ہفتہ، 31 جنوری، 2026

ذمہ داریوں کے درمیان ایک تصویر کی کہانی

وقت، رشتے اور میں

(ایک تصویری کالم)

میرے پہلو میں کھڑا وہ دوست

میری نو جوانی کے ایک مرحلے کی یاد ہے—

مگر یہ کالم

اس تصویر میں موجود دوسرے شخص،

یعنی میرے اپنے وجود کی کہانی ہے۔

یہ تصویر محض ماضی کی یاد نہیں،

یہ وقت کے چہرے پر ثبت ایک سوال ہے—

کہ انسان کب جوان ہوتا ہے

اور کب بوڑھا؟

وقت نے مجھے انچاس برس کے مدّ و جزر سے گزارا،

مگر حیرت یہ ہے کہ بڑھاپا

ابھی دروازہ کھٹکھٹانے کی مہلت بھی نہ پا سکا۔

وجہ سادہ ہے:

ذمہ داریاں فرصت نہیں دیتیں۔

یہ وہ بے بسی ہے

جو آنکھوں میں آنسو بن کر نہیں اترتی،

کندھوں پر بوجھ بن کر بیٹھتی ہے۔

وہ بوجھ

جو مسکرانے کی اجازت نہیں دیتا،

اور آرام کو بھی ایک خواب بنا دیتا ہے۔

ماتحتوں کو کون سمجھائے

کہ یہ وجود بھی عام مٹی سے بنا ہے،

کوئی نوری مخلوق نہیں—

کہ بھوک، تھکن اور خوف

اس کے حصے میں نہ آئیں۔

مفلس ہونا جرم نہیں،

مگر مفلس کا انسان ہونا

اکثر فراموش کر دیا جاتا ہے۔

زندگی کی اس طویل مسافت میں

شریکِ حیات کا کردار

کسی مضبوط ستون سے کم نہیں ہوتا۔

میری زندگی میں

یوں کہنے کو دو ہم سفر آئے—

مگر ہر ساتھ

پورے سفر کی ضمانت نہیں ہوتا۔

ایک— روشن جہاں—

چند برس

زندگی کے آنگن میں روشنی بکھیر کر

بیچ راستے ہی

سفر مختصر کر گئیں۔

وہ مالکِ حقیقی سے جا ملیں،

اور پیچھے

یادوں کا ایسا اجالا چھوڑ گئیں

جو وقت کی گرد سے مدھم نہیں پڑتا۔

دوسری— زینت آفریں—

جو آج اپنی آفرینی سے

زندگی کو ترتیب دے رہی ہیں۔

چہار جانب

انہی کا سلیقہ،

انہی کی محنت،

اور انہی کی زینت ہے۔

مگر انجامِ سفر کا علم

کسی کے پاس نہیں—

وہ پانچ باتیں جن کا علم صرف اللہ کو ہے،

ان میں ایک یہ بھی ہے

کہ ہم دونوں میں سے

کون

کس کا ساتھ

بیچ میں چھوڑتا ہے۔

گھر کی دہلیز پر

ذمہ داریوں کی ایک پوری دنیا آباد ہے۔

چھ بیٹیاں—

جنہیں دنیا بوجھ کہہ دیتی ہے،

مگر حقیقت میں یہ صبر، دعا

اور آخرت کا وہ ذخیرہ ہیں

جو وقت کے ساتھ بڑھتا ہے۔

دو بیاہی جا چکیں،

تین آج بھی کفالت کے سائے میں ہیں—

اور ہر ایک کے ساتھ

باپ کی خاموش فکر جڑی ہے۔

پانچ بیٹے—

سب اپنی اپنی آزمائش کے مسافر۔

ان میں ایک بائیس سالہ معذور بیٹا، محمد ساریہ،

جس کی جسمانی کمزوری

دل کی مضبوطی کے سامنے ہیچ ہے۔

وہ بیٹا

جو بولے بغیر سکھا دیتا ہے

کہ انسان کی قدر

طاقت سے نہیں، صبر سے ہوتی ہے۔

اور انہی میں

ایک بیٹا اور ایک بیٹی ایسے بھی ہیں

جو خاص معنوں میں ذخیرۂ آخرت ہیں۔

نہ اس لیے کہ وہ بے عیب ہیں،

بلکہ اس لیے کہ ان کی کمزوریوں کے ساتھ پرورش

انسان کو صبر، خود احتسابی، خدمت

اور قربانی کے عملی مرحلوں سے گزارتی ہے۔

وہ بچے

جن کی ذمہ داری انسان کو

خود سے بہتر بننے پر مجبور کرتی ہے—

اور یہی مجبوری

بالآخر آخرت کا سرمایہ بن جاتی ہے۔

ہم چار بھائی تھے،

مگر قدرت نے دو کو

حادثات میں

بے وقت ہم سے جدا کر دیا۔

بھائیوں کے حقوق کو سمجھنے اور نبھانے کا وقت

آیا بھی نہ تھا

کہ تقدیر نے خود

اس باب کو اپنے اختیار میں لے لیا۔

اب اس دنیا میں

میرے سوا صرف ایک بھائی باقی ہے،

لیکن تلخ حقیقت یہ ہے

کہ آج بھی

مجھے وہی سمجھا جاتا ہے

جو کبھی مجرد تھا—

جس کے وسائل

ہمیشہ بھائی کے لیے

ہمہ وقت دستیاب مان لیے گئے۔

یوں یہ رشتہ

رفتہ رفتہ

بھائی چارے سے نکل کر

ایک مسلسل ذمہ داری،

اور بالآخر

اے ٹی ایم مشین میں بدل دیا گیا۔

پانچ بہنوں کی شکایت اپنی جگہ،

مگر سوال

والد کے بعد

بھائی کے بدلتے رویّے پر بھی ہے۔

جو شخص

خود کثیرالاولاد،

ہمہ جہت ذمہ داریوں میں گھرا،

اور بظاہر مضبوط مگر حقیقتاً تنہا ہو،

اس سے مزید بوجھ مانگنا

رشتہ نہیں،

سوچ کی ناانصافی ہے۔

ذمہ داری نبھانے والا

اکثر آسان ہدف سمجھ لیا جاتا ہے—

اور یہی سماجی مغالطہ

انسان کو آہستہ آہستہ

اندر سے توڑ دیتا ہے۔

زندگی میں ہزار خوشیاں اپنی جگہ،

مگر دو برس قبل

والدِ محترم کا سایہ

سر سے اٹھ جانا

ایک ایسا خلا چھوڑ گیا

جو کسی کامیابی سے پُر نہیں ہوتا۔

ہاں، شکر کا پہلو یہ ہے

کہ والدہ کا سایہ

ابھی سر پر ہے—

اور ماں کی دعا

اب بھی زندگی کی سب سے مضبوط ڈھال ہے۔

یہ کالم کسی شکوے کا نوحہ نہیں،

یہ ایک حقیقت کا اعتراف ہے:

کہ انسان

جب ذمہ داری کو عبادت بنا لے

تو اس کی تھکن بھی معنی خیز ہو جاتی ہے۔

یہ تصویر اسی انسان کی ہے—

جو کمزور ہو کر بھی مضبوط ہے،

مفلس ہو کر بھی باوقار،

اور عام مٹی سے بن کر بھی

اپنے کردار سے ممتاز۔

اخلاقی نتیجہ:

رشتے تب عبادت بنتے ہیں جب ان میں انصاف ہو، اور جب انصاف قربان ہو جائے تو قربانی عبادت نہیں، خاموش استحصال بن جاتی ہے۔

قاری ممتاز احمد جامعی 

majaamai@gmail.com 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔