا کھایا؛ اصل سوال یہ ہے کہ اسٹیج سے اترنے کے بعد کون سچ کے ساتھ کھڑا رہا، اور کون خاموشی کے پردے میں ناانصافی کا شریک بنا۔ اگر علمی مکالمہ واقعی مثبت، پرامن اور اکیڈمک تھا، تو پھر اس کے بعد چلنے والی کردار کشی، میڈیا ٹرائل اور فرقہ پرستانہ زہر آلود مہم پر جاوید اختر (شریکِ مباحثہ) اور سوربھ دیویدی (ماڈریٹر) کی خاموشی خود ایک اخلاقی جرم ہے۔
مفتی شمائل ندوی کا معاملہ کسی ایک فرد کا نہیں، بلکہ یہ اس اجتماعی رویّے کا امتحان ہے جس میں ہم باہر والوں سے اخلاقیات کا مطالبہ کرتے ہیں، مگر اندر اپنے ہی لوگوں کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر ہم نے اس موقع پر بھی انصاف، دیانت اور فکری بالغ نظری کا ثبوت نہ دیا، تو یاد رکھیے—نقصان کسی ایک 
عالم کا نہیں ہوگا، بلکہ پوری امت کے فکری وقار کا ہوگا۔

قاری ممتاز احمد جامعی 
majaamai@gmail.com 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔