تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی
تاریخ شاہد ہے کہ مفاد پرست سیاستدانوں نے سیکولرازم کی آڑ میں اقلیتوں، بالخصوص مسلم امہ کو بارہا دھوکہ دیا ہے۔ جگدمبیکا پال اس سیاسی منافقت کی ایک شرمناک مثال ہے، جس نے برسوں مسلمانوں کے اعتماد اور ووٹ سے فائدہ اٹھا کر جب اقتدار کی سیڑھی مکمل چڑھ لی تو اپنا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا۔
سیاسی آغاز اور سیکولر لبادہ
جگدمبیکا پال کا تعلق اترپردیش کے ضلع سدھارتھ نگر سے ہے۔ انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کانگریس جیسی نام نہاد سیکولر پارٹی سے کیا اور ایک لمبے عرصے تک اسی بینر تلے عوامی نمائندگی کا کردار ادا کیا۔ ان کے حلقۂ انتخاب ڈومریا گنج میں مسلمانوں کی قابلِ ذکر آبادی ہے، جنہوں نے کئی بار انہیں کامیاب بنایا۔ پال صاحب نے مسلم ووٹرز کے جذبات سے کھیلتے ہوئے ہم آہنگی، ترقی اور سیکولرازم کے دعوے کیے، اور خود کو "سب کا نمائندہ" ظاہر کیا۔
2014: وفاداری کی تبدیلی یا منافقت کی تکمیل؟
2014 میں جب بھارتیہ جنتا پارٹی مرکز میں برسرِ اقتدار آئی، تو جگدمبیکا پال نے بھی سیاسی ہوا کا رخ پہچانتے ہوئے بی جے پی میں شمولیت اختیار کر لی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ان کی سیاسی سچائی واضح ہونے لگی۔ اب وہ اس پارٹی کے ترجمان اور نمائندہ بن چکے تھے، جو ہندوتوا نظریات کی علمبردار ہے، اور جو کھلے عام اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے دینی، تعلیمی اور ثقافتی تشخص پر حملے کر رہی ہے۔
وقف ترمیمی بل 25: ایک سازش کا انکشاف
مسلمانوں کی اجتماعی اور شرعی املاک یعنی وقف کے نظام پر حملہ اس سازش کا تازہ ترین باب ہے۔ جگدمبیکا پال کو پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے سوشیل جسٹس کا چیئرمین بنایا گیا، اور ان کی زیرِ نگرانی "وقف (ترمیمی) بل 25" پر رپورٹ تیار کی گئی۔ اس رپورٹ میں:
غیر مسلم افراد کو وقف بورڈ میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی
وقف املاک پر سرکاری کنٹرول کو مزید وسعت دی گئی
شریعت کے مطابق وقف کی خود مختاری پر کاری ضرب لگائی گئی
یہ رپورٹ 21 مارچ 2025 کو لوک سبھا میں پیش کی گئی، حالانکہ دو مسلم ممبران پارلیمنٹ نے اس پر اختلافی نوٹ دیا تھا
یہ پہلا موقع نہیں تھا جب جگدمبیکا پال نے مسلم قوم کے حقوق پر وار کیا۔ بلکہ بی جے پی میں شمولیت کے بعد وہ متواتر ایسے اقدامات میں شریک رہے جن میں مسلم مسائل کے لیے کوئی ہمدردی نظر نہیں آئی۔
قوم کے لیے پیغام: سیاستدانوں کو ان کے ماضی سے پہچانو
یہ وقت ہے کہ مسلم امہ ہوشیار ہو جائے۔ ہمیں چمکتے ہوئے نعرے، وقتی وعدے، یا ظاہری مسکراہٹوں پر نہیں، بلکہ کردار، ماضی، اور نظریاتی وابستگی پر اعتبار کرنا چاہیے۔ جگدمبیکا پال جیسے چہرے وہی ہیں جو سیکولرازم کے پردے میں چھپ کر قوم کا اعتماد حاصل کرتے ہیں، اور پھر اُسی قوم کے دینی و دستوری حقوق پر شب خون مارتے ہیں۔
اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ایسے چہروں کو پہچانیں، ان کے ماضی کو یاد رکھیں، اور آئندہ کسی بھی موقع پر نہ صرف جگدمبیکا پال، بلکہ اس کی سیاسی نسل اور نظریاتی وارثین کو نمائندگی کا کوئی موقع نہ دیں۔
> جگدمبیکا پال ایک سیاسی موقع پرست اور منافق چہرہ ہے، جس نے سیکولر ہونے کا نقاب پہن کر مسلمانوں کو دھوکہ دیا، اور آج وقف جیسے دینی ادارے پر حملہ آور ہو کر اپنے اندرونی تعصب اور نظریاتی بغض کو ظاہر کر دیا ہے۔ اس سے سبق لیتے ہوئے پوری ملت کو شعور، بیداری، اور سیاسی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔