حضرت مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی
ایک معتبر علمی شخصیت: تعارف، علمی تشکیل، خدمات اور ذاتی مشاہدہ
عصرِ حاضر میں جن اہلِ علم نے شہرت، خطابت اور ہنگامہ خیزی کے بجائے خاموشی، دیانت اور فکری توازن کے ساتھ علمِ دین کی خدمت کو اپنا شعار بنایا، حضرت مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی صاحب دامت برکاتُہم ان میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ایسے علماء عموماً اپنے زمانے میں کم اور تاریخ کے صفحات میں زیادہ بولتے ہیں۔ حضرت مفتی صاحب کی علمی زندگی بھی اسی حقیقت کی روشن مثال ہے۔
حضرت مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی بن جناب محمد احسان الحق 1961ء میں ضلع سمستی پور (بہار) کے دینی فضا سے وابستہ گاؤں موضع لاد کپسیا میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں ہی میں حاصل کی۔ آپ ایک ایسے علمی و روحانی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں جس کا نسبتاً و فکری رشتہ امیرِ شریعت رابع حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی رحمہ اللہ علیہ سے رہا ہے۔ والد محترم اور بڑے چچا حضرت امیرِ شریعت رابعؒ سے بیعت یافتہ تھے، بڑے بھائی مولانا طفیل احمد رحمانیؒ جامعہ رحمانی مونگیر سے فراغت کے بعد تدریسی خدمات انجام دے چکے تھے، جبکہ خاندان کے دیگر افراد بھی اسی علمی ماحول میں پروان چڑھے۔
اسی پس منظر کے تحت آپ کو جامعہ رحمانی، مونگیر بھیجا گیا، جہاں 1972–73ء میں درجۂ عربی اول میں داخلہ لیا اور درجہ عربی ششم تک تعلیم حاصل کی۔ جامعہ رحمانی کے قیام کے دوران جن اکابر اساتذہ سے آپ کو علمی استفادہ کا موقع ملا، انہوں نے آپ کے ذوقِ علم اور فکری توازن کی بنیاد مضبوط کی۔ ان میں مولانا سید شمس الحقؒ (شیخ الحدیث جامعہ رحمانی)، مولانا علامہ اکرام علیؒ (سابق شیخ الحدیث مدرسہ تعلیم الدین ڈابھیل)، مولانا علاء الدین ندویؒ، مولانا حسیب الرحمنؒ (سابق شیخ الحدیث دارالعلوم حیدرآباد)، مولانا فضل الرحمن قاسمیؒ (سابق شیخ الحدیث سبیل السلام حیدرآباد) اور مولانا نور الحق رحمانی قاسمی (موجودہ استاذ المعہد العالی للتدریب فی القضاء والافتاء، امارتِ شرعیہ پٹنہ) شامل ہیں۔ ان حضرات کی صحبت نے حضرت کے مزاج میں سنجیدگی، ضبط اور فقہی احتیاط کو راسخ کیا۔
اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے بعد ازاں آپ دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے، جہاں عربی ششم سے دورۂ حدیث اور
تکمیلِ افتاء تک مسلسل چار سال قیام فرمایا۔ دارالعلوم دیوبند میں جن جلیل القدر اکابر سے علمی استفادہ نصیب ہوا، وہ برصغیر کی علمی روایت کے درخشاں نام ہیں: حکیم الاسلام قاری محمد طیبؒ، خطیبُ الاسلام حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ، مولانا نصیر احمد خانؒ، مولانا انظر شاہ کشمیریؒ، مولانا محمد حسین بہاریؒ، مولانا خورشید عالمؒ، مفتی سعید احمد پالنپوریؒ، مولانا قمر الدینؒ اور مولانا ریاست علی بجنوریؒ۔
بالخصوص افتاء اور عملی مشقِ فتویٰ نویسی کے مرحلے میں حضرت مفتی ظفیرالدینؒ کی خصوصی سرپرستی، رہنمائی اور اعتماد حاصل رہا، جنہوں نے افتاء کے ذوق، اسلوب اور ذمہ داری کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اسی طرح اس شعبہ کی علمی نوک پلک سنوارنے اور افتائی مزاج کی تربیت میں حضرت مفتی محمود حسن گنگوہیؒ اور حضرت مولانا مفتی نظام الدین صاحبؒ جیسے اکابر کی علمی توجہ اور فیض بھی شاملِ حال رہا۔ افتاء کے اس مرحلے میں اصول، احتیاط اور جواب دہی کا جو گہرا شعور حاصل ہوا، وہ آپ کی پوری آئندہ علمی زندگی کا بنیادی سرمایہ بنا۔
1983ء میں تکمیلِ افتاء کے بعد حضرت مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی صاحب کو دارالافتاء سے باقاعدہ عملی وابستگی حاصل ہوئی، جہاں فتویٰ نویسی، اصولِ افتاء کی تطبیق اور عملی مسائل کے حل کا گہرا تجربہ نصیب ہوا۔ اس دور میں افتائی متون کی باقاعدہ قراءت، فقہی مصادر سے براہِ راست استفادہ اور عملی مشق کے ذریعے افتاء کے فنی تقاضوں پر مضبوط گرفت حاصل ہوئی۔ اسی سال امیرِ شریعت رابع رحمہ اللہ علیہ کے حکم سے آپ امارتِ شرعیہ پھلواری شریف، پٹنہ سے منسلک ہوئے اور افتاء کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔
امارتِ شرعیہ پھلواری شریف، پٹنہ جیسے قدیم، معتبر اور ملت کے اجتماعی اعتماد کے حامل ادارے میں طویل عرصہ افتاء اور فقہی رہنمائی کی خدمات انجام دینا کسی معمولی ذمہ داری کا نام نہیں۔ وقت کے ساتھ استفتاءات کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا، ذمہ داریوں کا دائرہ وسیع ہوتا چلا گیا، مگر حضرت نے قریب چار دہائیوں تک صبر، استقامت اور علمی دیانت کے ساتھ اس امانت کو نبھایا۔ افتاء کو انہوں نے کبھی محض منصب یا دفتری ذمہ داری نہیں سمجھا، بلکہ اسے دینی امانت اور جواب دہی کا معاملہ جانا، جس میں احتیاط، توازن اور خوفِ خدا بنیادی اصول رہے۔
تعلیمی اعتبار سے بھی حضرت نے دینی علوم کے ساتھ عصری و جامعاتی تعلیم کو نظرانداز نہیں کیا۔ بہار مدرسہ بورڈ سے فاضل حدیث، فاضل فقہ، فاضل تفسیر، فاضل اردو، فاضل فارسی اور فاضل عربی ادب کے امتحانات پاس کیے، نیز بہار یونیورسٹی مظفرپور سے فارسی میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ انہی علمی خدمات اور طویل تجربے کے نتیجے میں آپ امارتِ شرعیہ کے صدر مفتی، معہد العالی للتدریب فی القضاء والافتاء کے استاذ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن جیسے اہم مناصب پر فائز رہے۔ منصب کی رفعت کے باوجود خاموش خدمت، دعا، انکساری اور علمی دیانت آپ کی شخصیت کے نمایاں اوصاف رہے۔
آپ کا تعلق اگرچہ اصلاً ضلع سمستی پور سے ہے، تاہم علمی، ملی اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں کے باعث پٹنہ کو وطنِ ثانی کا درجہ حاصل رہا۔ پٹنہ—جو کبھی عظیم آباد اور صادق پور کے نام سے جانا گیا—علم و ادب کا قدیم مرکز رہا ہے۔ اگرچہ آج وہ کلاسیکی علمی فضا پوری آب و تاب کے ساتھ محسوس نہیں ہوتی، تاہم ماضی کی بازگشت آج بھی مختلف دینی و ملی اداروں کے ذریعے اپنا وجود منواتی ہے۔
راقم کے لیے حضرت مفتی سہیل احمد قاسمی صاحب سے ملاقات ایک عرصے سے دل میں موجزن تمنا تھی۔ مختلف مواقع پر فون کے ذریعے دعاؤں اور حوصلہ افزائی سے استفادہ کا موقع ملتا رہا، مگر بالمشافہ حاضری کی سعادت نصیب نہ ہو سکی تھی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ حاضری اگرچہ مختصر رہی، مگر نہایت بابرکت اور اثر انگیز ثابت ہوئی۔ چند دعائیہ کلمات، مختصر گفتگو اور شفقت آمیز توجہ نے یہ احساس تازہ کر دیا کہ اکابر کی اصل میراث الفاظ کی کثرت نہیں بلکہ وہ دعا ہے جو دل سے نکل کر دل تک پہنچتی ہے۔
اسی سفر کے دوران آل انڈیا ملی کونسل کے صوبائی دفتر، پٹنہ میں حاضری کا بھی اتفاق ہوا۔ دفتر میں موجود ذمہ داران و کارکنان سے سابقہ شناسائی نہ تھی، اس کے باوجود جس خلوص، احترام اور خوش دلی سے استقبال کیا گیا، وہ ادارہ جاتی اخلاق اور ملی روایت کا خوشگوار اظہار تھا۔ اجنبیت کا احساس خود بخود کم ہوتا چلا گیا اور یہ بات مزید واضح ہو گئی کہ اداروں کی اصل شناخت عمارتوں یا ناموں سے نہیں بلکہ وہاں کام کرنے والوں کے رویّوں سے ہوتی ہے۔
اسی موقع پر آل انڈیا ملی کونسل کی جانب سے چند مطبوعہ کتابیں—اگرچہ قیمت کے ساتھ—حاصل کرنے کا موقع ملا۔ میرے لیے یہ محض کتابیں نہیں تھیں بلکہ ایک پرانی، مانوس اور دیرینہ محبت کی تجدید تھیں۔ کتابوں سے میرا تعلق ہمیشہ غیر معمولی رہا ہے۔ مطالعے کے ایام میں ذاتی ضروریات پر کتاب کو ترجیح دینا میرے لیے ایک فطری اور شعوری انتخاب رہا ہے۔ الحمدللہ اسی ذوق کے نتیجے میں ایک ذاتی کتب خانہ بھی وجود میں آیا، اگرچہ وسائل کی تنگی کے باعث اس کی مناسب دیکھ بھال ہمیشہ ممکن نہ ہو سکی۔
اس پورے سفر، حاضری اور مشاہدے کی اصل روح حضرت مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی صاحب دامت برکاتُہم کی ذات سے وابستہ رہی۔ ان کی خاموشی میں وقار، گفتگو میں ٹھہراؤ، اور طرزِ عمل میں شفقت—یہ سب ان کی علمی عمر رسیدگی اور فکری پختگی کی علامت ہیں۔
حضرت مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے اُن قدیم اور ممتاز مفتیانِ کرام میں شمار ہوتے ہیں جن کی فقہی بصیرت، اعتدالِ مزاج اور جرأتِ افتاء پر ادارے کے اکابر کو ہمیشہ اعتماد رہا ہے۔ دارالعلوم دیوبند سے فراغت اور تکمیلِ افتاء کے بعد 1983ء میں حضرت امیرِ شریعت رابع رحمہ اللہ علیہ کے حکم سے دارالافتاء امارتِ شرعیہ سے وابستگی اختیار کرنا محض ایک تقرری نہیں بلکہ ایک طویل فقہی امانت کی سپردگی تھی، جسے حضرت نے مسلسل کئی دہائیوں تک پوری دیانت اور ذمہ داری کے ساتھ نبھایا۔
فقہ و افتاء کے میدان میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مفتی صاحب کو اصولِ فقہ پر مضبوط گرفت، نصوصِ شرعیہ کی گہری فہم، اور زمانے کے پیچیدہ مسائل کو اعتدال و احتیاط کے ساتھ حل کرنے کی صلاحیت عطا فرمائی۔ یہی وجہ ہے کہ امارتِ شرعیہ کے اکابر—حضرت امیرِ شریعت رابعؒ، حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ، حضرت مولانا نظام الدینؒ (امیرِ شریعت سادس) اور حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانیؒ (امیرِ شریعت سابع)—نے مختلف ادوار میں آپ پر اعتماد کا اظہار فرمایا اور حساس فقہی معاملات میں آپ کی رائے کو وزن دیا گیا۔
حضرت مفتی سہیل احمد قاسمی کا ایک نہایت اہم اور دیرپا علمی کارنامہ "فتاویٰ رحمانی" کی تدوین ہے۔ حضرت امیرِ شریعت رابعؒ کے وہ فتاویٰ جو مختلف رسائل، تحریروں، ہفتہ وار نقیب اور دیگر مطبوعات میں منتشر تھے، انہیں تلاش کر کے یکجا کرنا، ترتیب دینا اور علمی امانت کے ساتھ محفوظ کرنا غیر معمولی محنت اور فقہی شعور کا متقاضی تھا۔ یہ کام محض تدوین نہیں بلکہ امارتِ شرعیہ کی فقہی تاریخ کو محفوظ کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی، جو آج بھی اہلِ علم کے لیے قیمتی سرمایہ ہے۔
حضرت مفتی صاحب کی فقہی زندگی میں ایسے مواقع بھی آئے جہاں محض احتیاط نہیں بلکہ جرأتِ ایمانی کا مظاہرہ مطلوب تھا۔ 1985ء میں عبدالغنی کی گمراہ کن تصنیف "منزلِ حق" کے خلاف حضرت نے مدلل اور واضح فتویٰ تحریر فرمایا، جس میں مشرکانہ، ملحدانہ اور فحش نظریات کی صراحت کے ساتھ نشاندہی کی گئی۔ یہ فتویٰ ستمبر 1985ء کے ہفتہ وار نقیب میں شائع ہوا اور اس نے اہلِ علم و عوام کے لیے حق و باطل کے درمیان ایک واضح لکیر
کھینچ دی۔
اسی جرأتِ ایمانی، علمی اعتماد اور دینی غیرت کا ایک روشن اور ناقابلِ فراموش مظہر حضرت مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی صاحب دامت برکاتہم کی فقہی زندگی میں سنہ 1985ء سے لے کر جولائی 2017ء تک پھیلا ہوا وہ مسلسل طرزِ عمل ہے جس میں حق گوئی کو کسی مصلحت، دباؤ یا مداہنت پر ترجیح دی گئی۔ 1985ء میں ضلع نوادہ کے کواکوں قصبہ سے عبدالغنی نامی شخص کی گمراہ کن کتاب “منزلِ حق” منظرِ عام پر آئی، جس میں قرآنِ کریم کی من مانی تعبیر، پوشیدہ معانی کا بے بنیاد دعویٰ، مشرکانہ و ملحدانہ عقائد اور فحش افکار کو اسلام سے منسوب کر کے سادہ لوح مسلمانوں کو فکری انتشار اور اعتقادی گمراہی کی طرف دھکیلنے کی منظم کوشش کی گئی۔ جب اس خطرناک فتنے کے خلاف اہلِ علم اور ذمہ دارانِ مدارس متحرک ہوئے اور مختلف دارالافتاؤں سے رجوع کیا گیا تو دارالافتاء امارتِ شرعیہ میں بھی یہ معاملہ پیش ہوا، جہاں حضرت مفتی سہیل احمد قاسمی صاحب نے نہایت مدلل، واضح اور بے لاگ فتویٰ تحریر فرمایا، جو ستمبر 1985ء کے ہفتہ وار نقیب میں شائع ہوا اور بعد ازاں دیگر فتاویٰ کے ساتھ کتابچہ کی صورت میں عام کیا گیا۔ اس فتویٰ میں مذکورہ کتاب کو صراحت کے ساتھ گمراہی، بدعقیدگی اور فحاشی کا مجموعہ قرار دے کر امت کو ایک سنگین فکری یلغار سے بروقت خبردار کیا گیا، اور یوں افتاء کو محض نظری بحث کے بجائے ملت کی عملی حفاظت کا ذریعہ بنایا گیا۔
اسی فکری استقامت، اصولی جرات اور دینی حمیت کا تسلسل جولائی 2017ء میں اس وقت پوری قوت کے ساتھ سامنے آیا جب ایک بااثر مسلم سیاسی شخصیت کے کفریہ کلمات و اعمال کی تحقیق کے بعد حضرت مفتی سہیل احمد قاسمی نے اصولِ شریعت کی روشنی میں بلا خوف و مداہنت اسلام سے خروج اور تجدیدِ ایمان و نکاح کا تاریخی فتویٰ صادر فرمایا۔ یہ فتویٰ وقتی سیاسی مصلحتوں اور سماجی دباؤ سے بالاتر ہو کر دیا گیا، جس کے اثرات نہ صرف بہار بلکہ ملک گیر سطح پر محسوس کیے گئے، میڈیا میں شدید بحث چھڑی، اور بالآخر متعلقہ شخص کو توبہ، استغفار اور تجدیدِ ایمان پر آمادہ ہونا پڑا۔ یہ واقعہ نہ صرف حضرت مفتی صاحب کی فقہی جرات اور دینی حمیت کی روشن علامت ہے بلکہ اس حقیقت کا بھی ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ امارتِ شرعیہ کا افتائی منصب محض ایک رسمی یا دفتری ذمہ داری نہیں بلکہ اخلاقی، اعتقادی اور شرعی قیادت کا سنگین فریضہ ہے—اور حضرت مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی نے اس فریضے کو ہر دور میں کامل استقامت، علمی دیانت اور امام احمد بن حنبلؒ جیسی بے مثال جرات کے ساتھ نبھایا۔
یہ پورا طرزِ عمل اس حقیقت کو بھی واضح کرتا ہے کہ حضرت مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی صاحب دامت برکاتہم کے نزدیک افتاء محض ایک منصب یا دفتری ذمہ داری نہیں، بلکہ حق کی شہادت، باطل سے برأت اور شریعتِ اسلامی کی حفاظت کا ایک زندہ فریضہ ہے، جسے انہوں نے ہر دور میں کامل استقامت اور علمی دیانت کے ساتھ ادا کیا۔
یہ تحریر کسی وقتی تاثر، شخصی عقیدت یا جذباتی وابستگی کے تحت نہیں، بلکہ ایک منضبط، دستاویزی، حوالہ جاتی اور قابلِ اعتماد تعارف کے طور پر مرتب کی گئی ہے، تاکہ آئندہ جب بھی حضرت مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی صاحب دامت برکاتہم کی علمی شخصیت، فقہی خدمات یا فکری مزاج پر کوئی سنجیدہ تحقیقی، تعارفی یا ادارہ جاتی کام کیا جائے، تو یہ مضمون ایک معتبر ماخذ کے طور پر پیش کیا جا سکے۔
اللہ تعالیٰ حضرت کو صحتِ کاملہ، عافیت اور درازیِ عمر عطا فرمائے، اور ان کے علم، تجربے اور دعاؤں سے ملتِ اسلامیہ کو مزید فیض پہنچاتا رہے۔
آمین یا رب العالمین۔
✍️ مرتب و مؤلف:
قاری ممتاز احمد جامعی
Email: majaamai@gmail.com
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔