امارت شرعیہ: منصب کی جنگ یا امت کی امانت؟
تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی
امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ… ایک ایسا دینی، اجتماعی اور سماجی ادارہ جو برصغیر میں اپنی نوعیت کی منفرد مثال ہے۔ لیکن گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے یہ ادارہ انتشار، باہمی چپقلش اور قیادت کے ٹکراؤ کا شکار ہے۔ یہ صورتِ حال صرف ایک ادارے کا بحران نہیں، بلکہ امت مسلمہ کی وحدت، اعتماد اور شعور کی پستی کا کھلا اعلان ہے۔
کیا واقعی ہم اس درجہ گر چکے ہیں کہ عہدہ، کرسی اور شہرت کے لیے ملت کے اجتماعی وقار اور اعتماد کو قربان کر دیا جائے؟ کیا ادارہ کا نام، اس کی تاریخ، اس کی خدمات اور اس کا امتیاز اس قابل نہ تھا کہ ہم ذاتی انا اور مفادات سے اوپر اٹھ کر سوچتے؟
حالیہ دنوں دو بڑے جلسے ہوئے—ایک میں مولانا شبلی قاسمی اور مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب منظر پر تھے، دوسرے میں انجینئر فیصل ولی رحمانی صاحب۔ دونوں اطراف کے حمایتی حضرات، علما، مفکرین اور نمائندگان جمع ہوئے۔ دعویٰ یہی کہ امارت کی بقا اور اتحاد کا پیغام دینا ہے۔ لیکن اہل نظر سمجھتے ہیں کہ یہ اجتماعات “اتحاد” کے نام پر “اقتدار” کی مشق ہیں۔
سب سے دل خراش منظر یہ تھا کہ مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی جیسے بزرگ، جنہوں نے طویل مدت سے امارت کی خدمت کی ہے، محض نمائشی اتحاد کی خاطر عمر میں چھوٹے اور علمی اعتبار سے کم تر فرد کے پیچھے کھڑے دکھائی دیے۔
کیا اسلام ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے؟ کہ کبار علما و مشائخ کو چھوٹوں کی اقتدا میں صرف مصلحتِ وقتی یا دکھاوے کے لیے کھڑا کر دیا جائے؟
اگر یہی حبِ جاہ نہیں، تو پھر اور کیا ہے؟
یہ وقت کسی ایک فریق کو نیچا دکھانے کا نہیں، بلکہ امت کے اجتماعی شعور کو جھنجھوڑنے کا وقت ہے۔
اگر واقعی دونوں گروہ اقتدار کے بھوکے نہیں، جیسا کہ وہ بار بار اعلان کرتے ہیں، تو سوال یہ ہے:
امت کے وسیع تر مفاد میں اور امارت شرعیہ جیسے ادارے کے وقار کی حفاظت کی خاطر، دونوں فریق ایک ساتھ دستبردار کیوں نہیں ہوتے؟ کیوں نہ کسی تیسری اہل، متفق علیہ شخصیت کو میدان دیا جائے؟
کیا واقعی ملتِ اسلامیہ کی مائیں بانجھ ہو چکی ہیں کہ ان دونوں شخصیات کے علاوہ کوئی باوقار، دیانت دار، علم و فراست سے متصف، غیر جانبدار اور متفق علیہ شخصیت دستیاب نہیں؟
اگر جواب “نہیں” ہے—اور یقینا نہیں ہے—تو پھر سادہ الفاظ میں کہنا پڑے گا کہ یہ سب عہدوں کے لالچی ہیں، اور ملت کی بھلائی محض نعرہ ہے، مقصد کرسی ہے!
ہم امت کے وہ افراد ہیں جو امارت شرعیہ کو اپنے ایمان، اپنے تشخص، اپنے اتحاد کی علامت سمجھتے ہیں۔ اس لیے ہم یہ سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ:
کیا کوئی اجتماعی، آزاد، شفاف مشاورتی اجلاس ممکن نہیں جہاں مخلص، درد مند، غیر جانبدار علما و دانشور اس بحران کا حل نکالیں؟
کیا کوئی معیاری قیادت ان دو انتہاؤں کے علاوہ بھی ممکن نہیں؟
کیا وقت نہیں آ گیا کہ ہم اداروں کو افراد سے بلند تر مانیں اور امت کو فرد کے سائے سے نکال کر اصول کے سائے میں لے آئیں؟
ہم سادہ مسلمان، ادارے کے خیرخواہ، طلبہ، والدین، مخلص علما، سب یہ سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ:
امارت شرعیہ کسی فرد کی جاگیر نہیں! یہ امت کی امانت ہے، اور اس کی قیادت انہی کے سپرد ہونی چاہیے جو واقعی امانت دار ہوں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔