جیل بھرو تحریک ہی آخری راستہ
بھارت میں مسلمانوں کے لیے حالات دن بہ دن سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر اتر پردیش اور آسام میں حکومتیں فرقہ پرستی کی تمام حدیں پار کر چکی ہیں۔ ان صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے اقتدار کو انصاف اور خدمت کا ذریعہ بنانے کے بجائے نفرت، جبر اور ظلم کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔ یہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ اقتدار ایسے جاہل اور غنڈہ صفت ہاتھوں میں ہے جو بنیادی انسانی حقوق کو اپنے سیاسی کھیل کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں۔
عدلیہ، جو کبھی مظلوم کی آخری امید تھی، آج ریاستی بیانیے کی غلام بن چکی ہے۔ فسادات میں مسلمانوں کا قتلِ عام ہوا، بازار اجڑ گئے، عورتوں کی عصمت دری ہوئی، بے قصور نوجوان جیلوں میں سڑتے رہے، مگر نہ قاتل پکڑے گئے نہ مجرم سزا پائے۔ گویا پورا نظام مسلم دشمنی میں اندھا اور بہرا ہو چکا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ انسانی حقوق کے کارکن اور ملی تنظیموں کے قائدین بھی اپنی اپنی کمزوریوں اور مصلحتوں کے باعث خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ وہ اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں، گویا قسطوں میں مرنے پر راضی ہیں۔
ایسے میں مولانا محمود احمد مدنی کی آواز امید کی کرن ہے، جنہوں نے آسام جا کر ظالموں کے سامنے آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کی۔ مگر انفرادی جدوجہد کافی نہیں، وقت اجتماعی اقدام کا تقاضا کر رہا ہے۔
اب وقت ہے فیصلہ کن قدم کا
یہ وقت صرف بیانات اور مذمتی اجلاسوں کا نہیں۔ اب تمام انصاف پسند تنظیموں اور قائدین کو مصلحتیں چھوڑ کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا ہوگا۔ متفقہ جیل بھرو تحریک اور سول نافرمانی ہی وہ راستہ ہیں جو ظلم کے اس بے قابو سلسلے کو روک سکتے ہیں۔
ورنہ حقیقت یہ ہے کہ آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیمیں پورے ملک میں مورچہ زن ہیں۔ ہر میدان میں مسلمانوں کو معاشی، سماجی اور سیاسی طور پر مٹانے کی سازش جاری ہے۔ اگر آج بھی ہم نے اجتماعی بیداری نہ دکھائی تو آنے والی نسلوں کے لیے صرف مٹی اور ملال باقی بچے گا۔
✒️ قاری ممتاز احمد جامعی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔