ہفتہ، 18 اکتوبر، 2025

فغیاس و فعباس: رفاقت یا رقابت کا انتخابی ڈرامہ

 فغیاس و فعباس: رفاقت یا رقابت کا انتخابی ڈرامہ


دنیا نے بڑے بڑے رفیق دیکھے ہیں؛ کوئی خیر کے علَم بردار بنے، کوئی علم و عمل کے جوڑوں میں یاد رکھے گئے۔ مگر کچھ رفاقتیں ایسی بھی ہیں جو تاریخ کے لیے محض وبال کا سامان بنتی ہیں۔ ایسی ہی ایک مثل ہے فغیاس و فعباس—دو ایسے کردار جو اگرچہ الگ الگ وجود رکھتے ہیں، مگر ان کی روحِ شرارت گویا ایک ہی سانچے میں ڈھلی ہے۔


دل چسپ حقیقت یہ ہے کہ دونوں کی ابتدائی تعلیم و تربیت ایک ہی منہج کے ادارے اور اسلامی ماحول میں ہوئی، گویا ایک ہی آغوش نے دونوں کو پرورش دی۔ پھر زندگی نے رخ بدلا اور دونوں نے ایک ہی شعبے کو ذریعۂ معاش بنایا۔ اس میدان میں بھی ان کی شہرت ملی جلی رہی—کچھ اہلِ ادب کے نزدیک یہ شہسوار ہیں، تو کچھ کے نزدیک ناکام کردار۔ کوئی کہتا ہے عارضی ناکامی، اور کوئی اپنے تجزیے میں اسے دائمی قرار دیتا ہے۔


ان کے باہمی تعلق کا مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ ہر ایک دوسرے کو شاگرد ماننے پر بضد ہے۔ فغیاس دلیل دیتا ہے: "میرا چڈی، رومال اور ٹوپی دھو کر، بیگ اور تھیلا ڈھوتا کون ہے؟" جبکہ فعباس اپنی قسم کھا کر کہتا ہے: "اصل استاد تو میں ہوں!" اس دلیل پر قاری ششدر ہے کہ ووٹ کس کے حق میں دے۔ یہ صورتحال کچھ ویسی ہی ہے جیسے انتخابی جلسوں میں امیدوار ایک دوسرے پر جھوٹے وعدوں اور پرانی قربانیوں کا پرچہ لہرا کر نعرہ لگاتے ہیں: “ووٹ ہمیں دو، خدمت ہم ہی نے کی ہے!”


اب ووٹ کی بات نکلے تو یاد آتا ہے کہ آج کل بہار (ہند) میں الیکشن کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔ وہاں کی اصل صورتحال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے خود 56 لاکھ ووٹ چوری کر لیے ہیں۔ فغیاس و فعباس کے جھگڑے کو دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ ان کے باہمی دعووں میں اور کمیشن کے اس عمل میں خاص فرق نہیں—عمل یکساں، شعبہ الگ! ایک طرف انتخابی منشور کے جھوٹ، دوسری طرف استادی و شاگردی کے کھوکھلے دعوے؛ قاری سوچتا ہے کہ آخر کس امیدوار کو ووٹ دے، جبکہ دونوں کا ریکارڈ ایک دوسرے سے مختلف نہیں۔ بلکہ یوں لگتا ہے کہ ہر قاری کے لیے ابو مسلم خراسانی کے کردار پر تحقیق سے زیادہ مشکل اسی کردار میں حتمی فیصلہ لینا ہے۔


ان کی روش کبھی یأجوج و مأجوج کی بے قابو طوفانی جبلّت یاد دلاتی ہے، کبھی یہ جوڑی ابو جہل و ابو لہب کی طرح لگتی ہے جو اپنی گمراہی کو بھی شراکت داری میں بانٹتے تھے۔ اور بعض وقت ان کے رویے میں وہی رنگ جھلکتا ہے جو بابل کے ہاروت و ماروت کی آزمائش میں دکھائی دیتا تھا—فتنہ بھی خود چنا، رسوائی بھی خود مول لی۔


آخر میں فیصلہ بہرحال قادرِ مطلق کے دربار میں ہی ہے، ہم سب اسی کی عدالت کے محتاج ہیں۔ مگر دنیاوی سیاست کی طرح یہاں بھی نظام ظاہر پر ہی چلے گا۔ اور ظاہر یہ ہے کہ فغیاس و فعباس فساد کے جڑواں، گمراہی کے بھائی بند اور بربادی کے شریکِ سفر ہیں—خواہ وہ اپنے آپ کو امیدوارِ نجات کہلائیں یا خود ساختہ استادِ اعظم!


ابو مسلم خراسانی سے بھی مشکل! فغیاس و فعباس پر فیصلہ


✍️ بقلم: ممتاز احمد جامعی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔