جمعہ، 2 جنوری، 2026

مفتی حسنین قاسمی دامت برکاتہم العالیہ

 مفتی حسنین قاسمی دامت برکاتہم العالیہ

عزم، خدمت اور ادارہ سازی — ایک ہم عصر، جاری اور متحرک علمی و فکری کردار

مفتی حسنین قاسمی دامت برکاتہم العالیہ کی شخصیت محض حالات کا مقابلہ کرنے والی نہیں، بلکہ بادِ مخالف کے لیے ایک ایسی چٹان کی مانند ہے جس سے ٹکرا کر سخت ترین لہریں بھی اپنی تیزی کھو بیٹھتی ہیں۔ ان کا ظرف اور حوصلہ اس درجے کا ہے کہ اختلاف کی نیت سے سامنے آنے والا بھی ان کے اخلاق، متانت اور وسعتِ قلبی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتا ہوا لوٹتا ہے۔ یہ ان کی قوت نہیں، بلکہ ان کے اخلاق کی فتح ہے؛ یہی وجہ ہے کہ جو بھی اس آہنی عزم سے ٹکراتا ہے، وہ موم صفت ہو کر انہی کو اپنا آئیڈیل ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

راقم کے لیے یہ محض ایک تاثراتی خاکہ نہیں بلکہ ذاتی مشاہدہ ہے۔ متعدد مرتبہ جامعہ عائشہ صدیقہ، نورچک میں حاضری کا موقع ملا، اور ہر بار یہ احساس غالب رہا کہ گویا پہلی مرتبہ اس در پر حاضری ہو رہی ہو۔ اس ادارے کی فضا میں جو اپنائیت، وقار اور خلوص جھلکتا ہے، وہ کسی رسمی تعارف کا محتاج نہیں۔ ایک موقع پر ایسا بھی ہوا کہ حضرت کے ایک معاون—جو راقم سے ناآشنا تھے—نے محض ایک عام مہمان سمجھ کر معمول کے مطابق استقبال کیا، تو حضرت مفتی صاحب نے بلا تردد اور پورے اعتماد کے ساتھ فرمایا:

“یہ قاری ممتاز احمد جامعی صاحب ہیں، جامعہ عائشہ صدیقہ اور اس ادارے پر ان کے کئی احسانات ہیں۔”

یہ جملہ محض تعارف نہیں تھا، بلکہ حضرت کے اس مزاج کی عکاسی تھا جس میں اپنے اور غیر کی کوئی دیوار حائل نہیں۔ اس کے بعد وہی معاون حیرت و ادب کے ملے جلے احساس کے ساتھ جس خلوص سے پیش آئے، وہ اس حقیقت کا عملی مظہر تھا کہ حضرت کا اخلاق دلوں کو مسخر کرنے کی غیر محسوس طاقت رکھتا ہے۔ راقم کے لیے اس لمحے میں رشک کے سوا کوئی اور کیفیت نہ تھی—نہ کسی دعوے کی حاجت، نہ کسی نسبت کے اظہار کی خواہش—بس ایک خاموش اعتراف کہ یہ وہ شخصیت ہے جس کے دسترخوانِ اخلاق پر ہر آنے والا خود کو خاص محسوس کرتا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ چھوٹے بڑے، عام و خاص، سبھی نے حضرت مفتی حسنین قاسمی دامت برکاتہم کو اپنا سرپرست اور مخدوم بنانا باعثِ فخر سمجھا۔ یہ مقام نہ منصب سے ملا، نہ شہرت سے—بلکہ اس کردار سے حاصل ہوا جو دلوں کو جوڑتا ہے، اور اس ظرف سے پیدا ہوا جو دوسروں کو اپنا بنا لیتا ہے۔

تمہید

کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی زندگی محض ذاتی ارتقا کی کہانی نہیں ہوتی، بلکہ وہ اپنے عہد کے سوالات کا عملی جواب بن کر ابھرتی ہیں۔ ان کے قدم موسموں کی شدت سے نہیں ڈگمگاتے، حالات کی سنگینی انہیں پسپا نہیں کرتی، اور وسائل کی قلت ان کے حوصلے کو متزلزل نہیں کر پاتی۔ وہ اپنی ذات سے آگے بڑھ کر سماج کی ضرورت بنتے ہیں، اور سماج سے آگے بڑھ کر ملت کے لیے سمت کا تعین کرتے ہیں۔ مفتی حسنین قاسمی دامت برکاتہم ایسی ہی ہمہ جہت، خاموش مگر اثر انگیز شخصیت کا نام ہے۔

ان کی جدوجہد کو اگر ایک جملے میں سمیٹا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ جدوجہد علم کو عمل میں، اور درد کو ادارہ میں ڈھالنے کی مسلسل کوشش ہے۔ بے گھر کے لیے چھت، یتیم کے لیے شفقت، بیوہ کے لیے اعتماد، مسکین کے لیے آس اور غریب کی دہلیز تک ضروریاتِ زندگی پہنچانے کا جو جذبہ ان کے شب و روز میں نمایاں ہے، وہ محض وقتی ہمدردی نہیں بلکہ ایک منظم، مستقل اور بامقصد خدمت کا اظہار ہے۔

خاندانی پس منظر اور ابتدائی اثرات

محمد حسنین قاسمی، ولدِ محمد انصار قاسمی مرحوم، 2 نومبر 1974ء کو ضلع مدھوبنی کے گاؤں نورچک (وایا بسفی) میں پیدا ہوئے۔ یہ علاقہ سادگی، محنت، قناعت اور دینی وابستگی کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ والد مرحوم کی دیانت، سادگی اور محنت نے بچپن ہی سے ذمہ داری کا احساس پیدا کیا، جو آگے چل کر خدمتِ دین و ملت کا محرک بنا۔

ابتدائی تعلیم آبائی گاؤں میں حاصل کی، جہاں سادہ ماحول کے باوجود علم کی قدر دل میں راسخ ہوئی۔

مدرسہ اسلامیہ محمود العلوم دملہ — تربیت گاہِ اوّل

مدرسہ اسلامیہ محمود العلوم دملہ میں درجۂ فارسی سے عربی پنجم تک تعلیم محض نصابی مرحلہ نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت تربیتی دور تھا۔ یہاں قاضی شریعت دملہ اور مہتمم مدرسہ حضرت مفتی اعجاز احمد صاحب قاسمی کی سرپرستی، سابق مہتممین حضرت مولانا محمد ولی الرحمن قاسمیؒ اور حضرت مولانا محمد ابرار احمد قاسمیؒ کی علمی روایت، اور دیگر اساتذہ کی صحبت نے شخصیت کو نکھارا۔

حضرت مولانا محمد شبنم رضا قاسمیؒ، حضرت مولانا محمد انصار قاسمیؒ، حضرت مولانا محمد کفیل قاسمی، حضرت مولانا محمد اظہار الحق مظاہری، حضرت مولانا محمد صلاح الدین قاسمیؒ، حضرت مولانا محمد ابو قمر قاسمی، حضرت مولانا محمد سمیع اللہ قاسمی اور حضرت مولانا محمد عبدالوہابؒ جیسے اساتذہ سے علم کے ساتھ حلم اور کردار کی دولت ملی۔

دارالعلوم دیوبند — فکر کی تکمیل

1990ء میں علم کی پیاس انہیں دارالعلوم دیوبند کی دہلیز تک لے گئی۔ چار برس کے قیام کے بعد جنوری 1994ء میں سندِ فراغت حاصل کی۔ یہ دور محض نصابی تعلیم کا نہیں بلکہ فکری وسعت، اعتدال اور بصیرت کا دور تھا۔

دارالعلوم دیوبند میں حضرت مولانا نصیر احمد خانؒ، حضرت مولانا شیخ عبد الحق اعظمیؒ، حضرت مولانا ریاست علی ظفر بجنوریؒ، حضرت مولانا مفتی محمود الحسن گنگوہیؒ، حضرت مولانا زبیر احمد دیوبندیؒ، حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالن پوریؒ، حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمیؒ، حضرت مولانا قمر الدین گورکھپوریؒ، حضرت مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم، بحر العلوم حضرت مولانا نعمت اللہ اعظمی دامت برکاتہم، اور حضرت مولانا عبد الخالق مدراسی دامت برکاتہم جیسے اکابر سے استفادہ کا موقع ملا۔


ان اکابر کی صحبت نے انہیں یہ سکھایا کہ علم اگر اعتدال، تحمل اور سماجی شعور سے خالی ہو تو وہ امت کے لیے بوجھ بن جاتا ہے۔ یہی دیوبندی مزاج آگے چل کر ان کے ہر فیصلے میں جھلکتا رہا۔


امارتِ شرعیہ پٹنہ — علم سے عمل تک


دورۂ حدیث کے بعد 1994ء میں امارتِ شرعیہ، پھلواری شریف پٹنہ میں افتاء و قضاء کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ یہاں قاضی القضاۃ حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ کی سرپرستی میسر آئی—ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت جن میں فقہ، عدل، سماجی بصیرت اور ملی قیادت کا حسین امتزاج موجود تھا۔


یہیں مفتی حسنین قاسمی کے اندر یہ احساس راسخ ہوا کہ فقہ صرف کتابی علم نہیں بلکہ سماج کی رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ اسی دور میں حضرت مولانا مفتی نسیم مظفرپوریؒ، حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی اور حضرت مولانا مفتی جنید قاسمی سے بھی بھرپور استفادہ ہوا، جس نے ان کی فقہی سوچ کو مزید متوازن بنایا۔


تدریس، قضاء اور داخلی خلش


1996ء سے 2009ء تک مدرسہ اسلامیہ محمود العلوم دملہ میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ عربی پنجم تک کی کتب کی تدریس، امورِ قضاء کی ذمہ داریاں، اور ادارے کی تعمیر و ترقی میں عملی کردار—یہ سب ان کی مصروفیات کا حصہ رہا۔ مگر اسی دوران ایک داخلی خلش مسلسل دل میں کروٹ لیتی رہی: علاقے میں تعلیمِ نسواں کے لیے کوئی منظم، معیاری اور محفوظ ادارہ موجود نہیں تھا۔


جامعہ عائشہ صدیقہ — خواب کی تعبیر


یہی خلش بالآخر ایک عظیم تعلیمی منصوبے میں تبدیل ہوئی۔ بسفی بلاک، جہاں مدارس کی کثرت تھی مگر بچیوں کے لیے کوئی جامع مرکز نہیں تھا، وہاں 22 اپریل 2007ء کو جامعہ عائشہ صدیقہ کی بنیاد رکھی گئی۔ قاضی شریعت حضرت مولانا قاسم مظفرپوریؒ کی دعا اور حوصلہ افزائی اس سفر کی بنیاد بنی، اور 21 مئی 2008ء کو حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ کے دستِ مبارک سے باضابطہ تعلیم کا آغاز ہوا۔


آج یہ ادارہ ابتدائی دینیات سے دورۂ حدیث شریف تک، عصری تعلیم، ہنر مندی، صحافتی تربیت اور آن لائن نظام کے ذریعے تقریباً پانچ سو طالبات کی تربیت کر رہا ہے، جبکہ ڈیڑھ سو سے زائد طالبات سندِ فضیلت حاصل کر چکی ہیں۔


توسیعی خدمات اور اصلاحِ باطن


اسی تسلسل میں 13 دسمبر 2016ء کو دارالقرآن کا قیام، جامعہ کے احاطے میں مسجدِ عائشہ کی تعمیر، ذاتی زمین وقف کر کے مسجدِ والدین کی بنیاد، اور غریبوں، مسکینوں، سیلاب زدگان کی مستقل امداد—یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ سفر محض تقریروں کا نہیں بلکہ عمل کا سفر ہے۔


اصلاحِ باطن کے میدان میں بھی یہی سنجیدگی نمایاں ہے۔ ابتدا میں حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ سے بیعت، اور بعد ازاں حضرت مولانا مفتی احمد خانپوری دامت برکاتہم سے اصلاحی تعلق—یہ سب ظاہر و باطن کے توازن کی علامت ہے۔


یہ تحریر کسی مکمل شدہ سوانح کا بیان نہیں، بلکہ ایک باحیات، ہم عصر اور مسلسل متحرک علمی و دعوتی کردار کے جاری سفر کا ایک معتبر اور زندہ عکس ہے۔ حضرت مولانا مفتی حسنین قاسمی دامت برکاتہم العالیہ اس وقت بھی علم، تربیت، دعوت اور ادارہ سازی کے محاذ پر پوری استقامت کے ساتھ سرگرمِ عمل ہیں، اور ان کی نگرانی میں جاری یہ تعلیمی و فلاحی سلسلہ روز بروز وسعت اختیار کر رہا ہے۔

ان کی زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ کچھ شخصیات تاریخ کے اختتام پر نہیں، بلکہ تاریخ کے بنتے ہوئے مراحل میں پہچانی جاتی ہیں۔ ان کے یہاں خاموشی کمزوری نہیں بلکہ وقار ہے، استقامت جمود نہیں بلکہ شعوری انتخاب، اور قیادت اقتدار نہیں بلکہ امانت ہے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت کی عمر، صحت اور قوتِ عمل میں برکت عطا فرمائے، ان کے ہاتھوں جاری اس علمی و فلاحی سفر کو مزید ثمرآور بنائے، ان کی نگرانی میں پروان چڑھنے والے اداروں کو ملت کے لیے نفعِ عام کا مستقل ذریعہ بنائے، اور ان کی خدمات کو دنیا میں اثر اور آخرت میں نجات کا سبب قرار دے۔ آمین۔

قاری ممتاز احمد جامعی

بانی و ناظم — جامعہ اشاعت العلوم، سمستی پور

جنرل سکریٹری — الامداد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ، سمستی پور (بہار)

ای میل: majaamai@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔